Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

آئندہ مالی سال 2019-20ءکا8238.1ارب روپےحجم کاوفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش

چینی،گھی،مشروبات،تیل،سگریٹ،خٹک دودھ ،پنیر،کریم،سیمنٹ،سی این جی ،مہنگا،دفاعی بجٹ 1150ارب روپے برقرار رہےگا.،سنگ مرمر کی صنعت پر17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسسڈ اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز پنشن میں 10 فیصد ،ایک سے سولہ گریڈ کےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اور سولہ سے بیس گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5فیصد اضافہ ہوگا ،21سے 22گریڈ کے ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں گی ،مزدور کی کم از کم تنخواہ 17500روپے مقرر کر دی گئی ،تنخواہ دار طبقے کیلئے بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدن پر چھوٹ ختم کر کے اس کی حد چھ لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی ،اس طرح پچاس ہزار روپے سےزائد ماہانہ تنخواہ وصول کر نے والو ں کو ٹیکس دیناہوگا

اسلام آباد۔قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائےریونیو حماد اظہرنےآئندہ مالی سال 2019-20ء کا 8238.1ارب روپےحجم کاوفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیاجو 2018-19کے بجٹ کےمقابلےمیں38.9فیصد زیادہ ہے،آئندہ مالی سال2019-20کےبجٹ میں چینی ،گھی، مشروبات ،تیل،سگریٹ،خٹک دودھ ،پنیر،کریم،سیمنٹ،سی این جی ،مہنگا کرنے،سنگ مرمرکی صنعت پر17 فیصد سیلزٹیکس لگانے،سیمی پراسسڈ اورپکے ہوئےچکن،مٹن،بیف اورمچھلی پر17فیصد سیلز ٹیکس لگانےکی تجویز جبکہ پنشن میں10فیصد،ایک سےسولہ گریڈ کےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اورسولہ سےبیس گریڈ کےملازمین کی تنخواہوں میں5فیصد اضافہ ہوگا،21سے22گریڈ کےملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں گی،مزدورکی کم ازکم تنخواہ 17500روپےمقررکردی گئی،تنخواہ دارطبقےکیلئےبارہ لاکھ روپےسالانہ آمدن پرچھوٹ ختم کرکےاس کی حد چھ لاکھ روپےسالانہ کردی گئی،اس طرح پچاس ہزار روپے سےزائد ماہانہ تنخواہ وصول کرنےوالوں کو ٹیکس دیناہوگا ،ترقیاتی بجٹ کیلئے1800ارب سےروپے،دیامربھاشا ڈیم کیلئے20ارب روپے،داسو ہائیڈرومنصوبےاورمہمند ڈیم کےلیے15، 15ارب روپے،اعلیٰ تعلیم کےلیےریکارڈ43 ارب روپے،زرعی شعبے کےلیے12 ارب روپے،کراچی کے9 ترقیاتی منصوبوں کےلیے45.5 ارب روپے مختص کئےگئےہیں،دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا۔

منگل کو وزیر مملکت برائےریونیو حماد اظہرنےمالی سال 20ـ2019کا بجٹ پیش کردیاہےجو 2018-19کے بجٹ کے مقابلے میں 38.9فیصد زیادہ ہے،وسائل کی دستیابی کاتخمینہ7899.1ارب روپےہے،آئندہ مالی سال کیلئےقطعی مالیاتی وصولیات کاتخمینہ 3462.1ارب روپے ہےجو 2018-19کےبجٹ کے مقابلےمیں 12.8فیصد کا اضافہ ظاہر کرتاہے،آئندہ بجٹ میں وفاقی ٹیکس میں صوبائی حصےکاتخمینہ 3254.5ارب روپے جو 2018-19کے مقابلےمیں 25.7فیصد زیادہ ہے ،آئندہ بجٹ میں بیرونی وصولیوں کا تخمینہ 3032.3لگایا ہےجو 2018-19کے مقابلے میں 171.2فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، کل اخراجات کا تخمینہ 8238.1لگایا گیاہےجس میں سےجاریہ اخراجات کیلئے 7288.1روپے مختص ہونگے ۔

حماد اظہرنےکہاکہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئےسفرکاآغازہواہے،تحریک انصاف نئی سوچ،نیا عزم اورایک نیا پاکستان لائی ہے،پاکستان کےلوگوں کی مرضی ہمیں یہاں لائی ہے،اب وقت ہےلوگوں کی زندگی بدلنےکا،اداروں میں میرٹ لانےکااورکرپشن ختم کرنےکا۔

