Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

حکومت جبری گمشدگیوں بارے بین الاقوامی کنونشن سائن کریں.ڈاکٹر شیریں مزاری

کسی بھی جمہوری ملک میں جبری گمشدگی نہیں ہو سکتی،لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ تک ہماری رسائی نہیں ہے،وفاقی وزیر انسانی حقوق بہت سے آئی این جی اوز سکیورٹی امور میں سرگرم ہیں،چار سفیروں کے کہنے پر قانون نہیں بدل سکتے،آئی این جی کو ریگولیٹ کرنا ہوگا،سینیٹ کمیٹی میں اظہار خیال

اسلام آباد۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نےکہاکہ حکومت کو جبری گمشدگیوں بارے بین الاقوامی کنونشن سائن کرنی چاہیے،کسی بھی جمہوری ملک میں جبری گمشدگی نہیں ہو سکتی،کنونشن سائن کرنےسے دنیا کو کم از کم پاکستان کی سمت کا پتہ چلے گا،لاپتہ افراد کے خلاف وزارت انسانی حقوق نے وزیر اعظم کو تجاویز ارسال کی ہے۔

پیر کو سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائےانسانی حقوق میںاظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی کنونشن پر تین شرائط پردستخط کریں،ریکٹی فائی نہ کریں،ریکٹیفائی تب کریں جب تمام سٹیک ہولڈرز سےمشاورت کےبعد کریں، لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ تک ہماری رسائی نہیں ہے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں، پورا خاندان متاثر ہوتا ہے،اگر کسی پر دہشتگردی یا دیگر مقدمات میں لاپتہ ہوتا تو اس کی سزا پورے خاندان کو ملتی ہے،سول قانون پر صوبوں کا اختیار ہے، مگر کریمینل قانون پر ریاست کا مکمل اختیار ہے ، وفاقی حکومت قانون سازی کر سکتی ہے۔

انہوں نےکہاکہ جن آئی این جی اوز اوراین جی اوز کو کام سےروکا گیاہےان کو وجوہات سےآگاہ کیاجاناچاہیے،آئی این جی ازکی ریگولیشن کی ضرورت ہے،ان کو فری ہینڈ نہیں دینا چاہیے،بہت سی آئی این جی اوزاپنی مینڈیٹ سےتجاوزکرکےملکی سکیورٹی کے متعلق سرگرمیوں میں مشغول ہوتے ہیں،حساس جگہوں کی میپنگ(MAPING)کرتےہیں،یورپ میں بھی بہت سےاین جی اوزکو بند کیا گیا،وہاں تو ہمارے لوگوں کی ورکنگ ویزہی کینسل کیاگیاجبکہ ہم اپیل کا حق بھی دے رہے ہیں،خیبر پختونخوا میں شکیل آفریدی واقعہ کے بعد پولیو کو ریکور کرنے میں دو سال لگے۔

انہوں نے کہا کہ این جی اوز تو کہیں گے کہ قانون میں تبدیلی لائیں،چار سفیروں کے کہنے پر قانون کو نہیں بدلے جا سکتے،آئی این جی اوز کو قانون کے تحت ہی کام کرنا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.