Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

پاکستانی حکومت نےکالعدم تنظیموں اوراس سےتعلق رکھنےوالےافراد کےبینک اکاؤنٹس اور اثاثےمنجمد کردیئے

اسلام آباد-پاکستانی حکومت نے کالعدم تنظیموں اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثےمنجمد کردیئے۔

آسٹریلوی شہر سڈنی میں ہونے والے پاکستان اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایشیا پیسفک گروپ کے مابین اجلاس میں پاکستانی وفد نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو ملنے والی مالی امداد سے متعلق بریفنگ دی۔

پاکستان وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کی شق 1267اور1373 پر سختی سے عمل پیرا ہے، دہشت گردی کیخلاف فنڈنگ کی روک تھام سے متعلق ٹھوس اقدامت اٹھائے ہیں، کالعدم تنظمیوں کیخلاف ایکشن پر بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظمیوں کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمند کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی سماجی جماعت فلاح انسانیت فاونڈیشن کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں، جب کہ دیگر کالعدم تنظیموں داعش، طالبان، القاعدہ، لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افراد اور جماعتوں کے بینک اکاؤنٹس بھی بند کردیئے گئے ہیں۔

ایشیا پیسفک گروپ کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی رپورٹ ایف اے ٹی ایف سربراہی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ گروپ کی جانب سے پاکستان کو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور نیکٹا کے حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، جب کہ قوانین پر عملدرآمد کیلئے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کامزید کہناہےکہ ریئل اسٹیٹ بزنس سب سےزیادہ منی لانڈرنگ کا سبب بن رہا ہےتاہم وفاقی اورصوبائی سطح پراینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس بنانےکا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔اس کے علاوہ ایف آئی اے ایکٹ 1974ءاور اسٹیٹ بینک ایکٹ 1947ءمیں بھی ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کا نام گرے لسٹ سےنکالنےکےلیے حکام کی جانب سے منی لانڈرنگ کےخلاف کیےگئےاقدامات کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔اس سےقبل سال 2017میں منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت کےالزام میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سےپاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیاگیاتھا،جسکےبعد ایشیاءپیسیفک ٹیم کوپاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ قوانین مزید سخت کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

واضح رہےکہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مذاکرات کےلیےجانےوالےوفد کی قیادت سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کررہے ہیں،جبکہ دیگر اراکین میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی)،نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی(نیکٹا)،وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)،وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے نمائندے شامل ہیں۔ دونوں کے درمیان تین روزہ مذاکرات کا دور 10 جنوری تک جاری رہے گا۔

گزشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2015 سے اب تک دہشت گردوں کی مالی معاونت کے سلسلے میں رقم کی 4 ہزار 6 سو 43 مشتبہ منتقلیوں کی نشاندہی ہوئی جو بلاک کردی گئیں، سال 2018 میں مجموعی طور پر ایک ہزار ایک سو 67 ٹرانزیکشنز پکڑی گئیں جس میں 9 سو 75 مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹ جبکہ 2 سو 10 خفیہ مالیاتی رپورٹس پر سامنے آئیں۔

جاری رپورٹ میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے 2 انتہائی اہم راستوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد اور پاکستان اور ایران کی سرحد شامل ہے، جہاں سے اس قسم کی رقوم منتقل ہوتی ہیں، جب کہ طویل ساحلی پٹی بھی اسمگلنگ کا بڑا ذریعہ ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میرین کوسٹ گارڈز کی مدد سے سیکیورٹی بہتر بنائی گئی اور افغانستان جانے والا تجارتی سامان بھی اس غیر اندراج شدہ مالی منتقلیوں کی وجہ ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع میں عطیات، رقم کی اسمگلنگ، قدرتی وسائل، منشیات،این جی اوزاوربین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔ ایف بی آرکی جانب سے 2015 سےاب تک ایک ہزار ایک سو 85 ٹرانز یکشنز، ایس بی پی نے ایک ہزار 49 جب کہ ایف آئی اے نے ایک ہزار 2 سو 95 ٹرانزیکشنز کا سراغ لگایا۔

غورطلب بات یہ بھی ہےکہ پاکستان ان 83ممالک میں شامل ہے،جہاں منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کو مالی معاونت کی جڑیں زیادہ شدت سے پیوست ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.