انہوں نےکہاکہ ہم سب اس ملک اورآئین کےمحافظ ہیں،اس حکومت کےمنتخب ہوتےوقت پائی جانےوالی معاشی صورتحال کویاد کریں اور کچھ حقائق بتانےکی اجازت دیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھی اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھی اور بہت سے تجارتی قرضے زیادہ سود پر لیے گئے، گزشتہ 5 سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں تھا، جبکہ حکومت کا مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔

وزیر مملکت نےبتایاکہ جب تحریک انصاف کوحکومت ملی تو بجلی کےنظام کاگردشی قرضہ1200ارب روپےتک پہنچ گیاتھا اور38ارب ماہانہ کی شرح سےبڑھ رہاتھا،سرکاری اداروں کی کارکردگی1300ارب روپےکےمجموعی خسارےسےظاہرتھی،پاکستانی روپےکی قدربلند رکھنے کےلیےاربوں ڈالرجھونک دیئےگئے،اس مہنگی حکمت عملی سےبرآمدات کو نقصان پہنچا،درآمدات کو سبسڈی ملی اورمعیشت کو نقصان ہوا، ایسازیادہ دیرنہیں چل سکتاتھا اس لیےدسمبر2017 میں روپیہ گرنےلگا اورترقی کازورٹوٹ گیا،چیزوں کی قیمتوں پردباؤ بڑھ رہاتھا اورافراط زر6 فیصد کو چھو رہی تھی۔بجٹ کےاہم نکات کےمطابق ترقیاتی بجٹ کیلئے1800ارب روپے مختص،جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

وفاقی حکومت نےدیامربھاشا ڈیم کےلیے20 ارب روپےمختص،داسو ہائیڈرو منصوبےاورمہمند ڈیم کےلیے15،15 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیےریکارڈ43ارب روپےمختص،زرعی شعبے کےلیے12 ارب روپے،کراچی کے9 ترقیاتی منصوبوں کےلیے45.5 ارب روپے،عسکری بجٹ 1150 ارب روپےبرقرار رہےگا پینشن میں10 فیصد اضافہ کیا گیا،وفاقی کابینہ کے ارکان کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی،مزدور کی کم از کم تنخواہ 17 ہزار 500 روپے، خشک دودھ، پنیر،کریم پر10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی گئی ۔ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں میں 3255 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے، جو پچھلے سال کی نسبت 32 فیصد زیادہ ہیں،نیٹ وفاقی ذخائر 3462 ارب تک پہنچ جائیں گے جو کہ پچھلے سال کی نسبت 13 فیصد زیادہ ہیں۔

انہوں نےکہاکہ حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ مناسب اقدامات سےصورتحال کوقابومیں لاتی،ہم نےفوری خطرات سےنمٹنےاور معاشی استحکام کےلیےچند اقدامات کیے،درآمدی ڈیوٹی میں اضافےسےیہ درآمدات 49ارب ڈالرسےکم ہوکر45ارب ڈالرتک آگئی اورتجارتی خسارہ 4 ارب ڈالرکم ہوا،وزیراعظم کے اعتماد دلانےسےترسیلات زر میں2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، 38 ارب روپےماہانہ کے حساب سے بڑھنے والے بجلی کے گردشی قرضے میں میں 12 ارب روپے کی ماہانہ کمی آئی اور اسے 26 ارب روپے پر لایا گیا جبکہ چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے9.2 ارب ڈالر کی امداد ملی،اس امداد پران ممالک کا شکرگزار وں۔

انہوں نےکہاکہ صنعتی اوربرآمدی شعبوں کورعایتی نرخوں پربجلی اورگیس کی فراہمی،کم سود پرقرضوں کی فراہمی،خام مال پرعائد درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے ذریعے مجموعی طور پر 10 ارب روپے کی رعایت، برآمدی شعبے میں وزیر اعظم کے پروگرام میں 3 سال کی توسیع، چین سے 313 اشیا کا ڈیوٹی فری معاہدے جیسے اقدامات سے موجودہ سال میں برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوا۔حماد اظہر نے بتایا کہ نِٹ ویئر میں 16 فیصد، بیڈ ویئر میں 10 فیصد، ریڈی میڈ گارمنٹس میں 29 فیصد، پھلوں اور سبزیوں میں 11اور 18 فیصد اور باسمتی چاول کی مقدار میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا، اس پروگرام میں ہونے کی وجہ سے کم سود پر 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی امداد بھی میسر ہوگی، مالیاتی نظم و ضبط اور بنیادی اصلاحات کے لیے حکومت کی سنجیدگی نظر آئے گی جس سے عالمی سرمایہ کاروں کاا اعتماد حاصل ہوگا اور معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر 3.2 ارب ڈالرکا سالانہ تیل درآمد کرنےکی سہولت حاصل کی تاکہ عالمی کرنسی کےذخائرپردباؤ کم ہو،اس کےعلاوہ حکومت نےاسلامی ترقیاتی بینک سےایک ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کےبغیرتیل درآمد کرنےکی سہولت حاصل کی، ان اقدامات کی بدولت اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔

