Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

انسانی اسمگلنگ عروج پر،خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے.اقوام متحدہ

بڑھتی ہوئی تعداد اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ اس وقت انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں مزید اضافہ ہورہا ہے،رپورٹ

نیویارک۔اقوامِ متحدہ کی جانب سےجاری کردہ رپورٹ میں بتایاگیا ہےکہ اس وقت انسانی اسمگلنگ عروج پرپہنچ چکی ہےجس میں اسمگلرز فنڈز جمع کرنےکےلیےخواتین اوربچوں کی بھی اسمگلنگ کر رہےہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے ڈرگز اینڈ کرائمز کی جانب سے ٹریفکلنگ ان پرسنزکےنام سے پورٹ شائع کی گئی ہےجس میں بتایاگیا ہےکہ گزشتہ 13 سالوں میں سب سےزیادہ 2016 میں انسانی اسمگلنگ کےواقعات پیش آئے۔

رپورٹ میں کہاگیاکہ متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اس جانب اشارہ کررہی ہےکہ اس وقت انسانی اسمگلنگ کےواقعات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔رپورٹ کےمطابق اس معاملےکی شدت کا اندازاہ لگانا مشکل ہےتاہم مقامی طور پرانسدادِ اسمگلنگ کےاداروں کی جانب سےاقدامات کرکے کمی لائی جاسکتی ہے۔کئی ممالک میں جہاں ان واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیاہےان میں سے کچھ ممالک کےاداروں کی جانب سے ردِ عمل واقعات کے بڑھنے سے متعلق ہے۔

تاہم اتفاق یہ ہےکہ ان مملک کی جانب سےانسدادِ اسمگلنگ کے حوالےسےقوانین متعارف کروانےکےبعد ہی ان میں اضافہ ہواہے۔یہ اقدامات ممالک کےدرمیان مختلف ہوسکتےہیں جو متعلقہ قانون سازی میں ترمیم،نیشنل ایکشن پلان برائےانسانی اسمگلنگ، مضبوط تحقیقاتی نظام اور متاثرین کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔

رپورٹ کےمطابق جن ممالک میں اسمگلنگ میں سزاؤں کا تناسب کم رہاہےوہاں اسمگلرزنےاپنی کارروائی جاری رکھیں کیونکہ انہیں انصاف کےکٹہرے میں پہنچنےکا ڈرنہیں تھا۔

رپورٹ میں بتایاگیاہےکہ اسمگلنگ کے لیے بچوں پر انحصار کیاجارہا ہےاورمجموعی طور پرمتاثرین میں30 فیصد تعداد بچوں کی ہی ہے جن میں لڑکوں کےمقابلےمیں زیادہ تعداد کم عمرلڑکیوں کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بچوں کی اسمگلنگ کا سب سے بڑا مقصد ان کا جنسی استحصال ہے جس کا تناسب 59 فیصد ہے۔قوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں متاثرہ افراد کی آدھی تعداد بالغ خواتین پر مشتمل تھی، تاہم اعداد و شمار کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران اسمگلنگ میں خواتین اور بچیوں کی مجموعی تعداد 70 فیصد تک رہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں پاکستان،بنگلہ دیش،مالدیپ اورنیپال سےمتعلق محدود معلومات فراہم کی گئی ہےتاہم ان ممالک کےمجموعی اعداد وشمار کےمطابق بھی متاثرین میں خواتین اوربچیوں کی تعداد 59 فیصد ہے۔

رپورٹ میں بتایاکہ گیاکہ پاکستان میں پارلیمنٹ نے2 نئےقوانین منظورکیےہیں جو انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اورغیر ملکی تارکین وطن کی اسمگلنگ روکنےاوران کی ضروریات کو پورا کرنےسےمتعلق ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.