Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

منبج میں قیام امن کی ذمہ داری اٹھانےکو تیارہیں،ترک صدرکا ٹرمپ کو پیغام

منبج میں ہونے والے حملے میں چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ اشتعال انگیز ہے،ترک صدر

انقرہ۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نےکہاہےکہ ان کا ملک شام کے کرد اکثریتی سرحدی شہر منبج میں قیام امن کے لیے فوری اقدامات کے لیے تیار ہے۔ترک ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیا کہ صدر ایردآن نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلیفون پرکہا کہ ترکی منبج میں بلا تاخیر قیام امن کےلیےتیار ہے۔

ترک صدر نے منبج میں گذشتہ ہفتے امریکی فوجیوں پرہونے والے حملے میں چار فوجیوں کی ہلاکت کےواقعےکو اشتعال انگیز قراردیتے ہوئےکہاکہ اس حملےکا مقصد منبج سےامریکی فوج کے انخلاء کو روکنے کی کوشش کرنا تھا۔

ترکی کا کہناتھا کہ ٹرمپ اور ایردوآن نے شام میں داعش کو شکست دینے کےلیےمل کرکام جاری رکھنےسےاتفاق کیا ہے۔امریکی بیان کے چند گھنٹےبعد وائیٹ ہائوس کی طرف سےبھی ایک جاری کیا گیا جس میں کہا گیاہےکہ ترک اورامریکی صدور نےشمال مشرقی شام میں پرامن تصفیے کےلیےدبائو بڑھانے،دونوں ملکوں کےمشترکہ مفادات کےتحفظ اور ترکی اورامریکا کےدرمیان تجارتی روابط بڑھانےپراتفاق کیا ہے۔

وائیٹ ہائوس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ صدر طیب ایردوآن نے ٹیلیفون کرکے امریکی صدر سے منبج میں گذشتہ ہفتے چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ خیال رہے کہ منبج میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں 4 امریکی فوجیوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔منبج شام کا کرد اکثریتی علاقہ ہےجہاں ترکی اپنی فوج داخل کرنےاورکرد ملیشیا کو وہاں سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.