Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

ایران کا افغان طالبان کے ساتھ انٹیلی جنس رابطوں کا اعتراف

ایران کے کچھ علاقے ان افغان علاقوں سے ملتے ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں،جواد ظریف, بیان افغانستان کے اندرونی امور میں ایران کی مداخلت ، دونوں ملکوں کے درمیان رشتے کمزور ہوں گے،افغان ردعمل

کابل۔ایران کےوزیرخارجہ جواد ظریف نےکہاہےکہ ہمارےطالبان کےساتھ انٹیلی جنس رابطےموجود ہیں کیوں کہ ہمارےکچھ سرحدی علاقے ان افغان علاقوں سے ملتے ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

دوسری جانب افغانستان نےایرانی وزیرخارجہ کےبیان پرسخت رد عمل ظاہرکرتےہوئےکہاہےکہ جواد ظریف کابیان کو افغانستان کے اندرونی امور میں ایران کی واضح مداخلت کا ثبوت ہے،دو ریاستوں کےدرمیان تعلقات سےہٹ کرطالبان کےساتھ کسی بھی قسم کےرابطے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو کمزور کریں گے،

بھارت کے دورے کے دوران دیئے گئے انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مستقبل کے افغانستان میں طالبان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا البتہ اس حوالے سےفیصلہ افغان عوام کو کرنا ہے۔

ہمسایہ ملکوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ طالبان کو بالادستی حاصل ہو کیونکہ یہ خطےکےمفاد میں نہیں ہے،ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ طالبان کا یہ کردار انتہائی اہم نہیں ہونا چاہیے۔

جواد ظریف کاکہنا تھاکہ ہمارے طالبان کےساتھ انٹیلی جنس رابطے موجود ہیں کیوں کہ ایران کےکچھ سرحدی علاقےان افغان سرحدی علاقوں سےملتے ہیں جو طالبان کےکنٹرول میں ہیں، طالبان کےزیر کنٹرول افغان ایران سرحدی علاقے میں سلامتی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب افغانستان نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان پرسخت رد عمل ظاہر کیا۔افغان وزارت خارجہ نےجواد ظریف کےبیان کو افغانستان کے اندرونی امور میں ایران کی واضح مداخلت قرار دیا۔ افغانستان کےنائب وزیر خارجہ ادریس زمان نےٹویٹ میں کہاکہ 2 ریاستوں کے درمیان تعلقات سے ہٹ کر طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو کمزور کریں گے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.