Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

کیلی فورنیا کے جنگلات میں آگ بجھائی نہ جاسکی، ہلاکتیں 49 ہوگئیں

کیلی فورنیا: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگی خوفناک آگ کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 49 تک جاپہنچی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کے ساتھ جنگلات میں لگنے والی یہ آگ ریاست کی تاریخ میں سب سے خونریز قرار دی جارہی ہے جس نے 1933 میں لاس اینجلس میں لگنے والی آگ، جس میں 29 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ہلاک افراد کی زیادہ تر لاشیں جلی ہوئی گاڑیوں، جلے ہوئے گھروں کے پاس سے ملی ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ لاشوں کی تلاش جاری ہے جس میں کتوں سے بھی مدد لی جارہی ہے۔
بٹ کاؤنٹی کے شیرف کوئے ہونیا نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتہائی المناک واقعہ ہے، اگر آپ وہاں ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ ہم کس شدت کے واقعے کا سامنا کر رہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو جلد سے جلد نکال سکوں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ 27 ہزار کی آبادی والے علاقے میں لگنے والی آگ کے واقعے کے بعد سے کتنے افراد لاپتہ ہوئے تاہم لاشوں کی شناخت کے لیے ایک موبائل ڈی این اے لیب جائے وقوع پر لایا جا چکا ہے۔
دریں اثناء جہاں آگ کا آغاز ہوا تھا اس زمین کے مالک بیٹسی این کولے کا کہنا تھا کہ انہوں نے آگ لگنے سے ایک ہفتے قبل پیسیفک گیس اینڈ الیکرٹ کمپنی کو ای میل کی تھی جس میں ان سے ان کی یوٹیلیٹی پاور لائنز کو دیکھنے کا کہا گیا تھا کیونکہ وہ مسلسل اسپارک کر رہے تھے۔
کمپنی کی جانب سے اس دعوے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے اور حکام کا کہنا تھاکہ آگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ریاست کے گورنر جیری براؤن نے کہا کہ یہ واقعی ایک المیہ ہے جسے کیلی فورنیا کے عوام سمجھ رہے ہیں اور اس کے مطابق ردعمل دے رہے ہیں، جبکہ ہمیں مل جل کر ان حادثات سے بچنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
کیلی فورنیا نے ٹرمپ انتظامیہ سے ہنگامی بنیاد پر امداد کی درخواست کی ہے، جنہوں نے واقعے کا الزام جنگلات کے انتظامات سنبھالنے میں خرابی کو قرار دیا۔
کیلی فورنیا کے گورنر کا کہنا تھا کہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو یقینی طور پر جنگلات کے انتظامات سنبھالنے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے چاہیے، لیکن موسم میں تبدیلی اس میں بڑی رکاوٹ ہے۔
واضح رہے کہ آگ کے بلند شعلوں کے نتیجے میں کئی ہالی وڈ اسٹارز کے ساحلی گھر بھی تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے، تاہم ان کی جانب سے عام عوام کے نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.