Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

پولیس مقابلہ خود ساختہ:نقیب اللہ محسود قتل ماورائے عدالت قرار

راؤ انوار اور اسکےساتھی جائےوقوعہ پرموجود تھے۔انکوائری رپورٹ

کراچی:انسدادِ دہشتگردی عدالت نےتحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نقیب اللہ کےقتل کو ماورائےعدالت قرار دےدیا۔کراچی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی تو واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے رپورٹ کی روشنی میں نقیب اللہ سمیت 4 نوجوانوں کے قتل کو ماورائے عدالت قرار دے دیا، جبکہ پولیس کی جانب سے چاروں مقتولین کے خلاف درج 5 مقدمات بھی ختم کرنے کی منظوری دے دی۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ نقیب اللہ، صابر، نذر جان اور اسحاق کو داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد قرار دیکر ویران مقام پر قتل کیا گیا، انکوائری کمیٹی اور تفتیشی افسرنے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، راؤ انوار اور اس کے ساتھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔
نقیب اللہ اور چاروں افراد کو کمرے میں قتل کرنے کے بعد اسلحہ اور گولیاں ڈالی گئیں، حالات و واقعات اور شواہد کی روشنی میں یہ مقابلہ خود ساختہ، جھوٹا اور بے بنیاد تھا، پولٹری فارم میں نہ ہی گولیوں کے نشان ملے اور نہ ہی دستی بم پھٹنے کے آثار ملے۔

یاد رہے کہ13جنوری 2018 کو کراچی کےضلع ملیرمیں اس وقت کےایس ایس پی ملیرراؤ انوار کی جانب سے یک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیاگیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہواکہ ہلاک کئےگئےلوگ دہشتگرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سےاٹھائےگئےبے گناہ شہری تھےجنہیں ماورائےعدالت قتل کردیا گیا۔جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونےوالےایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کےنام سے ہوئی۔

سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.