Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

عمران خان کےخطاب سےمعاملےکاجس کو پتہ نہیں تھا اسےبھی معلوم ہوگیا.خورشید شاہ

ملک میں نارمل صورتحال نہیں ہے کبوتر کی طرح ہماری آنکھیں بند ہیں سوشل میڈیا پر سب نظر آرہا ہے وزیر اعظم لوگوں کی باتیں دہرا رہے ہیں جو ان لوگوں نے کہا یا نہیں کہا وہ وزیر اعظم نے کہہ دیا تقریر کی مذمت کرتا ہوں ہم حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی لڑائی چاہتے ہیں، ہم اداروں اور ریاست کیساتھ کھڑے ہیں، اگر ہم نے ڈکٹیشن لینا شروع کر دی تو طاقتور کون ہوگا سب کو مل بیٹھنا چاہیے ہمیں پرتشدد حالات سے نکلنا ہوگا وزیر اعظم ایوان میں آکر پالیسی بیان دیں پیپلز پارٹی کے رہنما کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد۔پاکستان پیپلزپارٹی کےسینئررہنما سید خورشید شاہ نےوزیراعظم عمران خان کےقوم سےخطاب کوجارحانہ قراردیتےہوئے کہاہےکہ عمران خان کےخطاب سےمعاملے کا جس کو پتہ نہیں تھا اسے بھی معلوم ہوگیاملک میں نارمل صورتحال نہیں ہےکبوتر کی طرح ہماری آنکھیں بند ہیں سوشل میڈیا پر سب نظرآرہا ہےوزیراعظم لوگوں کی باتیں دہرا رہےہیں جو ان لوگوں نےکہایا نہیں کہا وہ وزیر اعظم نےکہہ دیا تقریرکی مذمت کرتاہوں ہم حکومت پرحملہ نہیں کرناچاہتےاورنہ ہی لڑائی چاہتےہیں،ہم اداروں اورریاست کیساتھ کھڑے ہیں،اگر ہم نےڈکٹیشن لیناشروع کردی توطاقتور کون ہوگا سبکو مل بیٹھنا چاہیےہمیں پرتشدد حالات سےنکلناہوگاوزیراعظم ایوان میں آکرپالیسی بیان دیں۔

تفصیلات کےمطابق گزشتہ روز مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی ناکافی شواہد کی بنیاد پر بریت پر ہونےوالے احتجاج اورہنگامی حالات پر وزیر اعظم عمران خان نے قوم سےخطاب کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے، اس حوالے سے عوام کو اکسانے والوں کے خلاف ریاست ایکشن لے گی۔

جمعرات کو سابق اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نےقومی اسمبلی میں وزیراعظم کی گزشتہ روزکی تقریرکےحوالےسےاظہارخیال کرتی ہوئے کہاکہ آج ملک میں نارمل صورتحال نہیں ہے،ملک میں معمولات زندگی متاثرہیں،آج تشددہورہاہے،ہائی ویزاورراستےبند ہیں،لوگ گھروں میں بند ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کبوتر کی طرح ہماری آنکھیں بند ہیں،سوشل میڈیا پرسب نظرآرہاہے،وزیر اعظم لوگوں کی باتیں دہرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ایوان میں وزیر اعظم کو یہاں ہونا چاہیےتھا،گزشتہ روز تقریرمیں وزیراعظم کےباڈی لینگویج سےلگ رہاتھا کہ وہ باہر نکل کر لڑنےوالے ہیں،جو ان لوگوں نےکہا یا نہیں کہا وہ وزیر اعظم نے کہہ دیا۔

سید خورشید شاہ نے کہاکہ وزیراعظم کے ہر لفظ میں پالیسی ہوتی ہے، وزیر اعظم کی تقریر کی مذمت کرتا ہوں۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ میں اپنے ملک اور ریاست کی اہمیت جانتا ہوں،ہم ووٹ بینک کی بات نہیں کر رہے، ملک میں انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ کسی بھی سیاستدان کے موقف میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے، سیاستدان جو آج بولتا ہے کل بھی اسے اپنے کہے پر قائم رہنا چاہیے۔

یہ وہی لوگ ہیں جن کو عمران خان کہتےتھےکہ دل کرتا ہےآپ کےساتھ بیٹھ جاؤں۔انہوں نےکہاکہ ہم حکومت پرحملہ نہیں کرناچاہتے اور نہ ہی لڑائی چاہتے ہیں،ہم اداروں اورریاست کیساتھ کھڑےہیں،اگر ہم نےڈکٹیشن لیناشروع کردی تو طاقتور کون ہوگا۔

سید خورشید شاہ نےکہاکہ عدالتی فیصلےکےبعد جو ہورہاہےاس پر مل کر بیٹھنا چاہیے،حکومت موجودہ حالات میں اپوزیشن کو ساتھ لےکر چلے، میں مل کر سوچنا چاہیےکہ ریاست کے ساتھ کیا ہورہاہے،ہمیں پرتشدد حالات سے نکلنا چاہیے۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن سے شکوہ نہ کریں، اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سنجیدہ کردار ادا کر رہی ہے ہم سمیت کوئی بھی نہیں چاہے گا ملک کے حالات بگڑے ہوئے ہوں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ حالات دیکھ رہے ہیں کوئی ایسا مسلمان نہیں جو محمد ۖ کی شان میں گستاخی برداشت کرے اس نام پر مسلمان کٹ مرنے کو تیار ہیں۔

سید خورشید شاہ نےکہا کہ ہم چاہتےہیں حالات تبدیل ہوں پارلیمنٹ سےیکجہتی کا پیغام جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی رہنما نےوزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتےہوئےکہا کہ ایک وقت تھا جب چینی صدر شی جن پنگ پاکستان آرہے تھے اور آپ کنٹینر پر چڑھےتھے،آج آپ چین جا رہے ہیں۔

انہوں نےکہاکہ حکومت کو چاہیےکہ کھل کربولے،لیکن وزیراعظم کواس ایوان سےبھاگنا نہیں چاہیے۔

خورشید شاہ نےکہاکہ یہی بات کل جب میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو کہتاتھا تو پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری اور شفقت محمود ڈیسک بجاتے تھے،میرے موقف میں تبدیلی نہیں ہے آپ کے موقف میں آ گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.