Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

شہباز شریف کی زیرصدارت پی اے سی کا پہلا باضابطہ اجلاس،خورشید شاہ,چوہدری نثار کو خراج تحسین پیش

ریاض فتیانہ کا 2013سے2018تک کا آڈٹ کرانے کا مشورہ،چیئرمین کمیٹی کا سربراہی نہ کرنے کا اعلان،ن لیگی دور کی آڈٹ کیلئے چیئرمین کا تین سب کمیٹیاں بنانے کافیصلہ

اسلام آباد۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کا باضابطہ اجلاس قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا،اجلاس میں سید فخرامام،سردارنصراللہ خان دریشک،منزہ حسن،نورعالم خان،خواجہ شیرازمحمود،راجہ ریاض احمد،رانا تنویر حسین،راجہ پرویز اشرف،سید نوید قمر،سید حسین طارق،حنا ربانی کھر،چوہدری حسین الہٰی،شاہد اختر علی،اقبال محمد علی خان،سینیٹر سید شبلی فراز،سینیٹر شیری رحمان،سینیٹر سیمی ایزدی نےشرکت کی،کمیٹی میں آڈیٹر جنرل،ایف آئی اےاورنیب کے حکام بھی موجود تھے۔

اجلاس کےآغازپرچیئرمین کمیٹی میاں شہباز شریف نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیاںاہمیت کا حامل ہیں مگر پی اے سی کی اہمیت سب سے زیادہ ہیں،اس کمیٹی میںملکی خزانے کے امور زیر بحث آتے ہیں،کمیٹی کے بارے میں میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا تاثر قائم ہے، جو کہ سراسر غلط ہے، ماضی میں میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کیلئے کمیٹی نے کام کیا ہو مگر اب ایسا نہیں ہوگا، کمیٹی ارکان کو غیر معمولی طور پر محتاط ہونا پڑے گا۔

شہبا زشریف نےکہاکہ کمیٹی کےتمام ممبران کو خوش آمدید کہوں گا،تمام ممبران تجربہ کار پارلیمنٹرین ہیں،کئی ارکان ماضی کی کمیٹیوں کا بھی حصہ رہےہیں،سارے ممبران قابل،ماضی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا ہے،مجھے تمام ممبران سےبھرپور تعاون کی توقع ہیں۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کوآڈیٹر جنرل نے تیرہویں اورچودھویں پی اے سی کی کارکردگی بارے تفصیلات بارے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں پی اے سی اور سب کمیٹیوں کے کل440اجلاس ہوئے اور 2008-2011کے عرصے کے دوران117.894بلین روپے ریکور کیے گئے،تیرہویں پی اے سی،ندیم افضل چن کے دور2012-2013 تک کل174اجلاس منعقدہ ہوئے اور 30.903بلین ریکور کیے گئے،پی اے سی نے اس دوران33آڈٹ پیراز نیب جبکہ13آڈٹ پیراز ایف آئی اے کو بجھوائے گئے۔

آڈیٹرجنرل نےبتایاکہ چودھویں پی اے سی نےساتھ آڈٹ رپوڑٹس کا نیم جائزہ لیا،اس دوران پی اے سی اورسب کمیٹی کے456اجلاس ہوئے اور دسمبر2013سے لیکرمئی2018تک کےعرصےمیں355.6بلین ریکورہوئے،168آڈٹ پیراز سےمتعلق کیسز نیب جبکہ56آڈٹ پیراز سے متعلق کیسوں کی تفتیش کیلئے ایف آئی اے کو بھجوادیئے گئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نےکہاکہ نیب کچھ کاموں میں حد سے زیادہ تیزی دکھا رہی ہےاورکچھ کو یکسر انداز کررہے ہیں،اس بارے مٰیں بھی بتایا جائے۔

جس پر چیئرمین نےایف آئی اے سے پیرکو بریفنگ طلب کی تو مسلم لیگ ن کےرکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نےکہا کہ ہفتے اور اتوار کو چھٹی ہیں کیا نیب پیر کے روز بریفنگ کیلئے تیاری کر سکے گا؟جس پر چیئرمین کمیٹی میاں شہباز شریف نے برجستہ کہا کہ’شیخ صاحب!آپ نے حنا ربانی صاحبہ کی بات نہیں سنیں،نیب حد سے زیادہ پھرتیاں دکھارہاہےتیار کرلیں گے”۔