حماد اظہر نے بتایا کہ بیرونی استحکام کے علاوہ حکومت نے دیگر اقدامات بھی کیے، اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم پر عملدرآمد جاری ہے جس سے ٹیکس کا دائرہ وسیع ہوگا اور بے نامی اور غیر رجسٹرڈ اثاثے معیشت میں شامل ہوں گے، 95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے، احتساب کے نظام، اداروں کے استحکام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے، اسٹیٹ بینک کو مزید خودمختاری دی گئی، افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے، ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے تاکہ دونوں کام بہتر طریقے سے ہو سکے، ایک ٹریڑری بینک اکاؤنٹ بنایا گیا ہے اور اب حکومت کی رقم کمرشل بینک اکاؤنٹ میں رکھنا منع ہے،پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کا اجرا کیاگیا تاکہ سمندرپارپاکستانی6.75 فیصد منافع سےفائدہ اٹھاکر وطن میں سرمایہ کرسکیں۔انہوں نےبتایاکہ وفاقی ریونیو بورڈ(ایف بی آر)نےسرمائےکی کمی دور کرنےکےلیےگزشتہ برس کے54ارب روپےکےمقابلےمیں 145 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے امداد اور فنڈز کے پروگرام شروع کیے گئے، بلین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پروگرام شروع کیے گئے، سابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔مالی سال 20ـ2019 کے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ بناتے وقت حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح اور خوشحالی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 20ـ2019 کے بجٹ کے لیے ہم نے بیرونی خسارے میں کمی کا ہدف رکھا ہے اور درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے بیرونی خسارے کو کم کیا جائے گا، جس کا مقصد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 ارب ڈالر سے کم کرکے 6.5 ارب ڈالر تک کیا جائے گا، برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت خام مال اور انٹرمیڈیٹ اشیا کے ڈیوٹی اسٹرکچر کے حوالے سے سپورٹ کرے گی، ٹیکس ریفنڈ کا نظام بہتر بنائے گی، مقابلے کی سستی بجلی اور گیس فراہم کرے گی، آزادانہ تجارتی معاہدوں کو دیکھا جائے گا اور پاکستان کو بین الاقوامی کڑی کا حصہ بنایا جائے گا، ایف بی آر کے ریونیو کے لیے 5 ہزار 550 ارب روپے کا چیلنجنگ ہدف رکھا گیا ہے۔

حکومتی اخراجات میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں اس پر خصوصی توجہ دی جائےگی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے،سول و عسکری حکام نےاپنےاخراجات میں مثالی کمی کا اعلان کیا ہے۔وزیرمملکت نےبتایاکہ بجٹ 20ـ2019 میں ہماری بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہوگا،پاکستان میں ٹیکس ٹوجی ڈی پی کی شرح11فیصد سےبھی کم ہےجوخطےمیں سب سےکم ہے،صرف 20 لاکھ لوگ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتےہیں،جن میں 6لاکھ ملازمین ہیں، صرف 380 کمپنیاں کْل ٹیکس کا 80 فیصد سے بھی زیادہ ادا کرتی ہیں جبکہ کْل3 لاکھ 39 ہزار بجلی و گیس کےکنیکشنز ہیں اوراس میں40 ہزارسیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں،اسی طرح کْل 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، بینکوں کے مجموعی طور پر 5 کروڑ اکاؤنٹ ہیں جس میں10 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ ‘ایس ای سی پی’ میں رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد ٹیکس ادا کرتی ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ کمزور طبقوں کے تحفظ کے حوالے سے 4 مختلف تجاویز کا ذکر کروں گا،بجلی کے صارفین میں75 فیصد ایسےہیں جو ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کر رہے ہیں حکومت انہیں خصوصی تحفظ فراہم کرے گی،اس مقصد کےلیے200 ارب روپےمختص کیےگئے ہیں۔

