Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

ابھی تو کرپشن پر جھاڑو پھیرنے کیلئےباندھاجارہاہے یہاں تو بھل صفائی ہو گی.شیخ رشید

30مارچ تک بہت سےبڑے فیصلےہوچکےہوں گے،چاہے پٹڑی کی اس طرف ہو یاپٹڑی کےاْس طرف کرپشن کرنیوالا کوئی نہیں بچےگا ان لوگوں نےآدھی زندگی کرپشن سےاکٹھی کی گئی دولت کو ٹھکانےلگانےاورآدھی اسےبچانےمیں گزاردی،دونوں والدین بڑے کاریگر ہیں مجھےتو ایسا لگتا ہےدونوں خاندانوں کےبچوں کو پتہ ہی نہیں انکےدستخطوں اور انکےاکائونٹس کےنام پرکیاکیا ہورہاہے،عمران خان سادہ آدمی ہے.یہ معاشی غدار ہیں،اگرشہبازشریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنادیاہےتو پھروفاقی وزیرکاحلف بھی دیدیں'وزیر ریلوے کی پریس کانفرنس

لاہور۔وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد نےکہا ہےکہ ابھی تو کرپشن پر جھاڑو پھیرنےکیلئےباندھا جارہاہے یہاں تو بھل صفائی ہوگی،30مارچ تک بہت سےبڑے فیصلےہو چکےہوں گے،چاہے پٹڑی کی اس طرف ہو یا پٹڑی کےاْس طرف کرپشن کرنےوالا کوئی بھی نہیں بچے گا،نواز شریف نےسپریم کورٹ میں جوکچھ کہا احتساب عدالت میں اس کی نفی کی ،ان لوگوں نےآدھی زندگی کرپشن سےاکٹھی کی گئی دولت کو ٹھکانے لگانے اورآدھی اسے بچانے میں گزار دی ، دونوں والدین بڑے کاریگر ہیں اورمجھے تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں خاندانوں کے بچوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے دستخطوں اور انکے اکائونٹس کے نام پر کیا کیا ہورہاہے،عمران خان سادہ آدمی ہےوہ شریف برادران کی چالاکیوں کو نہیں سمجھتا،اگر شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا ہے تو پھر وفاقی وزیر کا حلف بھی دیدیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹرمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئےکیا۔ شیخ رشید احمد نےکہا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر غلط فیصلے کراتا ہے اور دوسروں کو موقع ملتا ہے۔نوا زشریف کے خلاف کیس میں عمران خان اورحکومت کا کوئی ہاتھ نہیں۔

نواز شریف ہمیشہ غلط ٹائم پرغلط فیصلہ کرتےہیں،لڑائی کےوقت پراین آر او مانگ رہےہوتےہیں۔پہلے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا لیکن لاہور پہنچےتو ٹیں ٹیں فش ہو گئے،ضمانتیں ہوئی تو غائب ہوگئےاورمیڈیا والوں کوان کی فائل تصاویر لگانا پڑ گئیں۔

انہوں نےکہاکہ کسی کا نام لئےبغیرکہاکہ اب ٹوئٹس میں ہربات نظرآئےگی،جو ٹوئٹس بھول گئےتھےجوکہتےکہ نیٹ پرابلم ہے،ٹوئٹس میں کیڑے پڑگئےتھےاب وہاں بہاراوربرسات آ گئی ہےاوراب آپ کولا تعداد ٹوئٹس نظرآئیں گی۔انہوں نےکہاکہ یہ میرا کیس تھااورجب بھی کوئی تاریخ لکھےگااس میں میراذکر آئےگا۔

شیخ اکرم نےعدالت کےسامنےایک دستاویز لہرا کر کہا کہ تمام مسائل کا حل آ گیا ہے،معزز عدالت کےجج نےاس دستاویزکو دیکھ کر کہا کہ کیا آپ نےاپنےموکل سے اس پرمشورہ کیا ہے جس پر شیخ اکرم نے کہا کہ میں تاریخی دستاویز پیش کررہاہوں،پھرکہا اسےعام نہ کیاجائے جس پر عدالت نےکہا کہ آپ اسے کیس میں لگا رہے ہیں اور کہتے ہو عام نہ کریں ۔

نوازشریف کاکیس انتہائی بھونڈے طریقےسےلڑا گیا،میں خواجہ حارث صاحب کےوالد کوجانتاہوں جنہوں نےہمارے شہرکاتاریخی کیس لڑا،لیکن جس غیر ذمہ دارانہ طریقےسےکیس لڑا گیا مجھے مایوسی ہوئی۔کچھ نہیں تو یہ آصف زرداری سےہی سبق لےلیتےوہ کس طرح توسیع کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں توقع رکھتا ہوں کہ بحران کے وقت میں قومی ذمہ داری کا ثبوت دیا جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی کہتےہیں کہ ہم عدلیہ پریقین رکھتےہیں لیکن فیصلےکونہیں مانتے،کیس میں سیاست سیاست نہیں کھیلناچاہیےاگر کیس کو کیس سمجھ کر لڑا جاتا تو فائدہ ہوتاہے۔انہوں نےکہاکہ نوازشریف کی جانب سےکوئی ثبوت پیش نہیں کیاگیا ، سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے لیکن وہاں جو پیش کیا گیا اور جو موقف اپنایا گیا اس کی احتساب عدالت میں نفی کی گئی پھر تو یہ ہونا ہی تھا۔

