Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

برطانوی وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام

تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین سے برطانوی انخلا پر ان کے خلاف تحریک پیش کی گئی تھی

لندن:برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے کےخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی ان کےحق میں200 اورمخالفت میں 117 ووٹ ڈالے گئے۔برطانوی وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد انکی جانب سےایک متنازعہ فیصلےکےبعد پیش کی گئی جسکےتحت برطانیہ اگلے سال مارچ تک یورپی یونین سےباہرنکل جائےگا اوراس فیصلے پر برطانیہ سمیت پورے یورپ میں فکر و مباحثہ جاری ہے،اس کےلیےبریگزٹ کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی رائے شماری میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کے317اراکین نیحصہ لیا،تھریسامے کےحق میں200 اور مخالفت میں 117 ووٹ ڈالےگئے،اس دوران کنزرویٹرقانون سازوں کی اکثریت نے خفیہ رائےشماری میں ان کی تائید کی ہےجبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی کے 48 ساتھیوں نے خط لکھ کر تھریسا مے کے خلاف رائے شماری کی تجویز بھی دی تھی۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے نےاپنی رہائش گاہ کےباہرمیڈیا سےبات کرتےہوئےکہاکہ اس وقت قیادت کی تبدیلی ملک میں بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے،اس وقت ملک کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا،بریگزٹ ڈیل مکمل کرناچاہتی ہوں لیکن آئندہ انتخابات میں پارٹی کی قیادت نہیں کروں گی۔

یاد رہےکہ ان دنوں برطانیہ میں28رکنی یورپی یونین سے خود کو الگ کرنے کے متعلق فیصلہ کن بحث و مباحثہ بھی جاری ہے، تھریسا مے کےاس فیصلےکےتحت اگلےبرس مارچ کےاوائل میں برطانیہ یورپی یونین کی رکنیت کو خیرباد کہہ دے گا تاہم تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد ان کے خلاف اگلے ایک سال دوبارہ یہ تحریک پیش نہیں کی جاسکتی۔

واضح رہےتھریسا مےنےجولائی2016میں سابق وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کےاستغفےکے بعد اقتدارسنبھالاتھا جو عین اسی تنازعےکےشکار ہوکر اقتدارکھو بیٹھےتھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.