Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

جس کیس میں حکومتی وزیر ملوث ہو وہ کیس نیب کےنظروں سےاوجھل ہوجاتاہے.اسفندیار ولی خان

جس طرح تضحیک سندھ حکومت کی گئی ہےاسی طرح تضحیک عمران خان کا بھی دیکھ رہاہوں،طاہرداوڑ کی انکوائری رپورٹ وزیراعظم کی میز پر پڑی ہےلیکن عوام کےساتھ شریک نہیں کی جارہی،راؤ انوار کی مدت ملازمت پوری ہوگئی لیکن شہید نقیب اللہ محسود کوانصاف نہ مل سکا،عمران خان میں دم ہے تو میری ملائیشیا اور دوبئی کی جائیدادیں منظرعام پر لےآئیں.مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی

پشاور۔عوامی نیشنل پارٹی کےمرکزی صدراسفندیار ولی خان نےتھنک ٹینک اجلاس کےبعد میڈیا کو بریفنگ دیتےہوئےکہا ہےکہ نیب کو حکومت کے کیسز نظر نہیں آتے۔

جس کیس میں پی ٹی آئی اور حکومت کے وزیر ملوث ہو وہ کیس نیب کے نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔

بلورہاؤس پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نےکہاکہ سندھ کی منتخب حکومت کی تذلیل کی گئی ہے،جسطرح تضحیک ایک منتخب حکومت کی گئی ہےاسی طرح تضحیک عمران خان کابھی دیکھ رہاہوں۔سندھ میں وفاق کی جانب سےفنڈزکےخرچ کرنےکا بیان مضحکہ خیزاور آئین کی خلاف ورزی ہے۔

طاہرداوڑکیس کےحوالےسےاسفندیارولی خان نےکہاکہ شہید طاہرداوڑکی انکوائری رپورٹ وزیراعظم کی میز پر پڑی ہےلیکن اسکے باوجود بھی عوام کےساتھ شریک نہیں کی جارہی۔اسی طرح راؤ انوارکی مدت ملازمت پوری ہوگئی لیکن شہید نقیب اللہ محسود کو انصاف نہ مل سکا۔ انہوں نےکہاکہ اگر نیشنل ایکشن پلان پرمن وعن عملدرآمد ہوتا تو طاہرداوڑ،نقیب اللہ محسود اورہارون بلورشہید کے واقعات رونما نہ ہوتے۔

اسفندیار ولی خان نے ایک بار پھر عمران خان کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس میں دم ہے تو میری ملائیشیا اور دوبئی کی جائیدادیں منظرعام پر لے آئیں یا اس جھوٹی کہانی اور جھوٹے الزامات پر عوام اور اے این پی کارکنان سے معافی مانگے۔

ملک میں رواں سیلیکٹڈ احتساب کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جس طرح منی ٹریل حسن اور حسین نواز سے مانگی گئی وہی فارمولا عمران خان کی بہن علیمہ خان اورعلیم خان پربھی لاگو کیاجائے۔احتساب کےنام پرحزب اختلاف کو ختم کرنےکی کوشش منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے۔

ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہوچکا ہے جو کپتان کےسامنےسربسجود ہوجاتا ہےتو وہ فرشتہ اورعمران خان کامخالف دانستہ طور پر شیطان بن جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی اپنی پارٹی چوروں، لٹیروں اور کرپٹ چہروں کا ٹولہ ہے،کوئی بھی ذی شعور بندہ احتساب کی مخالفت نہیں کرسکتا لیکن بدقسمتی سے عمران خان کا احتساب انتقام بن چکا ہے۔نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ تمام ایف آرز کا ایک صوبائی حلقہ بنانا مضحکہ خیز ہے۔

درہ آدم خیل سےشروع ہوکربلوچستان کےسرحد پرختم ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اس طرح کی حلقہ بندیاں نظرنہیں آئےگی لیکن عوامی نیشنل پارٹی ہر صورت میں انتخابات میں حصہ لے گی اور ہر حلقہ میں بڑے جلسے بھی کریں گی جہاں وہ خود بھی جائیں گے۔

افغانستان امن مذاکرات کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہ کرنا ایک اور جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

پاکستان کی پارلیمان پہلے سےاس قرارداد کو منظور کرچکی ہےکہ افغان امن مذاکرات صرف وہی ہوںگےجسکی سربراہی افغان حکومت کریں اور اس عمل کو افغان حکومت اپنائیں۔

طالبان اورامریکی اسٹیبلشمنٹ کومخاطب کرتےہوئےاسفندیار ولی خان نےکہاکہ مذاکرات تب کامیاب ہوںگےجب سارے فریقین کوافغان حکومت کی سربراہی میں اس عمل کاحصہ بنایاجائے۔آج طالبان کےساتھ اگر یک طرفہ طورپرسمجھوتہ کیاگیا تو داعش اپنی کارروائیاں کرتارہےگا اور پھر ایک سال بعد اُن کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.