انہوں نےکہا کہ میں عمران خان کا اتحادی ہوں لیکن میں شہبازشریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کاچیئرمین بنانےکاحامی نہیں۔عمران خان سادہ آدمی ہے وہ شریف برادران کی چالاکیوں سے واقف نہیں۔یہ تاش کےپتوں کوچھاتی سےلگاکرکھیلتےہیں جب ضرورت ہوتی ہےتوایک ہو جاتے ہیں او رجب ضرورت پڑتی ہے تو دو ہو جاتےہیں۔

میں نے چند روز پہلےکہا تھاکہ شہباز شریف گوٹی فٹ کررہےہیں لیکن یہ پوری طرح فٹ نہیں ہو رہی،شہبازشریف مذاکرات کرنےکا فنکار ہےاورنوازشریف کوسعودی عرب سےشہبازشریف ہی لائےتھے۔انہوں نےکہاکہ نوازشریف بعض اوقات بلا کربیان دیتےہیں پھریہ ڈان لیکس بن جاتا ہےاورکئی دفعہ شکل چھپاتےپھرتےہیں کہ گفت و شنید کےمعاملات چل رہےہیں،جب ریجیم بدلتی ہےتو سیاست بدل جاتی ہے۔

یہاں ون مین پولیٹیکس ہوتی ہےاورباقی جمعہ جنج ہوتی ہے،جو آوے ہی آوے اورجاوے ہی جاوے پر یقین رکھتےہیں ان کا سیاست میں کوئی مقام نہیں ہوتا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ چیف جسٹس نےعدالت میں پروجیکٹرپرجےآئی ٹی کی رپورت چلائی ہے،فریال صاحبہ نےکوئی علاقہ ہی نہیں چھوڑااور ساری بے نامی کی زمینیں ہیں،ان کی ہوس ہی ختم نہیں ہوتی۔

یہاں گردن اترناکوئی بڑاحادثہ نہیں لیکن یہ معاشی قاتل ہیں،یہ معاشی غدارہیں اورآج انہوں نےملک کو اس نہج پرپہنچا دیا ہےکہ عمران خان چین،سعودی عرب اوریو اےای جارہاہےکہ اس ملک کی معیشت کوسہارادیاجاسکےہماری امپورٹ بل کی ادائیگی کیلئےفارن ایکسچینج آسکے۔

انہوں نےکہا کہ جس کالونی میں وزیررہتے ہیں جنہوں نےایمانداری اوردیاتنداری کا حلف اٹھایاہوتاہےوہیں اب چور اور ڈاکورہتےہیں، شہباز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوگا تو جھنڈا لگا کر،پی اے سی کے چیئرمین کو ساری سہولتیں اوراتھارٹی حاصل ہوتی ہےاوراس کو وفاقی وزیر کے برابر درجہ حاصل ہوتا ہےمیں تو کہوں گاکہ شہباز شریف کو وفاقی وزیرکاحلف بھی دیدیں۔

جن لوگوں نےجمہوریت کی آس لگائی ہےاورجو مسائل کا حل چاہتےہیں انہیں اس فیصلےسےمایوسی ہو رہی ہے۔انہوں نےکہاکہ کرپشن، لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے عمران خان کی حکومت مہنگائی ، بیروزگاری اور مہنگے یوٹیلٹی بلز کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل تیز ترہوگا اورحالات بدل رہے ہیں،متعصب ہندو مودی سرحدوں پر سرجیکل سٹرائیک کی طرف نہ جائے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چاہے پٹڑی کی اس طرف چاہے پٹڑی کے اس طرف کرپشن کرنے والا کوئی بھی نہیں بچے گا، میں ایک سیٹ کا لیڈر ہوں لیکن عمران خان کا بڑا پن ہے کہ وہ میرے بات کو سنتا ہے۔

انہوں نےنواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنےکےحوالے سےسوال کےجواب میں کہا کہ اچھا ہےدونوں بھائی ایک ساتھ رہیں گے۔ انہوں نےکہاکہ 2019بڑا اہم اور تاریخی سال ہےاور30مارچ تک بہت سارے بڑے فیصلے ہو چکے ہوں گے،کرپشن پرجھاڑو پھیرنےکے لئےابھی تو جھاڑو باندھا جارہا ہےابھی تو بھل صفائی ہو گی،ابھی چوروں کی باری ہے ہماری باری نہیں آرہی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی چھوٹا ٹریلرچلےگا،پکا راگ نہیں لگےگا،یہ کوئی قسطنطنیہ فتح کرنےکےجرم میں نہیں جارہے،دو ڈھائی سال سے رو رہے ہیں،اب تو عوام کو زبانی یاد ہو گیاہے کہ یہ چوری کا کیس ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری تو کہتے کہ جیل میر اسسرال ہے اور میں جیل میں ہی پلا بڑا ہوا ہوں پھر اس کو جیل کیا کہتی ہے ۔

انہوں نےکہا کہ میں پبلک کاائونٹس کمیٹی کا ممبر نہیں ہو لیکن اگر شہبازشریف چیئرمین ہو گیاہےتو میں عمران خان سےکہوں گا کہ مجھے ممبر بنا دو۔ انہوںنے کہا کہ مجھے تو لگتا ہےکہ آصف زرداری نےبلاول کے ساتھ بھی ہاتھ کیا اوراسےپتہ ہی نہیں،بعض اوقات یہ لگتا ہے کہ ان بچوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ان کےدستخطوں اوراکائونٹس کےنام پرکیاکیا ہورہاہے۔

میں دونوں خاندانوں کی بات کررہاہوں ان کےوالدین بڑے کاریگر ہیں،میں نےکہاتھاکہ پانامہ میں ڈیڈ پرمریم بی بی کےدستخط نہیں یہ جعلی ہیں اورجب میں نےانکےخاندان کےجعلی دستخط کرنےوالےشخص کی طرف پیچھےدیکھا تو وہ وہاں سے بھاگ گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.