Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

وزارت قانون نے فوجی عدالتوں میں توسیع کی سمری کی توثیق کر دی

احتساب اداروں کو اختیارات سے تجاوز کرنے سے روکنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں حکام وزارت قانون و انصاف ...جب تک اس ملک میں عدلیہ اور پولیس ٹھیک نہیں ہوگی ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا.چیئر مین کمیٹی ریاض فتیانہ

اسلام آباد۔وزارت قانون نےفوجی عدالتوں میں توسیع کی سمری کی توثیق کرتےہوئےکہاہےکہ احتساب اداروں کو اختیارات سے تجاوز کرنے سےروکنےکیلئےاقدامات کررہے ہیں۔

بدھ کواسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کااجلاس ریاض فتیانہ کی زیرصدارت ہواجس میں شہبازشریف،سعد رفیق، رانا ثناءاللہ،نوید قمر اور نفیسہ شاہ نے بھی شرکت کی۔وزارت قانون و انصاف کےحکام نےبریفنگ دیتےہوئےبتایاکہ احتساب کے قانون میں ترامیم سے متعلق چار اجلاس ہوچکے ہیں، احتساب کے محکموں کو اختیارات سے تجاوز کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

ن لیگ کےرہنما رانا ثناللہ نےپوچھاکہ اس قانون میں ترمیم کا مسودہ تیار کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟جس پر وزارت قانون کے حکام نے جواب دیا کہ ایک سے دو ماہ لگ جائیں گے۔

رانا ثناللہ نےکہاکہ آپ لوگ ڈیڑھ ماہ لے لیں مگر تین ماہ نہیں لگنے چاہئیں۔رانا ثنااللہ نے سوال کیا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے متعلق کیا فیصلہ کیا؟۔

حکام نے بتایا کہ فوجی عدالتوں کی توسیع وزارت داخلہ کا معاملہ ہےاوروزارت قانون میں اس حوالےسےکوئی تجویز نہیں آئی۔

سیکرٹری قانون و انصاف نےلاعلمی کااظہارکیاکہ مجھےملٹری کورٹس کےحوالےسےوزارت داخلہ کی سمری کےبارے میں علم نہیں تھا۔

مشیرقانون حاکم خان نےبتایاکہ فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونےمیں کم عرصہ رہ گیاہے،ملٹری کورٹس میں توسیع کےحوالےسےوزارت داخلہ کی طرف سےایک سمری آئی تھی،وزارت داخلہ نےکہاتھا کہ ملٹری کورٹس میں توسیع سےمتعلق سمری وفاقی کابینہ کوبھجوانا چاہتے ہیں،ہم نےملٹری کورٹ سےمتعلق وزارت داخلہ کی سمری کی توثیق کرکے بھیج دیاہے،تاہم سمری میں یہ نہیں بتایاگیاکہ وزارت داخلہ ملٹری کورٹس میں کتنے عرصے کی توسیع چاہتی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے خصوصی عدالتوں سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرتےہوئےوزارت قانون کو اہم مقدمات کےعدالتی فیصلوں سےمتعلق ویب سائٹ قائم کرنے کا حکم بھی دیا اور فیڈرل ٹربیونل میں زیر التوا کیسز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

چیئرمین کمیٹی نےکہاکہ جب تک اس ملک میں عدلیہ اورپولیس ٹھیک نہیں ہوگی ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا،ایک دو ریٹائرڈ ججزکوجانتاہوں کہ وہ اپنا فیصلہ بھی نہیں لکھ سکتے تھے، ججز کی تقرریوں کے متعلق بھی بریفنگ دی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.