Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

اپوزیشن کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز زیر غور ہے، فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ان کے حکومت مخالف ‘آزادی مارچ’ کہ تحت متعدد آپشنز زیر غور ہیں جن میں اپوزیشن کے قانون سازوں کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جانا بھی شامل ہے۔

غیر ملکی میڈیا اداروں کو بریفنگ دیتے ہوئے فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘جمعیت علمائے اسلام (ف) موجودہ حکومتی جماعت کے 126 دن دھرنے کی پیروی نہیں کرے گی اور نہ ہی ایک میدان میں کارکنوں کو تھکائیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم اسلام آباد پہنچتے ہیں تو حکمت عملی اور ہوگی اور اگر روکا جاتا ہے تو حکمت عملی اور ہوگی، یہاں تک کہ جیل بھرو تحریک کی جانب جایا جائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ان کی جماعت کسی ریاستی ادارے سے تصادم نہیں کرے گی تاہم نظریاتی اور کردار کی بنیاد پر آئین میں دی گئی حد کے تحت محاذ آرائی کریں گے’۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ‘ملکی اداروں کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور کسی ریاستی ادارے کو نامزد حکومت کی پشت پر نہیں آنا چاہیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم اداروں سے جنگ کرنا نہیں چاہتے، اسی لیے کہہ رہے ہیں کہ ادارے اس تاثر کو زائل کریں کہ حکومت کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے اور ان سے جو غلطی ہوئی ہے اس کی تلافی کریں’۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ‘حکومت ہر سطح پر ناکام ہوچکی ہے اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کو جمہوری ڈگر پر ڈالنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے’۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مہم کے سلسلے میں 27 اکتوبر کو دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘آزادی مارچ نہ دھرنا ہے نہ لاک ڈاؤں بلکہ یہ تحریک ہے جو کہ موجودہ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔’ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے 31 اکتوبر کو حکومت کے خلاف مارچ میں ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.