Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

سپریم کورٹ:عاصم جاوید قتل کیس کی سماعت کےدوران تین ملزمان الزام ثابت نہ ہونےپربری

پوسٹ مارٹم اور پولیس رپورٹ میں موت کا وقت مختلف ہے،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے عاصم جاوید قتل کیس کی سماعت کے دوران تین ملزمان کو الزام ثابت نہ ہونے پر بری کردیا۔

منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نےکیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ایف آئی آر کےمطابق مقتول عاصم جاوید کو واہ کینٹ سے 11 مارچ 2013 کو اغواء کیا گیا۔

ایف آئی آر کےمطابق 12مارچ کو مقتول کی لاش ملی۔ایف آئی آرمیں الزام لگایا اکہ مقتول کو تاوان کیلئےاغواء کیا گیا تھا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ سو سال سے باربارکہا جارہا ہےکہ ملزمان سےمشترکہ برآمدگی قابل قبول شہادت نہیں ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ تینوں ملزمان سےبیک وقت لاش برآمد کروائی گئی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ قانون شہادت کےاس اصول کی خبراب تک پولیس کو کیوں نہیں پہنچی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ پوسٹ مارٹم اورپولیس رپورٹ میں موت کا وقت مختلف ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ جس سےتمام شہادتیں غیرمؤثرہوگئی ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ مقتول کس کےہاتھوں قتل ہواعینی گواہ موجود نہیں۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ استغاثہ کیس کی ان کمزوریوں کی وجہ سےتین ملزمان بری ہوئے۔عدالت نے کہاکہ انہی وجوہات کی بناء پر ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.