Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے.شاہ محمود قریشی

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں' خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کے لئے سیاسی حل تلاش کرنا پڑیگا. وزیر خاجہ

اسلام آباد۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےواضح کیاہےکہ پاکستان اور بھارت کےدرمیان مذاکرات کےعلاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں’پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے’خطےکےدیگر ممالک کےساتھ مل کرافغانستان میں قیام امن کےلئےسیاسی حل تلاش کرنا پڑیگا۔

پیرکو جمعیت علماء اسلام(ف)کے رکن مولانا واسع کی طرف سےاٹھائےگئےنکات کےجواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کے جواب میں کہا کہ خارجہ پالیسی پر تفصیلی بحث کا خیر مقدم کریں گےیہ حکومت کی رہنمائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اگر ہم امن اور استحکام چاہتے ہیں تو اس کا سیاسی حل تلاش کرنا پڑیگا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام ہماری ضرورت ہے۔

اس کے لئے افغانستان میں مختلف فریقین کےدرمیان مذاکرات اورگفت وشنید کےذریعے بات آگےبڑھائی جائے۔پاکستان اس سارے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ہم افغانستان میں امن اوراستحکام کے خواہاں ہیں۔اس حوالے سے دوحا اور یو اے ای میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ تاجکستان’ ایران چین سمیت پڑوسی ممالک کی مدد درکار ہوگی۔ ان تمام ممالک کی مدد سے آگے بڑھیں گے۔

اس معاملےپرخوش قسمتی سےکسی پارٹی نےاختلاف رائےظاہرنہیں کیا۔کرتارپورکوریڈور کےحوالےسے نکتہ کاجواب دیتےہوئےشاہ محمود قریشی نےکہاکہ یہ مسئلہ1988ء سے2018ء تک طویل عرصہ سے زیر غور رہا مگر پیشرفت نہ ہو سکی۔

اب اس مسئلہ پر پیش رفت ہوئی ہےجس کا دنیا بھر میں موجود سکھ کمیونٹی نےخیر مقدم کیاہے۔بی جےپی کی حکومت نےنہ چاہتےہوئے بھی ہمارےاس اقدام کو نہ صرف قبول کیابلکہ اپنےدو وزراءبھی تقریب میں بھیجے۔پاکستان کی عالمی سطح پرساکھ پراس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی الیکشن کے بعد بھارت کی جو بھی حکومت برسراقتدار آئی وہ ہمارے ساتھ اپنے رویے کی نظرثانی کرے گا۔ کیونکہ مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

قبل ازیں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارےایک لاکھ کےقریب فوجیوں اور سول افراد نےجانوں کےنذرانے پیش کئےاوراربوں ڈالرکا نقصان ہوا۔ٹرمپ کےبیان پرحکومت کی طرف سےیہ بیان کہ ہم پرائی جنگ میں حصہ نہیں لیںگے’بڑا خوش آئند اورعوامی توقعات کےمطابق ہے۔پاکستان کےاتنےبڑے جانی و مالی نقصانات سمیت کرتار پور کوریڈور کھولنےکےحوالےسےخارجہ پالیسی پر تفصیلی بحث کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.