Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

ریپ میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی یا نامرد کردینا چاہیے، وزیر اعظم

0 502

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریپ اور خواتین و بچوں سے جنسی استحصال کے واقعات میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے انہیں سرعام پھانسی یا کیمیائی طریقے سے نامرد بنانا چاہیے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے کورونا وائرس کے معاملے پر وہی غلطی کی جو پاکستان کی سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں.

لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ کے حوالے سے ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو ہلا دیا اور اتنی تکلیف ہوئی کہ سب نے کہا کہ اب اس معاملے پر کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دو سال قبل جب میں اقتدار میں آیا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جنسی زیادتی کے جرائم بڑھتے جارہے ہیں، صرف خواتین نہیں بلکہ بچوں کے خلاف بھی یہ بڑھتا جا رہا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ پاکستان چائلڈ پورنو گرافی میں دنیا میں سرفہرست ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو مثالی سزا دینی چاہیے، میرے خیال میں اسے چوک پر سرعام پھانسی دینی چاہیے اور یہ سزا ریپ کرنے والوں اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کے لیے مخصوص ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جب ہم نے اس پر مباحثہ کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر سرعام پھانسی کی سزا قابل قبول نہیں ہو گی اور یورپی یونین کی جانب سے دیا جانے والا جی ایس پی پلس اسٹیٹس خطرے میں پڑے جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ریپ کرنے والوں کو کیمیائی یا سرجیکل طریقے سے نامرد بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے اور ایسا کئی ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ موٹر وے گینگ ریپ کا مرکزی ملزم 2013 میں بھی ایک گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے اور معاشرے کو اس طرح کے مجرموں سے مستقل بنیادوں پر پاک کرنے کے لیے ہمیں نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کا صرف پولیس نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مقابلہ کرنا چاہیے، دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب معاشرے میں فحاشی بڑھتی ہے تو دو چیزیں ہوتی ہیں، جنسی جرائم بڑھتے ہیں اور خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ میں فحاشی بڑھنے سے اس وقت طلاق کی شرح 70فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب کے مقابلے میں ہمارا خاندانی نظام اچھا ہے تو ہم اپنا انصاف کا نظام اور ادارے بھی ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن اگر ہمارا خاندانی نظام تباہ ہو گیا تو ہم اس کو یکجا نہیں کر سکتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.