Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں دیامیر پاشا ڈیم کی تعمیرکا ٹائم فریم پیش

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا ٹائم فریم پیش کردیا ہے۔سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا مہمند ڈیم عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی تو اٹارنی جنرل نے عدالت میں ڈیم کی تعمیر کا ٹائم فریم پیش کردیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نےریمارکس دیےکہ واپڈا بہت دیرسےعدالت سےرابطے میں نہیں ہےاورسمجھتا ہےاب اسکی من مرضی ہے،وہ ہمیں الگ کرناچاہتاہےاس کو دیکھ لیں گے،ڈیمز کی تعمیر کی ابتداء عدالت عظمی نےکی اورنگرانی بھی عدالت ہی کرےگی،ہمیں یہ بتائیں تعمیر کب شروع ہوگی اور کب ختم ہوگی؟۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ رواں سال جون سے بھاشا ڈیم پر موبلائزیشن شروع کر دیں، دسمبر 2019 میں کام شروع اور اپریل 2022 میں ایک حصہ مکمل کریں گے، ڈیم کی تعمیر 2027 میں مکمل ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 2025 میں تو پاکستان میں پانی ختم ہو جائیگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے ڈیمز کے لیے اب تک کیا کیا اور کتنے فنڈز اکٹھے کیے،حکومت نے کیا صرف بیان بازی کی ہے، کیا حکومت ڈیمز کی تعمیر میں سنجیدہ ہے، ہمیں حکومت کی پالیسی درکار ہے، کیا وزیراعظم نے معاملہ پر رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے، یا پانچ سال ایسے ہی گزر جائیں گے۔
چیرمین واپڈا نے پیش ہوکرکہاکہ واپڈا کو بدنام کیا جارہا ہے،ڈیم کی تاخیر کی مہم چل رہی ہےاورٹھیکہ کےحوالےسےالزام لگایا جارہا ہے۔چیف جسٹس نےکہاکہ اظہار رائےکےنام پر ڈیمز کےخلاف پروپیگنڈہ کیاجارہا ہے،جس کو تکلیف ہےعدالت آئے ہم شکایت کاجائزہ لیں گے۔

چیئرمین واپڈا نےکہاکہ مہمند ڈیم کے لیے309ارب درکار ہوں گے،حکومت چھ سال میں114ارب دے گی،63 فیصد فنڈز واپڈا اپنےوسائل سےپیدا کرےگااورفنڈز ریزنگ کےلیےبانڈزجاری کرے گا،حکومت آئندہ دو ہفتے میں17ارب جاری کرےگی،بھاشا ڈیم کی تعمیرکیلئےکمپنی بنائی جائے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت تعمیر کیوں نہیں کرتے، عوام کو ڈیمز کے شیئرز کیوں نہیں دیتے۔ عدالت نے واپڈا سے ڈیم کی تعمیر کا حتمی شیڈول تحریری طور پر طلب کرلیا۔
چیف جسٹس نے موبائل کارڈز کے معطل شدہ ٹیکس کو بحال کرکے ڈیم فنڈ کے لیے استعمال کرنے سے متعلق فیصلے کے لیے چیئرمین ایف بی آر کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں موبائل کارڈ کا ٹیکس ڈیمز فنڈ کو دیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈیمز فنڈ کی رقم کہاں انوسٹ کی جائے؟۔تو گورنراسٹیٹ بنک نےجواب دیا کہ10اعشاریہ349فیصد پر3 ماہ کیلئے ٹریژری بل جاری کیےجاسکتےہیں۔عدالت نے قراردیاکہ ڈیمز سےمتعلق تنازع دوسری عدالتوں میں نہیں سنا جائےگا اورہر تنازع پر براہ راست سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے ڈیمز کے خلاف پروپیگنڈے کے سدباب کے لیے چیئرمین پیمرا کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.