Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

فسادی سیاستدانوں کوخلامیں بھیجاگیاتوحکومتی بینچز خالی ہوجائیں گی۔خورشید شاہ

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ فسادی سیاستدانوں کو خلاء میں بھیجنے کا کہا گیا ہے اگر ایسا ہو تو حکومتی بینچز خالی ہوجائیں گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اسپارکو نے خلاء میں لوگوں کو لے جانے کے لیے 5 سال کا ڈیٹا مانگا ہے اور میری درخواست ہے کہ پانچ سال کی بجائے تین چار ماہ کا ڈیٹا مانگیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا اسپارکو کو کہا گیا کہ فسادیوں کو خلاء میں بھیجا جائے اور واپس نہ آنے دیا جائے، کتنی اچھی بات کی گئی، خورشید شاہ نے حکومتی بینچز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا اس طرح تو اس طرف کا ایوان خالی ہوجائے گا کیونکہ سارا فساد تو انہوں نے شروع کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم فسادی نہیں امن پسند ہیں، ہم نے ہڑتالیں نہیں کیں، یہ کنٹینر پرچڑھتے تھےہم انہیں اتارکرلاتے تھے۔

اس موقع پروزیرمملکت برائےپارلیمانی امورعلی محمد خان نےکہاکہ خورشید شاہ نےخلاءمیں بھیجنےکی جوتجاویزدیں ان پرغورکیا جائےگا۔

یاد رہےکہ وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نےگزشتہ روزمیڈیا سےبات کرتےہوئےکہاتھا کہ اسپارکو سےدرخواست کروںگا جو یہاں فساد فی الارض پھیلارہےہیں اُنہیں خلاءمیں بھیج دیں توہماری بچت ہوجائےگی،کچھ سیاستدانوں کابھی یہ علاج ہےتاکہ پاکستان کی جان چھوٹ جائے۔

آج قومی اسمبلی آمد کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ قائد حزب اختلاف کا پیکج چیک کریں جو انہیں سابقہ حکومت سے ملا تھا، جو فساد فی الارض پھیلا رہے ہیں ، وہ دو سے تین تعداد میں ہر جماعت میں ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمیں لوگوں کا انتظام کرنا ہے، ہم نے آسان حل بتایا ہے کہ فساد بھی نہ ہو اور زمین بھی پاک ہو جائے، اپوزیشن والوں کوشوق ہے تو ان کی خلائی مخلوق سے بھی ملاقات ہو جائے۔

خورشید شاہ نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوستوں نے بے نظیر ائیر پورٹ کا نام اسلام آباد ائیر پورٹ رکھ دیا، شہید بے نظیر جمہوریت کے لئے رول ماڈل تھیں، ان کے مخالفین بھی ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرانے ائیر پورٹ کو بھی نور خان ائیر بیس کہا جا رہا ہے تاہم ہمیں فکر نہیں، بے نظیر کا نام جمہوریت کے ساتھ جڑا رہے گا، بھٹو خاندان کا نام قائم رہے گا اس عداوت پر ہم احتجاج بھی نہیں کریں گے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پہلے قائد اعظم کا پاکستان کہتے تھے آج نیا پاکستان کہتے ہیں، آج کل یہ رواج چل پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل پارلیمنٹ میں نا خوشگوار واقعہ ہوا، اسپیکر نے آج ہماری درخواست پر سب کو بلایا، اپوزیشن ایک گھنٹہ انتظار کرتی رہی، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی بے عزتی کی لیکن حکومتی رکن نہیں آیا، زبانیں اور ہاتھ ہمارے بھی کھلے ہیں، کسی کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں نہیں ہیں، حکومت ماحول کو بہتر بنائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.