Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

امریکہ نے افغانستان سے فوج کے انخلا کی منصوبہ بندی شروع کردی

فوجیوں کے انخلا کا عمل آئندہ چند ماہ میں شروع ہوگا ابتدائی طورپرتقریباً 7ہزار فوجیوں کو واپس امریکہ بلایا جائیگا

واشنگٹن۔امریکی فوج نے شام کے بعد افغانستان سے بھی فوجیوں کے انخلا کی منصوبہ بندی شروع کردی اوراس حوالے سے احکامات بھی موصول ہوچکے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ملٹری حکام نےبتایا کہ افغانستان سےامریکی فوجیوں کےانخلا کا عمل آئندہ چند ماہ میں شروع ہوگا اور ابتدائی طور پر تقریباً 7 ہزار فوجیوں کو واپس امریکہ بلایا جائے گا۔

افغانستان سےفوجی انخلا کا فیصلہ ایسےوقت میں کیاگیاہےکہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےگزشتہ روز ہی شام سےفوج کےمکمل انخلا کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان سے انخلا کا فوج کا فیصلہ ہی وزیر دفاع جیمز میٹس کےاستعفےکا سبب بنا اورانہوں نےامریکی صدر کو لکھےگئےاپنے خط میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرکےلکھا کہ آپ کو حق ہےکہ آپ اپنی سوچ سےہم آہنگ شخص کو وزیر دفاع بنائیں،لہذا بہتر یہی ہوگا کہ میں وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑ دوں۔

وزارت دفاع کےکئی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے فوج کا انخلا چاہتے ہیں اور وہ جنوری یا فروری کے آغاز میں اسٹیٹ آف دی یونین اسپیچ (سینیٹ سے صدارتی خطاب) کے دوران افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت تقریباً 14ہزارامریکی فوجی موجود ہیں،جس میں سےزیادہ تر نیٹو مشن کے تحت مقامی فوج کی تربیت کیلئےمامور ہیں، امریکہ نیٹو ممالک کا رکن ہے اوراسے فوج کے انخلا کے کسی بھی فیصلے سے متعلق نیٹو سپورٹ مشن کو سامنے رکھتےہوئےکرناہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج کے افغانستان کےقیام کےمخالف ہیں جس کا وہ کئی بار اظہار کرچکےہیں۔

یاد رہےکہ حال ہی میں پاکستان کے تعاون سےافغان امن عمل کےسلسلے میں ابوظہبی میں طالبان اورامریکہ کےدرمیان براہ راست مذاکرات ہوئے،جس میں سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات کے وفد نے بھی شرکت کی اس سےقبل ڈونلڈ ٹرمپ نےبذریعہ خط وزیراعظم عمران خان سے افغان امن عمل اور طالبان کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانے کی اپیل کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.