انہوں نےکہاکہ حکومت نےغربت کےخاتمے کےلیےایک علیحدہ وزارت قائم کی ہےجوملک میں سماجی تحفظ کےپروگرام بنائےگی اور ان پر عملدرآمد کرے گی، احساس پروگرام سےمدد حاصل کرنےوالوں میں انتہائی غریب،یتیم،بے گھر،بیوائیں،معذور اوربےروزگار افراد شامل ہیں۔انہوں نےکہاکہ 10 لاکھ مستحق افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنےکےلیےایک نئی ‘راشن کارڈ اسکیم’ شروع کی جارہی ہے،جس کے تحت ماؤں اور بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک دی جائےگی۔

انہوں نے کہاکہ 80 ہزارمستحق افراد کو ہرمہینےبلاسود قرضےدیئےجائیں گے،60 لاکھ خواتین کوان کےاپنےسیونگ اکاؤنٹس میں وظائف کی فراہمی اورموبائل فون تک رسائی دی جائےگی،500 کفالت مراکز کےذریعےخواتین اوربچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت دی جائے گی، معذور افراد کو وہیل چیئراورسننے کےلیےآلات فراہم کیےجائیں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے رہنے والے اضلاع میں والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے خصوصی ترغیب دی جائے گی، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے احساس گھر بنانے کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو فی سہ ماہی 5000 روپے نقد امداد دی جاتی ہے جس کے لیے 110 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سہ ماہی وظیفے کو بڑھا کر 5500 مقرر کیا گیا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ غریبوں کی نشاندہی کے لیے سماجی اور معاشی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے جو مئی 2020 تک مکمل ہوگا، اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑ آبادی کا سروے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 50 اضلاع میں ‘بی آئی ایس پی’ سے بچیاں 750 روپے وظیفہ حاصل کرتی ہیں، اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 تک کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ صحت سہولت پروگرام کے تحت غریب افراد کو صحت کی انشورنس فراہم کی جاتی ہے، مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں جن سے وہ ملک بھر سے منتخب 270 ہسپتالوں سے 7 لاکھ 20 ہزار روپےکاسالانہ علاج کروا سکتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں32لاکھ خاندانوں کو صحت انشورنس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، اگلے مرحلےمیں اسےڈیڑھ کروڑ پسماندہ خاندانوں تک توسیع دی جائےگی،اس پروگرام کا اطلاق تمام اضلاع بشمول تھرپارکر اور خیبر پختونخوا کے خاندانوں پر ہوگا۔

حماد اظہرنےکہا کہ زراعت صوبائی محکمہ ہےتاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کےلیےوفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس میں ترقی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی ترقی کےلیے10.4 ارب روپے سے کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے، یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور نکاسی کے منصوبوں سے الگ ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

