Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

وفاقی بجٹ کی منظوری سےقبل تاجربرادری کےتحفظات دورکیےجائیں.اسد عمر

پبلک سیکٹر انٹرپرائززکی نجکاری مکمل حل نہیں بلکہ حل کاایک حصہ ہے،تاجربرادری کےتحفظات دورکرنےکرداراداکرینگے.سابق وفاقی وزیر خزانہ

لاہور۔سابق وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنےکہاکہ وفاقی بجٹ کی منظوری سےقبل تاجربرادری کےتحفظات دورکیےجائیں تاکہ اسےحقیقی معنوں میں کاروباردوست بنایاجاسکے۔زیر ریٹنگ کی سہولت کےخاتمےکی وجہ سے کاروباری برادری سخت پریشان ہے،جب تک ریفنڈز کا کوئی موثر نظام نہ ہواس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔

ان خیالات کااظہار لاہورچیمبرکےصدرالماس حیدر،سینئر نائب صدرخواجہ شہزاد ناصراورنائب صدرفہیم الرحمن سہگل نےاسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور اکنامک افیئرز کے چیئرمین اسد عمر سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔

انہوں نےکہاکہ وفاقی بجٹ کی منظوری سےقبل تاجربرادری کےتحفظات دورکیےجائیں تاکہ اسےحقیقی معنوں میں کاروباردوست بنایا جاسکے۔

زیر ریٹنگ کی سہولت کےخاتمےکی وجہ سےکاروباری برادری سخت پریشان ہے،جب تک ریفنڈزکاکوئی موثرنظام نہ ہواس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔

ایک سوال کےجواب میں انہوں نےکہاکہ پبلک سیکٹر انٹرپرائززکی نجکاری مکمل حل نہیں بلکہ حل کا ایک حصہ ہے۔انہوں نےکہاکہ وہ تاجر برادری کےتحفظات دور کرنےکےلیے بھرپورکردار ادا کریں گے،جب وہ وزیرخزانہ تھےتوآئی ایم ایف ان پرمارک اپ کی شرح میں یکمشت چھ فیصد اضافہ کرنےکےلیےدبائو ڈال رہاتھا مگر صنعت و تجارت کےوسیع تر مفاد میں انہوں نےاسے مسترد کردیا۔

انہوں نےلاہور چیمبر کےصدر کی تجویز سےاتفاق کرتےہوئےکہا کہ ریفنڈز کا باقاعدہ مکینزم ہونا چاہیےاورکوئی بھی مکینزم اچانک نافذ کرنے کےبجائےپہلے اس کا تجربہ ہونا چاہیے۔

انہوں نےاس تجویزسےبھی اتفاق کیا کہ جیولری کےکاروبارسےوابستہ لوگوں کو اثاثہ جات ظاہرکرنےکی سکیم سےاستفادہ کرنےکی اجازت ہونی چاہیے۔لاہورچیمبر کےصدرالماس حیدر،سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصراورنائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ معاشی ترقی میں تاجر برادری کا کردار بہت اہم ہے لہذا اس کےتحفظات دور کرکےسکون سے کاروبار کرنےکا موقع فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے موثر اور جامع سسٹم متعارف کرائے،75فیصد ریفنڈز بل آف لیڈنگ کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کے لیے اسی وقت بینکوں کے ذریعے ادا کردئیے جائیں جبکہ بقیہ تیس دن بعد ایکسپورٹ کا عمل آگے بڑھنے پر ادا کردئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لاہور چیمبر کے مطالبے پر خام مال سمیت 1600آئٹمز پر ڈیوٹیاں زیروکردی ہیں۔

انہوں نےکہاکہ تمام2800آئٹمزپرڈیوٹیاں صفرہونی چاہیےجس سےصنعتوں کی استعداد کاراوربعد ازاں حکومتی محاصل بڑھیں گے۔انہوں نےکہاکہ ملک ٹیکس دہندگان سےحاصل کردہ رقم نقصان دہ پبلک سیکٹرانٹرپرائززپرخرچ کرنےکا متحمل نہیں ہوسکتا،حکومت کوان کے بارےمیں فیصلہ کرناچاہیے۔

انہوں نےکہاکہ اٹھارہویں ترمیم کےبعد بہت سےاختیارات صوبوں کو منتقل ہوئےمگروفاقی سطح پران سے متعلقہ وزارتیں تبدیل شدہ ناموں کےساتھ موجود ہیں،غیرضروری اخراجات ختم کرنےکےلیےان معاملات پرخصوصی توجہ دینا ہوگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.