Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

اگر پکڑ دھکڑسیاسی انتقام کےلئےہورہی ہےتو وہ اچھی نہیں ہے۔اسد عمر

چینی پر ٹیکس بڑھانا نامناسب ہے،چینی پرٹیکس میں اضافہ واپس لینا چاہیے اور چینی کی قیمت بڑھانے پر تحقیقات کی جائیں.خوردنی تیل اورگھی کی قیمتوں پر ٹیکس بھی مناسب نہیں اورچھوٹی گاڑیوں پرایف ای ڈی بڑھادی گئی ہےاس پرنظرثانی کی ضرورت ہے،کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جائے، جی آئی ڈی سی ختم کرکے یوریا کی بوری پر 400 روپے ختم کرائیں۔قومی اسمبلی میں اظہارخیال

اسلام آباد: سابق وزیرخزانہ اسد عمر کاکہنا ہےکہ چینی پر ٹیکس بڑھانا نامناسب ہے،چینی پرٹیکس میں اضافہ واپس لینا چاہیے اور چینی کی قیمت بڑھانے پر تحقیقات کی جائیں۔

قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتےہوئےپی ٹی آئی کےرکن اسمبلی اسد عمرنےآصف زرداری کےبیان پرردعمل دیتےہوئےکہاکہ منہ نہ کھلوائو مجھےپتہ ہےکیا چوری کی ہے،اگرجرم ہوا،کسی نےقوم کی دولت لوٹی تو اس کےلئےسزاکا نظام بنانا آئینی حق ہے،سزا و جزا کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سےبھی ہےاوراگر پکڑ دھکڑسیاسی انتقام کےلئےہورہی ہےتو وہ اچھی نہیں ہے۔

بجٹ پربات کرتےہوئےسابق وزیرخزانہ نےکہاکہ معیشت میں کئی مسائل ہیں جوبرسوں سے چلےآرہےہیں،سلیم مانڈوی والاجب وزارت خزانہ چھوڑکرگئےتوایک سال کا ڈھائی ارب ڈالرخسارہ تھا،(ن)لیگ کی حکومت والےمعیشت کی مہلک بیماری چھوڑکرگئےتھےتاہم ہماری حکومتی کوششوں سے چند ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسار ے میں70فیصد کمی آئی ہے۔
بجٹ تجاویز پربات کرتےہوئےاسد عمرکاکہناتھاکہ متوسط طبقے کےلئےاقدامات اٹھائےجائیں،چینی پرٹیکس بڑھانا نامناسب ہے،چینی پر ٹیکس میں اضافہ واپس لیناچاہیےاورچینی کی قیمت بڑھانےپرتحقیقات کی جائیں،قیمتیں کیوں بڑھی ہیں جبکہ خوردنی تیل اورگھی کی قیمتوں پر ٹیکس بھی مناسب نہیں اورچھوٹی گاڑیوں پرایف ای ڈی بڑھادی گئی ہےاس پرنظرثانی کی ضرورت ہے،کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جائے، جی آئی ڈی سی ختم کرکے یوریا کی بوری پر 400 روپے ختم کرائیں۔

اسد عمر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی بری حکمت عملی کی وجہ سے ایکسپورٹرز کا اعتماد ٹوٹا جسے بہت مشکل بحال کیا، یہ نظام ایسا نہیں ہے کہ بٹن دبا کر مسئلہ ہوجائے، جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھائیں گے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دارومدارکو ختم نہیں کیا جاسکتا، نئی سرمایہ کاری لانے والوں کو 5 سال کیلیے ٹیکس سے استثنا دینا چاہیے، نئی سرمایہ کاری جب تک نہیں لگے گی اس وقت تک اس دلدل سے نہیں نکلیں گے، جن کی اربوں کی جائیدادیں ہیں انہیں کس بات کی فکر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.