روزگار کے لیے وزیر اعظم کے ’50 لاکھ گھر پروگرام’ سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا اور بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس کے لیے زمینیں حاصل کرلی گئی ہیں اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، پہلے مرحلے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے 25 ہزار اور بلوچستان میں 1 لاکھ 10 ہزار ہاؤسنگ یونٹ کا افتتاح کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ نئے کاروبار کے لیے سستے قرضے کی اسکیم کے تحت 100 ارب روپے دیئے جائیں گے۔صنعتی شعبے کے لیے مراعات اور سبسڈی دی جارہی ہیں جس میں بجلی اور گیس کے لیے 40 ارب کی سبسڈی، برآمدی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا پیکج اور حکومت طویل المدتی ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ رواں سال زرعی شعبےمیں 4.4فیصد کمی ہوئی ہے،اسےواپس اوپراٹھانےکےلیےصوبائی حکومتوں سےمل کر 280 روپےکا5 سالہ پروگرام شروع کیاجارہا ہے،اس پروگرام کےتحت پانی سے زیادہ سےزیادہ پیداوارکےلیےپانی کاانفراسٹرکچربنایاجائےگا اور اس کےتحت 218 ارب روپےکےمنصوبوں پر کام ہوگا،گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کی ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کے منصوبوں کے لیے 9.3 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، گھریلو مویشی کے پالنے کے لیے 5.6 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ زرعی ٹیوب ویلوں پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ فراہم کیے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے کسانوں سے 10 ہزار روپے ماہانہ بل وصول کیا جاتا ہے اور 75 ہزار تک کا اضافی بل صوبائی اور وفاقی حکومتیں برداشت کرتی ہیں، چھوٹے کسانوں کے فصل خراب ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی کے لیے انشورنس اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے جس کے لیے 2.5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں اصلاح کے لیے ایک پروگرام پیش کیا جارہا ہے جس کے تحت رواں سال ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں اور چند چھوٹے بجلی گھروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے 2 ارب روپے حاصل ہوں گے، موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب روپے تک جمع ہونے کی توقع ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کا گردشی قرضہ 1.6کھرب روپے، گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے، گردشی قرضوں کے لیے بجلی اور گیس کے ٹیرف پر نظرثانی کی گئی، بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف مہم کا آغاز کرکے 80 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے گردشی قرضوں میں اضافہ 38 ارب روپے ماہانہ سے سے کم ہوکر 24 ارب رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ انضمام شدہ قبائلی علاقوں کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 152 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے جس میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کے لیے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی، یہ 10 سالہ پیکج 1 کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ پاک۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ہماری مستقل ترجیح ہے جس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کیے گئے ہیں جن میں اقتصادی ترقی، زراعت اور خصوصی معاشی زونز بنانے کے ذریعے صنعتی ترقی کا حصول شامل ہے جبکہ ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے رقم مختص کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معاشی نقصان ہوتا ہے، تجارت پر منحصر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا نظام تجویز کیا جارہا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی بنانے کی وسیع ترخودمختاری دی جارہی ہے، جبکہ حکومت کو رقوم کمرشل بینکوں میں رکھنےکی ممانعت کردی گئی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ وفاقی حکومت کےملازمین اور پینشنرز کےلیےسول گریڈ 1 سے16 تک کے ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس، 17 سے 20 تک کی تنخواہوں میں 5 فیصد اور 21 اور 22 کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پینشرز کی کْل پینشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معذور ملازمین کا اسپیشل کنوینس الاؤنس 1 ہزار سے بڑھا کر2 ہزارکیاجارہاہےجبکہ وزرا، وزرائے مملکت، پارلیمانی سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری کےساتھ کام کرنےوالےاسپیشل پرائیوٹ سیکریٹری،پرائیوٹ سیکریٹری اوراسسٹنٹ پرائیوٹ سیکریٹری کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

کابینہ کے تمام وزرا نے عمران خان کی قیادت میں اپنی تنخواہ میں 10 فیصد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ کم از کم تنخواہ بڑھاکر 17 ہزار 500 روپے ماہانہ کی جارہی ہے۔بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرمملکت نے کہا کہ اس وقت کاروباری درآمدات پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کے بوجھ میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تجویز ہے کہ موبائل فونز کی درآمدات پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کردیاجائےتاکہ اس سے موبائل فونز کی درآمدات پر عائد ٹیکس میں کمی آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ تخمینہ 17022 ارب روپے ہے جوکہ جاری مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ 5385 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2019-20ء کے لئے وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6ہزار 717 ارب روپے ہے جوکہ رواں مالی سال 5661 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔

ایف بی آرکےذریعے5555 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ وفاقی سطح پر جمع کئے گئے ریونیو میں سے 3255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دیئے جائیں گے جوکہ موجودہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لئے نیٹ فیڈرل ریونیو کی مد میں 3462 ارب روپے کا تخمینہ ہے جوکہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد زائد ہے۔ وفاقی بجٹ خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا مجموعی مالیاتی خسارہ 3137 ارب روپے یا جی ڈی پی کا 7.1 فیصد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 22 کروڑ آبادی میں صرف 19 لاکھ افراد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں اور ان میں بھی ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد 13 لاکھ ہے جوکہ تشویشناک ہے۔

اسی تناظر میں حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایسا ایجنڈہ ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے سخت فیصلے کئے جائیں گے۔ 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی خام مال کے ضمن میں بجٹ میں مستثنیٰ کی جارہی ہے۔ حکومت کسٹم ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیاء پر ڈیوٹی کم کی جاسکتی ہے۔