سردار نصراللہ دریشک نےکہاکہ پی اے سی کےپاس بہت وقت ہےاس لیےآہستہ اورجامع انداز میں کام کرنا چاہیے،نیب کو تیارکیلئے وقت دیا جائے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نےکہاکہ کمیٹی کےاجلاس کا آغاز خوش گوارانداز میں ہوا ہے،اس ماحول کو برقرار رکھنا چاہیے،کمیٹی کی کارکردگی کو موثربنانےکیلئے مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے آڈٹ سے آغاز کرنا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی نےکہاکہ مسلم لیگ ن کےدورحکومت کے معاملات بارےاجلاس کی صدارت نہیں کروں گا،مسلم لیگ ن کے ادوار کی آڈٹ بارے تین چار سب کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی،2010-12تک پی اے سی میں ہی معاملہ آئے گا۔

نور عالم خان نےکہاکہ رائل پارم ہوٹل کےملزمان کو ابھی تک گرفتارنہیں کیاگیا،ایم کیو ایم کےرکن قومی اسمبلی سرداراحمد علی خان نے کہا کہ پی ایس ایل ایک اور دو کی آڈٹ رپورٹ دو سال ہونےکےباوجود نہیں آئی۔

سیکریٹری پی اے سی کی کمیٹی کو ایجنڈے پربریفنگ دیں اورکہاکہ’اس وقت کمیٹی نے 8 سال کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لینا ہے،کمیٹی میں رائل گالف کلب،گرینڈ حیات ہوٹل اورنیو ایئرپورٹ سمیت متعدد منصوبوں کو زیربحث لایاگیا،ریکوڈک کےمعاملے پرپی اے سی کو ان کیمرا بریفنگ دی گئی،معاملہ عدالتوں میں ہیں،کارکے کیس کو پی اے سی میں کبھی نہیں اٹھایا گیا، پی ٹی آئی اے کے ایم این اے سیدفخر امام نے سوال کیا کہ’نیب اور ایف آئی اے کو کیس بھیجنے کا کیا فارمولا ہے؟

جس پر سیکریٹری نے جواب دیا کہ ‘یہ کمیٹی کی صوابدید ہے’168نیب کو بھیجےگئے،17انکوائری،11پر تفتیش ہورہےہیں،ہرکیس کا دورانیہ مختلف ہیں،1972کے بعد سےپی اے سی کو زیادہ اختیارات ملیںہیں،پچھلی کمیٹی تیرہ ماہ تک ڈس فنکشنل رہی۔مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن شیخ روحیل اصغر نے سوال کیا کہ ‘جو کیسز نیب اور ایف آئی کو بھیجے ان کا نتیجہ کیا نکلا؟’

جس پر چیئرمین کمیٹی شہباز شریف نے کہا کہ ‘اس کا جواب نیب کا نمائندہ دے’۔

اجلاس میں راجہ ریاض نے کمیٹی کو پچھلیدو کمیٹیوں کیلئے خراج تحسین پیش کرنے کی تجویزدی جس پر چیئرمین کمیٹی نے چوھودیں پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید شاہ اور تیرہویں پی اے سی کےچیئرمین چوہدری نثارعلی خان کو خراج تحسین پیش کیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا دوسرا اور تیسرا اجلاس بالترتیب پیراور منگل ہوگا، جس کے دوران آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور نیب حکام کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔

کمیٹی نےنولنگ ڈیم،ریکوڈک،سےمتعلق بریفنگ بھی طلب کرلی،نیب حکام کو بریفنگ کیلئےمنگل کےروز طلب کرلیا۔ایف آئی اےکی جانب سے گریڈ انیس سےکم افسرکی کمیٹی میں آنےپرارکان نےبرہمی کاظہارکیا،چیئرمین کمیٹی کی متعلقہ افسران کو ہی حاضرہونےکی ہدایت کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.