Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

سی پیک منصوبہ کےفوائدپورےخطےاوراس سےباہرکےلوگوں کیلئےبھی ہیں.ڈاکٹر ملیحہ

عالمی جی ڈی پی میں متوسط آمدنی والےممالک کاحصہ نصف ہےلیکن73فیصد غریب لوگ انہی ممالک میں مقیم ہیں،پاکستان آئندہ سال ارجنٹائن میں ہونیوالی سائوتھ سائوتھ کانفرنس سے مثبت توقعات رکھتا ہے.پاکستانی مندوب کا جنرل اسمبلی میں مباحثےکےدوران اظہارخیال

نیو یارک۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نےکہاہےکہ سی پیک منصوبہ کےفوائد صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورےخطےاوراس سےباہرکےلوگوں کیلئےبھی ہیں،عالمی جی ڈی پی میں متوسط آمدنی والےممالک کاحصہ نصف ہےلیکن73 فیصد غریب لوگ انہی ممالک میں مقیم ہیں،پاکستان آئندہ سال ارجنٹائن میں ہونیوالی سائوتھ سائوتھ کانفرنس سے مثبت توقعات رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں’پائیدارترقی کےاہداف کےایجنڈہ پرعملدرآمد میں متوسط آمدنی والےممالک کو درپیش رکاوٹوں’پرمباحثےکے دوران اظہار خیال کرتےہوئےپاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نےکہاکہ پائیدارترقی کےاہداف کے حصول میں متوسط آمدنی والے ممالک کے قائدانہ کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نےکہاکہ پائیدار ترقی کےاہداف میں سےخاص طورسےغربت میں کمی کےاہداف کو حاصل کرنےمیں متوسط آمدنی والےممالک کو قائدانہ کرداردینےکیساتھ ساتھ ان پر قرضوں کا بوجھ پائیدار بنیادوں پرکم کرنےکیلئےان کی معاونت بھی کی جائے۔

انہوں نےکہاکہ عالمی جی ڈی پی میں متوسط آ مدنی والےممالک کاحصہ تقریباً نصف ہےلیکن73 فیصد غریب لوگ انہی ممالک میں مقیم ہیں۔انہوں نےکہاکہ اگرچہ متوسط آمدنی والےممالک کودرپیش چیلنجزمشترک ہیں لیکن غربت کی شرح،قدرتی وسائل،ترقی کی استعداداور اقتصادی و سماجی کارکردگی کے لحاظ سے ان میں واضح فرق بھی موجود ہیں اسلئےان سب کی ترقی کی حکمت عملی یکساں نہیں ہو سکتی۔

انہوں نےکہاکہ اقوام متحدہ کی طرف سےایسے ممالک کی مدد ان کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔

انہوں نےکہاکہ آفیشل ڈویلپمنٹ اسسٹنس اس حوالےسےاپناکردارجاری رکھےگا تاہم اس وقت اس ادارےکاکردارمتوسط آمدنی والےممالک کے جی ڈی پی کے حوالے سے محدود ہے۔

انہوں نےکہاکہ پاکستان آئندہ سال مارچ میں ارجنٹائن میں ہونیوالی سائوتھ سائوتھ کانفرنس سے مثبت توقعات رکھتا ہے۔

انہوں نےکہاکہ سی پیک سائوتھ سائوتھ کوآپریشن کی شاندار مثال ہے،اس منصوبہ کےفوائد صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اوراس سےباہرکےلوگوں کیلئےبھی ہیں۔انہوں نےکہاکہ پاکستان سائوتھ سائوتھ کواپریشن کونارتھ سائوتھ کواپریشن کامتبادل نہیں بلکہ اس کا جزو تصور کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.