Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

خیبرپختونخوا خصوصی اختیارات آرڈیننس سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا ایکشن ( ان ایڈ آف سول پاور) آرڈیننس 2019 کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس امین الدین پر مشتمل 3 رکنی عدالتی بینچ نے مذکورہ معاملے پر ایک لارجر بینچ کے قیام کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے وفاقی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے معاملے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان اور کے پی ایڈووکیٹ جنرل شمائیل بٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل پیش کیے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اپیل پر حتمی فیصلے تک پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل رہے گا۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی اور اب یہ معاملہ 15 نومبر کو لارجر بینچ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔خیال رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا نے اگست میں ایکشن ان ایڈ سول آف سول پاور آرڈینس نافذ کیا تھا جس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کا اختیار حاصل ہوگئے تھے۔

17اکتوبر کو چیف جسٹس وقار احمد شاہ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ ڈویژن بینچ نے پاٹا ایکٹ 2018، فاٹا ایکٹ 2019 اور ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاورز) ریگولیشن 2011 کی موجودگی میں ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاورز) آرڈیننس 2019 کو کالعدم قرار دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ میں مختلف افراد کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں خیبرپختونخوا کے حراستی مراکز میں قید لوگ بھی شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.