Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

ماحولیاتی آلودگی کا سب سےبڑا باعث پلاسٹک بیگز بن رہےہیں.شہرام ترکئی

پولی تھین بیگز پر پابندی میں حائل مسائل اور رکاوٹوں کو دور کر کے اپنے ماحول کو اس عنفریت سے آزاد کرائیں گے،وزیربلدیات خیبرپختونخوا

پشاور۔خیبرپختونخوا کےوزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نےکہاہےکہ ماحولیاتی آلودگی کا سب سےبڑا باعث پلاسٹک بیگزبن رہےہیں اور ان کا بےتحاشہ استعمال ماحولیاتی نظام(Ecosystem)کو منفی طورپرمتاثرکررہا ہے۔

انہوں نےکہاکہ پولی تھین بیگزپرپابندی میں حائل مسائل اوررکاوٹوں کو دورکرکےاپنےماحول کو اس عنفریت سےآزاد کرائیں گے۔ان خیالات کا اظہاراُنہوں نے پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کےوفد سےاپنےدفتر میں ملاقات کےدوران کیاجس میں سیکرٹری بلدیات ظاہرشاہ،سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ خضر حیات خان،ڈبلیو ایس ایس پشاور کےسی ای او انجنیئر خان زیب،پی ایچ اے کےڈاکٹر شیرازاحمد خان، ڈاکٹر توصیف اسماعیل اور ڈاکٹر افشاں تبسّم موجود تھیں۔

پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کے وفد نےوزیر بلدیات کو پلاسٹک بیگزکےاستعمال سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات اور اس کے انسانی زندگی اور معاشرے پر منفی اثرات کےبارے میں بریفنگ دی۔ پی ایچ اے کےسفیربرائے پلاسٹک پولوش کنٹرول ڈاکٹر توصیف کابریفنگ دیتےہوئے کہنا تھا کہ پلاسٹک کےشاپرز اورریپرزسے پرندے اور آبی حیات محفوظ نہیں۔ یہ بائیو ڈی گریڈایبل نہ ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک ہزار سال تک حل نہیں ہوتے اور نالیوں کی بندش، آرضی خوبصورتی کی تباہی اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کی صورت میں نظر آتےہیں۔

وفد کا کہنا تھا کہ پلاسٹک سے بنےہرطرح کے بیگز پر مکمل پابندی ہونی چاہیئے اور ان کے استعمال سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا چاہیئے۔

وفد نےحکام کو بتایاکہ اس حوالےسےآگاہی مہم چلانےکی منصوبہ بندی کی جارہی ہےجس میں پلاسٹک کم سےکم بیکزاستعمال اوران کی جگہ بائیو ڈگریڈایبل بیگز کےاستعمال کو فروغ دیا جائےگا۔

اس موقع پرصوبائی وزیربلدیات شہرام خان ترکئی کا کہنا تھا کہ وہ ماحول کی خرابی کا باعث بننےوالےاس عنفریت کےخاتمےکےلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کےساتھ بات چیت کریں گے۔

انہوں نےوفد کو یقین دلایا کہ پلاسٹک کےبیگزکےکم سےکم استعمال اورمتبادل بائیو ڈگریڈایبل بیگزکےفروغ کےلئےآگاہی مہم چلانےکےلئے پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن سے ہر ممکن تعاون بھی کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.