Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

کس بنیاد پر کے پی کے کو صحت اور تعلیم میں جنت بنانے کی بات کرتے ہیں…چیف جسٹس

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبے میں ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں لوگ جانوروں کی طرح رہ رہے ہیں، لوگ اپنے گھروں میں جانور اور کتے بھی ایسے نہیں رکھتے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ خیبرپختونخوا کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ پبلک ہسپتالوں کا سروے مکمل کروا لیا گیا، صوبے میں 63 سرکاری ہسپتال ہے اور ان سے یومیہ 4 ہزار کلو گرام فضلہ نکلتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس فضلے کو ٹھکانے لگانے کی کتنی صلاحیت ہے، جس پر صوبے کے سیکریٹری صحت نے جواب دیا کہ ہماری صلاحیت 36 سو کلو گرام فضلے ٹھکانے لگانے کی ہے، 4 سو اسی کلو گرام فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں لوگ جانوروں کی طرح رہ رہے ہیں، اس طرح لوگ اپنے گھروں میں جانور اور کتے نہیں رکھتے، ہسپتالوں میں زائد المعیاد ادویات نکلتی ہیں، آپ بلند دعوے کرتے ہیں کے پی کے کو جنت بنا دیا ہے، میں تو کہتا ہوں چلیں چل کر ہسپتال کی حالت دیکھ لیتے ہیں۔

چیف جسٹس کی جانب سے کے پی کے کی صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبہ کی کارگردگی پر بھی اظہار عدم اطمینان کیا گیا انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کس بنیاد پر کے پی کے کو صحت اور تعلیم میں جنت بنانے کی بات کرتے ہیں، مریضوں کو ادوایات میسر نہیں ہوتیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ذہنی امراض کے ہسپتال کا چند روز میں دورہ کروں گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والے اتنے سالوں سے کہہ رہے تھے کہ ہسپتالوں کی حالت بہترکر دی ہے، 5 سال سے کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، 5 سالوں سے ہسپتالوں میں فضلہ ٹھکانے کا نظام نصب نہیں کر سکے؟

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے فضلہ ٹھکانے لگانے کے نظام کی تنصیب کے بارے میں ماہانہ بنیادوں پر کام کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ماہ تک کے لیے ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.