Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

بنی گالاکیس:وزیراعظم ریگولرائزیشن کےلئےجو بھی پالیسی بنائیں اسےماسٹرپلان سےمشروط کریں۔سپریم کورٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ نےبنی گالا تجاوزات کیس میں حکم دیا ہےوزیر اعظم ریگولرائزیشن کےلئےجو بھی پالیسی بنائیں اسےماسٹرپلان سے مشروط کریں۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں بنی گالہ میں غیرقانونی تعمیرات کےکیس کی سماعت ہوئی، سماعت شروع ہوئی توچیف جسٹس نےاستفسارکیا بابراعوان کہاں ہیں؟ میرا خیال ہےالتوا کی درخواست بھجوائی ہے۔

چیئرمین سی ڈی اےنےبتایاکہ ریگولرائزیشن عمران خان کی نشاندہی پرشروع کی گئی،100سےزیادہ ریگولرائزیشن کی درخواستیں آچکی ہیں،سی ڈی اےنےسپلیمنٹری رپورٹ فائل کی ہے،اس رپورٹ میں ریگولرائزیشن سےمتعلق سفارشات ہیں،لیک ویوپارک میں تفریحی کمپنیوں کےمعاملےپرایڈیشنل اٹارنی جنرل نےمعائنہ کرنا تھا،معلوم ہوا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عہدہ چھوڑ چکےہیں۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیئےایڈیشنل اٹارنی جنرل سیدھی اورسچی بات کرتےتھے،ریگولرائزیشن تاخیرکا شکارہے،ریگولرائزیشن کےبغیر ہاؤسنگ سوسائٹی کی اجازت نہیں دیں گے، وہاں بجلی اور گیس لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثارنےکہا بوٹینیکل گارڈن کی تمام اراضی سرکار تحویل میں لے، پھر دیکھتے ہیں کس کا کیا دعویٰ بنتا ہے، حکم امتناع ختم ہوچکے، گارڈن کی اراضی کا قبضہ کیوں نہیں لیاجارہا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس ایک ہزار کنال ہیں، جب قبضہ لینے گئے تو مزاحمت اور فائرنگ کی گئی، سوسائٹی راجا فاروق اور شبیر عباسی نامی 2 لوگوں کی ہے۔

شبیرعباسی نےکہاکل ہی نوٹس ملا،یقین دلاتاہوں قبضےمیں ایک انچ جگہ نہیں،وکیل کاکہناتھاکہ راجافاروق نےکہاہےانکی کوئی اراضی ہےناانہوں نےقبضہ کیاہے،چیف جسٹس نےکہا چلو یہ تو معاملہ ہی حل ہوگیا،پولیس کی مدد سےسرکاری اراضی کواپنےقبضےمیں لیا جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا بوٹینیکل گارڈن سرکاری جگہ ہے، رقبہ 725 ایکٹر ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے معاملہ تو ختم ہوچکا ہے، اسے نمٹا دینا چاہیے، کیا مسائل رہ گئے ہیں، ہمیں اس حوالے سے بتائیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مزید کہا بنی گالہ میں 75 فیصد تعمیرات کو ریگولر نہیں کرایا جاسکتا۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا حکومت نے زون 4 کو اے بی سی اور ڈی میں تقسیم کیا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا میرے مؤکل کی وہاں 100 کنال اراضی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا 100 کنال زمین کا مطلب یہ نہیں کہ ہاؤسنگ سوسائٹی بنائیں، ماحولیات اور دیگر اداروں سے اجازت لینی ہوگی، معاملے پر اب کچھ ایسا کچھ رہ ہی نہیں گیا،نمٹا سکتے ہیں۔

ڈی جی ماحولیات نے بتایا بوٹینیکل گارڈن کی زمین ، سات میں سے دو افراد سے واگزار کرا لی ہے ، جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی پولیس کو ساتھ لے جا کر زمین واگزار کرائیں، بوٹینیکل گارڈن کی ساری زمین آج ہی واگزارکرائیں، اتنی بڑی زمینوں پرقبضہ مافیا بدمعاشی سے بیٹھا ہے، ریگولرائزیشن سی ڈی اے کا کام ہے وہی کرے ، چیف جسٹس نے بوٹینکل گارڈن کی اراضی ایک ہفتے میں واگزار کرانے کا حکم دے دیا۔

ایک نجی زمین مالک کے وکیل نے کہا وزیراعظم نے ریگولرائزیشن کے لئے کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے، جس پر چیف جسٹس نےحکم دیا وزیراعظم جو پالیسی بنائیں اسے ماسٹر پلان سے مشروط کریں بعد ازاں بنی گالہ تعمیرات پر سماعت سپریم کورٹ میں ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.