Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

سانحۂ ساہیوال:تاحال کسی نتیجےپرنہیں پہنچے،تحقیقات جاری رہیں.جے آئی ٹی سربراہ

لاہور.سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کےسربراہ نےکہاہےکہ انکی ٹیم تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے اوران کی تحقیقات جاری رہیں گی۔

جےآئی ٹی کےارکان نےمنگل کو مسلسل دوسرے روزبھی ساہیوال میں جائےواقعہ کامعائنہ کیا۔معائنےکےبعد صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئےایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس اورتحقیقاتی ٹیم کےسربراہ اعجاز شاہ نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ اتنےبڑےواقعےکی تحقیقات تین روز میں مکمل کرلی جائیں۔

انہوں نےکہا کہ فی الحال وہ صرف شواہد جمع کر رہے ہیں اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے تمام شواہد اور بیانات جمع کرلیے جائیں اور وہ تمام چیزیں تصدیق ہو کر آجائیں جو لیبارٹریز بھیجی گئی ہیں۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ جے آئی ٹی انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت بنی ہے جو تحقیقات مکمل کرکے چالان پیش کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دیتا ہے۔

واضح رہےکہ حکومتِ پنجاب نےسانحےکی تحقیقات کے لیے بنائی جانےوالی جےآئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنےکےلیے72 گھنٹوں کا وقت دیا تھاجو منگل کی شام پانچ بجےختم ہو جائےگا۔یہ توقع ظاہرکی جارہی تھی کہ جےآئی ٹی اپنی رپورٹ آج کسی وقت وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کردے گی جنہوں نے ایک صوبائی وزیر کے مطابق رپورٹ پر غور کےلیےاعلیٰ سطح کا ایک اجلاس بھی طلب کررکھا ہے۔

لیکن ساہیوال میں صحافیوں سے گفتگو میں جے آئی ٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو بھی یہی بتائیں گے کہ ابھی جے آئی ٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اتنے بڑے واقعے کی تحقیقات تین روز میں مکمل کرلی جائیں۔

ایک صحافی کےاس سوال پرآپ ہمیں اپنی تحقیقات کےابتدائی نتائج ہی بتادیں،اعجازشاہ نےکہاکہ تاحال کوئی نتائج اخذ نہیں کیےاورانہوں نےصرف جائےواقعہ کا معائنہ کیا ہےاوربیانات قلم بند کیےہیں۔انہوں نےبتایاکہ محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کےچھ اہلکار حکام کی تحویل میں ہیں جن کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدارنےگزشتہ روزصحافیوں سےگفتگو میں کہاتھاکہ جےآئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ہی ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

اس سےقبل وزیرِقانون پنجاب راجہ بشارت نے میڈیا سےگفتگو میں کہاتھاکہ وزیرِاعلٰی پنجاب نےجےآئی ٹی کی رپورٹ ملنے کے فوری بعد اعلٰی سطح کااجلاس طلب کرلیاہےجس میں ان کےبقول جےآئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔راجہ بشارت کا کہنا کہ تھا واقعے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور متاثرین کو انصاف ملے گا۔

"یہ واقعہ دہشت گردی ہےیا نہیں،جےآئی ٹی رپورٹ آنےسےپہلے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگرحکومت جے آئی ٹی رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئی تو اُس کا فیصلہ وزیرِاعلٰی کریںگے۔ہوسکتاہےکہ مطمئن نہ ہونےکی صورت میں وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدارجوڈیشل کمیشن بنادیں کیوں کہ یہ ان کی صوابدید پر ہوگا۔”سانحۂ ساہیوال کی تحقیقات کےلیےعدالتی کمیشن بنانےکی درخواست پرلاہورہائی کورٹ نےانسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سےجواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست پیر کو دائرکی گئی تھی جسکی سماعت منگل کو لاہورہائی کورٹ میں ہوئی۔سماعت کےدوران درخواست گزارکے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نےمؤقف اختیار کیاکہ سانحہ کی اصل حقیقت جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔اس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم نےریمارکس دیےکہ یہ مفاد عامہ کا مسئلہ ضرور ہے لیکن بظاہریہ اختیار وفاقی حکومت کےپاس ہے۔چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے درخواست گزار کو وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جب کہ آئی جی پنجاب کو 24 جنوری کو طلب کرلیا۔

یاد رہےکہ گزشتہ ہفتےمحکمۂ انسدادِ دہشت گردی پنجاب(سی ٹی ڈی)کےاہلکاروں نےپنجاب کےوسطی ضلع ساہیوال کےقریب جی ٹی روڈ پرایک گاڑی پراندھا دھند فائرنگ کی تھی جسکےنتیجے میں خلیل،انکی اہلیہ نبیلہ،ان کی13سالہ بیٹی اریبہ اورکارڈرائیورذیشان ہلاک ہوگئے تھے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.