Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

بدعنوانی کےباعث پاکستان ترقی پذیرممالک میں شامل رہاہے۔فرمان اﷲ خان

پشاور۔ڈائریکٹرجنرل قومی احتساب بیوروخیبرپختونخوافرمان للہ خان نےکہاہےکہ بدعنوانی کےباعث پاکستان ترقی پذیرممالک میںشامل رہاہے،کرپشن کاقلع قمع کرنےتک کوئی بھی ملک ترقی سےہمکنارنہیں ہوسکتا’یونائیٹڈ نیشن کےکثیرالجہتی معاہدہ اورکونشن کےمطابق بدعنوانی کوجڑسےختم کرنے،بلاامتیازاحتساب اورشرح بدعنوانی کوصفرتک لانے کیلئے تمام وسائل وموثرپیمانے بروئے کارلانے میںکوئی دقیقہ فروگذاشت نہیںکریںگے’ اختیارات کاہوتےہوئےبھی قانون کےدائرے میں اختیاراستعمال نہ کرنابھی کرپشن ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نےجمعرات کےروزعالمی ہفتہ انٹی کرپشن کےمناسبت سےقومی احتساب بیوروخیبرپختونخوااورمحکمہ انٹی کرپشن خیبرپختونخواکی باہمی شراکت سےمنعقدہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع وزیراعلیٰ خیبرپختونخوابھی موجودتھے۔انہوں نےکہاکہ”انسداد بدعنوانی کےعالمی دن”کی مناسبت سےبدعنوانی کیخلاف عالمی سطح پرکی جانےوالی کاوشوں کی عکاسی کرتاہے،یہ ہماری مشترکہ کاوشوں کانتیجہ ہےکہ کرپشن پر( سی پی آئی)کےاعدادوشمارکے مطابق پاکستان جنوبی ایشیاءکا واحد ملک ہےجس میں کرپشن کےرجحان میں بتدریج کمی آرہی ہے،GallupاورGilaniکے سروے رپورٹ میں بھی 59فیصد پاکستانیوں نے نیب پراعتماد کا اظہارکیا ہے۔

انہوں نےکہاکہ ورلڈ اکنامک فورم نے بھی نیب کی کاوشوں کو سراہااورتسلیم کیاہے،پاکستان کو درجہ بندی میں106th درجہ پر رکھا ہے،جو کہ پاکستان کی سب سے اچھی درجہ بندی ہے،بدعنوانی نے ہمارےزندگی کےہرگوشےاورپہلو کومتاثر کرنا شروع کردیا ہے،ایک ریڑھی والے پھل فروش سے لےکر طاقتور تک یہ کینسرسرایت چکا ہے۔

ڈائریکٹرجنرل نیب نےکہاکہ عوام کے تعاون کے بغیربدعنوانی کوجڑسےختم کرناممکن نہیں،نیب،پاکستان میں کرپشن کےخلاف ایک قومی خودمختار ادارہ ہےجسےکرپشن کو جامع حکمت عملی سےختم کرنےکہ ذمہ داری سونپی گئی ہے،اپنےآئینی تقاضوں کےعلاوہ نیب کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن میںمرکزی نمائندہ ادارے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہاہے۔

انہوں نےکہاکہ اختیارہو تےہوئےبھی اس کوعوام اورسرکاری کی فلاح وبہبودکیلئےاستعمال نہ کیاجائےاپناکام دیانتداری اورذمہ داری سے انجام نہ دینابھی کرپشن ہےشفافیت عوام کوسرکاری معاملات اورفیصلہ سازی کےمتعلق معلومات کی دستیابی ہےجبکہ اچھی حکمرانی حکومت کےوسائل وذرائع کا بہتراورجامع استعمال ہے،شفافیت عوام کوپراعتماد،جامع،بروقت،قابل فہم اورغیر ملکی موازنےکی معلومات تک رسائی کو ممکن بناتاہے،بہتر طرزحکومت اورشفافیت ایک ہی سکےکےدو ررُخ اورلازم وملزوم ہیں اورہم عوام کو حکومت کےمعاملات میں شریک کئے بغیربہتر گورننس حاصل نہیں کرسکتے۔

انہوں نےکہاکہ نیب بھی عوامی فلاح کےامورمیں حکومتی اداروں کےساتھ باہم شریک ہے،حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کےاحکامات کی روشنی میں صوبےبھرمیں موجود ہائوسنگ سوسائیٹیزکافورینزک آڈٹ ہواجسکےمطابق صوبےبھرمیں295پرائیویٹ سکیمزغیرقانونی طورپر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نےکہاکہ نیب نےپہلےہی سے17غیرقانونی سوسائیٹزکےخلاف انکوائری شروع کررکھی ہےاورہم امید کرتےہیں کہ باقی ادارے بھی ان غیرقانونی عوامل کی سرکوبی میں اپنا بھرپورکردارادا کریں گےجس سے عوام کی خدمت اورفلاح ہوسکے۔

انہوں نےکہاکہ اچھی حکمرانی ہی سےکرپشن کا خاتمہ کیاجاسکتاہےنہ کہ کسی مخصوص شخص کوسزا دلاکر،کرپشن کی روک تھام صرف حکومت اورقانون نافذ کرنےوالےاداروں کی زمہ داری نہیں یہ ہمارا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔

انہوں نےکہاکہ ہم اس عزم کااعادہ کریں کہ ہم سب ملکراس مملکت سےکرپشن کاخاتمہ کریں تاکہ عام آدمی کوشفافیت اوراچھی حکمرانی کےثمرات میسرہوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.