Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

امریکہ کو ایران فوبیا ہوگیا،پراکسی وار کیلئےمعاونت کررہا ہے،مہدی ہنر دوست

یمن میں انسانی بنیادوں پرسہولیات فراہم کی جائیں،ایران گزشتہ چالیس سالوں سےپابندیوں کی زد میں چلاآرہا ہے،حالیہ پابندیوں سے پاکستان اور ایران کے مابین تجارتی تعلقات متاثر ہونگے.ایران، پاکستان (آئی پی ) گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے.پاکستان اور ایران کے مابین تجارتی حجم 1.5ارب ڈالر ہے،، ایرانی سفیر کا انٹرویو

اسلام آباد۔ایران کےسفیرمہدی ہنر دوست نےکہاہے کہ امریکہ کو ایران فوبیا ہوگیاہےاوروہ ایران میں پراکسی وار کیلئے معاونت کررہا ہے ، گزشتہ دو دہائیو ں کے دوران سے مسلم ممالک مشکلات کا شکار ہیں۔

خلیج فارس کےمسلم ممالک کو باہمی اتحاد کو فروغ دینےکی پالیسی اپنانی چاہیے۔،یمن میں انسانی بنیادوں پرسہولیات فراہم کی جائیں،ایران گزشتہ چالیس سالوں سےپابندیوں کی زد میں چلاآرہا ہے،حالیہ پابندیوں سے پاکستان اور ایران کے مابین تجارتی تعلقات متاثر ہونگے۔

ایران یورپی ممالک کےساتھ خوشگوارتعلقات کاخواہاں ہے،ایران اورپاکستان ملکرخطےمیں امن وامان اورسیکیورٹی کیلئےاقدامات کرسکتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن اورطالبان اورکابل کےساتھ مذاکرات کیلئےایران نےمکمل تعاون کی یقین دہائی کروائی ہے۔

ایران،پاکستان(آئی پی )گیس پائپ لائن منصوبےکی تکمیل سےپاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔پاکستان اورایران کے مابین تجارتی حجم 1.5ارب ڈالر ہےجبکہ بھارت کےساتھ ایرانی تجارتی حجم 8ارب ڈالر ہے۔

پاکستان میں تعینات ایران کےسفیر مہدی ہنردوست نے انٹرویو کے دوران کہاکہ ایران اورپاکستان مسلمان ہمسایہ ممالک ہیں اورقدرت نے دونوں ممالک کےقدرتی وسائل سےمالامال کیاہے،ان وسائل کو استعمال کرتے ہوئےہم ملکر خطےمیں خوشحالی لاسکتے ہیں۔ایران اور پاکستان مختلف شعبوں میں تعاون کررہے ہیں،ددنوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کے ساتھ بردرانہ تعلقات بھی موجودہیں،البتہ بین الاقوامی دبائو اور امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تجارتی تعلقات متاثر ہورہے ہیں۔

انہوں نےبتایا کہ پاکستان اورایران کےمابین باہمی تجارتی حجم 1.5ارب سالانہ ہے،تاہم اگر بین الاقوامی صورتحال بہتر ہوتو باہمی تجارت میں اضافہ ہوسکتاہے۔

ایرانی سفیر نے بتایا کہ ایران،پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان میں توانائی کی کمی کوپوری ہوسکتی ہے۔اس منصوبے پر ایران نےگزشتہ پانچ سال سے اپناکام مکمل کرلیا ہے تاہم پاکستان کی جانب سےمثبت پیش رفت نہ ہونےکی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، ایران چاہتا ہے کہ آئی ،پی گیس پائپ لائن منصوبہ کو جلد مکمل کیا جائے ، دونوں ممالک کے مابین معاہدے کے تحت اس منصوبے کو دسمبر 2014ء تک مکمل ہوناچاہیے تھا،مہدی ہنردوست نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستا ن کی سرحد پر کام نہیں کیا گیا۔

ایک سوال کےجواب میں ایرانی سفیر نےکہاکہ امریکہ نے ایران میں پراکسی وارشروع کررکھی ہے،امریکہ کو ایران فوبیاہوچکا ہے اور ایران سمیت دیگرمسلم ممالک کے خلاف منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

ایران پر گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے ایران کے بین الاقوامی سطح پر تجارت اور تعلقات متاثرہوتے ہیں۔مشرق وسطی کےمسلم ممالک کو ملکر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران بہت بڑا ملک ہے جس کی سرحد پندرہ ممالک کے ساتھ ملتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران اپنی ضروریات پوری کررہاہے۔مہدی ہنردوست نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن وامان اور سیکیورٹی ایران اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ایران افغان امن کے معاملے میں پاکستان کی مکمل تعاون فراہم کررہا ہے۔

حالیہ حکومت کےقیام کےبعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے دومرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی ہم منصب سمیت دیگر اہم ملاقاتیں کیں۔افغانستان میں قیام امن کےحوالے سےایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران اورپاکستان بیرونی تعاون کےبغیرافغانستا ن کےمسئلےکو حل کرسکتے ہیں،ایران نےخطےمیں امن وامان کے قیام کیلئےپاکستان کےساتھ ہرممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

یمن مسئلے کےحوالےایک سوال کےجواب میں انہوں نےکہاکہ ایران چاہتاہےکہ مسلم ممالک کوملکر یمن تنازعہ کوحل کرناچاہیےاس سلسلے میں اسلامی ممالک کی تنظیم (او،آئی،سی)کے اجلاس میں ایران نےاس مسئلےکےحل کیلئے تجاویز پیش کی۔یمن میں معصوم بچے اور خواتین کو انسانی حقوق کی بنیاد پربین الاقوامی سطح پرامداد مہیا کی جانی چاہیے،وہاں پرعوام بھوک اورافلاس کی وجہ سےمررہےہیں اور بین الاقوامی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہیں۔

مہدی ہنردوست نےکہا کہ ایران انسانی بنیادوں پر یمنی عوام کو ضروریات زندگی کی اشیاء مہیاکرتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان،ایران کے ساتھ تعلقات میں زیادہ محتاط رویہ رکھے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی معاہدوںکو مدنظر رکھتے ہوئے ایران اور پاکستان کے مابین تعلقات مزید بہتر ہوسکتے ہیں،اور اسلسلے میں ایران پاکستان سے مثبت جواب کا منتظر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.