Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

ساہیوال،کارپرپولیس کی مبینہ فائرنگ سے4 افراد جاںبحق،تین بچے زخمی,وزیراعظم کاواقعہ کانوٹس

کار میں اغوا کار سوار تھے،3 بچوں کو بازیاب کرالیا گیا ہے،سی ٹی ڈی پولیس کا دعویٰ ,پولیس نے ہمارے والدین کو مار دیا ہے، جاں بحق ہونے والوں میں والد، والدہ، خالہ اور ڈرائیور ہیں بچوں کا بیان ,پولیس نے نہ گاڑی روکی اور نہ تلاشی لی ، سیدھی فائرنگ کردی جبکہ گاڑی سے بھی کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا، عینی شاہدین ..آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لے کر آر پی او ساہیوال سے فوری رپورٹ طلب کرلی,وزیر اعظم عمران خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد۔پولیس کےمحکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نےساہیوال میں جی ٹی روڈ پر اڈا قادر کےقریب کار میں سوار2 خواتین سمیت 4 افراد کےجاں بحق اور 3 دہشت گردوں کےفرار ہونےاور3بچوں کوبازیاب کرانےکا دعویٰ کیا ہے۔

ہفتہ کو ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سےجاری ہونےوالےبیان کےمطابق ٹول پلازہ کےپاس سی ٹی ڈی ٹیم نےایک کاراورموٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی جس پرکار میں سوار افراد نےپولیس ٹیم پرفائرنگ شروع کردی۔

ترجمان سی ٹی ڈی کےمطابق فائرنگ سےدو خواتین سمیت4افراد ہلاک اور3 دہشت گرد فرار ہوگئے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کےمطابق فرار دہشت گردوں میں شاہد جبار،عبدالرحمان اوراس کا ایک ساتھی شامل ہےجبکہ یہ کارروائی فیصل آباد میں 16 جنوری کو ہونے والےسی ٹی ڈی آپریشن کا حصہ تھی۔

ترجمان نےبتایا کہ جائے وقوع سےخودکش جیکٹس،دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

اس سےقبل ذرائع کےمطابق سی ٹی ڈی پولیس کی جانب سےدعویٰ کیا گیا تھاکہ کارمیں اغوا کارسوار تھےجبکہ3بچوں کو بھی بازیاب کرالیا گیا۔

دوسری جانب صورت حال اس وقت یکسر تبدیل ہوگئی جب لاشوں اورزخمی بچوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی جب بچوں کا بیان قلمبند کیا گیا توانہوں نےبتایاکہ جاں بحق افراد ان کےوالد،والدہ،خالہ اور ڈرائیور ہیں،وہ لوگ لاہور سے بورے والا جارہےتھےکہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

ادھرعینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہور کی جانب سےآرہی تھی،جسےایلیٹ فورس کی گاڑی نےروکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کےاندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔

عینی شاہدین کےمطابق مرنےوالی خواتین کی عمریں 40 سال اور12 برس کےلگ بھگ تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی سی ٹی ڈی پولیس بچوں کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کرنامعلوم مقام پرلےگئی،جن میں سے ایک بچہ فائرنگ سے معمولی زخمی ہوا

دوسری جانب اس حوالے سےڈسٹرکٹ پولیس افسر(ڈی پی او) ساہیوال نےکہاکہ یہ سی ٹی ڈی کی کارروائی ہےاوروہی اس حوالے سے بہتر بتا سکتے ہیں۔

مقامی تھانہ یوسف والا پولیس نے ہلاک شدگان کی شناخت سے لاعلمی کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ یہ کارروائی سی ٹی ڈی کی جانب سے کی گئی ہے۔ میڈیا کے نمائندے جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو پولیس نے لاشیں ہٹادیں تھیں اور مبینہ طور پر ثبوت بھی مٹانےکی کوشش کی۔دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لےکرآرپی او ساہیوال سےفوری رپورٹ طلب کرلی۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ساہیوال واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.