مقامی جنگلات کو بچانے اور فرنیچر کے پیدا کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے لکڑی پر ڈیوٹی تین فیصد سے کم کرکے زیرو فیصد اور لکڑی کی مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے تین فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لئے مختلف سکیموں کو سادہ اور خودکار بنایا جارہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں سمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کراچی’ پشاور اور کوئٹہ میں علیحدہ سے کلیکٹوریٹس قائم کئے گئے ہیں۔ ایل این جی کی درآمد پر موجودہ کسٹم ڈیوٹی سات فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کئے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹوں کے بھٹوں سے 17 فیصد ٹیکس کی جگہ استعداد اور جگہ کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ریستوران اور بیکریوں کی طرف سے سپلائی کی جانے والی غذائی اشیاء پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد تک لائی جائے گی۔ خشک دودھ پر دس فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

پی ایم سی اور پی وی سی کی افغانستان برآمد پر پابندی کےخاتمے کی تجویز ہے۔

انہوں نےبتایا کہ سابق قبائلی علاقوں میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور31 مئی 2018ء سے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے لئے چھوٹ دینے کی تجویز ہے جبکہ یہ اطلاق سٹیل ملز اور گھی ملز پر نہیں ہوگا۔ موبائل فون کی درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے حد ضروری ایس آر اوز کے علاوہ تمام ایس آر اوز اور ایس ٹی جی اوز کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ سٹیل کے شعبے کے لئے عمومی قانون کی بحالی کے تحت ان اشیاء پر ایف ای ڈی لگانے سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔

سی این جی ڈیلرز کےلئےویلیو ریجن ون کےلئے64 روپے80 پیسے فی کلو سےبڑھاکر74روپے 4پیسے فی کلو گرام اور ریجن ٹو کے لئے 57 روپے 69 پیسے فی کلو سے بڑھا کر 69 روپے 57 پیسے فی کلو گرام کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ چینی پر ٹیکس کی شرح 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ چکن’ مٹن’ بیف اور مچھلی کے گوشت سے تیار ہونے والی فروزن اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کئے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گھی ‘ کوکنگ آئل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے۔ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر 2 روپے کرنے کی تجویز ہے۔

ایل این جی کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے۔ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 1700 سی سی اور اس سے زائد انجن کی حامل گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی متعارف کی گئی تھی تاہم اب یہاں سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ ہزار سی سی تک 2.5 فیصد’ 1000 سے 2000 سی سی تک پانچ فیصد اور 2000 سے زائد پر 7.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔

بالائی سلیب پر چار ہزار پانچ سو روپےفی ہزارسٹکس سےبڑھاکر 5200 روپے زیریں سلیب کے لئے موجودہ دو سلیبز کو ضم کرکے 1650 روپے فی ہزار سٹکس کے لحاظ سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ٹیکس گزاروں کی فعال فہرست میں مقررہ تاریخ کے بعد جمع کرائےگئے گوشوارےکےحامل افراد نان فائلرہی شمارہوتے تھےجبکہ اس پر زیادہ ٹیکس کی شرح لاگو ہوتی تھی۔اس شق کو ختم کیا گیا ہے۔ نان فائلر کے نام پر پچاس لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کی خریداری پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافےکی تجویز ہے۔قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم شرح تنخواہ دار طبقے کے لئے چھ لاکھ اور غیر تنخواہ دار طبقے کےلئےچارلاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ چھ لاکھ سےزائد آمدن والے تنخواہ دار افراد کےلئے11 قابل ٹیکس سلیب پانچ فیصد سے 35 فیصد تک کے پروگریسو ٹیکس ریٹس کے ساتھ متعارف کرائے جانےکی تجویز ہے۔ 4 لاکھ روپے سےزائد آمدن والے غیر تنخواہ دارطبقے کےلئےآمدن کی آٹھ سلیبز پانچ فیصد سے35فیصد ٹیکس ریٹ کےساتھ متعارف کرائے جانے کی تجویز ہے۔ کمپنیوں کے لئے ٹیکس ریٹ اگلے دو سال کے لئے 29 فیصد پر فکس کئےجانےکی تجویز ہے۔

انہوں نےبتایا کہ گفٹ کی وصولی آمدن تصور ہوگی۔ حصص پرمنافع کی شرح پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھانے کی تجویز ہے۔ قرض پر منافع کی آمدن پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔انہوں نےبتایاکہ قانونی کارروائی کے لئے سپیشل جج کی عدالت میں گوشوارے جمع نہ کرانےپرقانونی کارروائی کےلئےمقدمہ کئےجانےاورمذکورہ شخص کی گرفتاری ممکن بنانےکی تجویز زیرغور ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.