Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

حکومت سندھ ہاؤس اسلام آباد پر حملے کی تیاری کررہی ہے: پی پی کا الزام

اراکین اسمبلی 'اپنی حفاظت' کیلئے سندھ ہاؤس میں مقیم ہیں، پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ عمران خان حکومت دہشتگردی پر تلی ہے اور  اب سندھ ہاؤس اسلام آباد پر حملے کی تیاری کی جارہی ہے۔ پی پی اراکین نے حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ سندھ ہاؤس میں املاک یا کسی رکن کو نقصان پہنچا تو اس کی ساری ذمہ داری نیازی سرکار پر ہوگی، سندھ ہاؤس پر حملہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہو گا، اس کا پہلے سے تدارک انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این ایز عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللہ، جاوید شاہ جیلانی، عبدالقادر مندوخیل، عابد بھائیو، احسان مزاری ، نوید ڈیرو  اور مہرین بھٹو نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی حالیہ دہشتگردی کے بعد حکومت سندھ سے درخواست کی تھی کہ انہیں سندھ ہاؤس میں رہائش دی جائے اور سندھ پولیس کو تعینات کیا جائے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہماری جانیں پارلیمنٹ لاجز میں محفوظ نہیں، یہ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کیونکہ اسلام آباد پولیس گلو بٹ بن چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے پارٹی کی انفارمیشن سیکریٹری ایم این اے شازیہ مری کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہاں ارکان پارلیمنٹ سندھ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے ہیں، ہر رکن کو وہاں رہنے کا حق ہے، یہ اراکین اپوزیشن اور ہمارے اتحادیوں سے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ ان ایم این اے کو وہاں اس لیے رکھا گیاہے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انہیں اغوا کیا جا سکتا ہے، ایک وزیر کے اس بیان کے بعد کہ اپوزیشن کو خودکش حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پارلیمنٹ لاجز پر پولیس کے چھاپے کے بعد متعدد اراکین اسمبلی خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے تھے۔

اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ اپوزیشن رہنما حکومتی قانون سازوں کی وفاداریاں خریدنے کے لیے ‘پیسے کے بوریوں’ کے ساتھ سندھ ہاؤس میں بیٹھے ہیں ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کمیشن سے مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی ٹوئٹ کیا تھا کہ سندھ پولیس کے تقریباً 400 اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے اہلکار سندھ ہاؤس میں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو رشوت دینے کے لیے استعمال ہونے والے پیسوں کے ‘تھیلوں’ کی حفاظت کی جاسکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.