Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

دورہ ایران: عمران خان اور حسن روحانی میں باہمی امور پر مشاورت

0 181

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ یہ بات انہوں نے دورہ ایران کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی، وزیرعظم عمران خان اورایرانی صدرکےدرمیان مختلف امورپر مشاورت بھی کی گئی، عمران خان نے کہا کہ پاکستان خطےمیں امن واستحکام کومضبوط کرنےکا خواہاں ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے ایران پنچنے پرایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ان کا استقبال کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی زلفی بخاری بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود ہیں۔

یہ وزیراعظم کا اس سال ایران کا دوسرا دورہ ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر بھی ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ ترک میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے پاس ایک دوسرے سے بات چیت کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، ہم نے ہمیشہ کے لیے یہاں ساتھ ساتھ رہنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے سعودی عرب کے حالیہ دورے میں ولی عہد محمد بن سلمان نے ان سے ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران مل کر خطے کے استحکام کیلیے کام کرسکتے ہیں، دونوں ممالک سمجھتے ہیں کہ علاقائی مسائل مذاکرات سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔

ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں، خیرسگالی جذبےکے جواب میں خیر سگالی کا مظاہرہ کیا جائےگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ یمن میں فورا ًجنگ بند اور عوام کی مدد کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک سمجھتا ہے خطے میں عدم استحکام کےبدلےکوئی کارروائی نہیں ہوگی تووہ غلطی پر ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکا کو چاہیے کہ ایران پرعائد پابندیاں فوری اٹھائے۔

اس دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ایران اور سعودی عرب میں جنگ نہیں چاہتے، میرے دورے کا اہم مقصد ہے کہ خطےمیں ایک اورتنازع جنم نہ لے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے جبکہ سعودی عرب نے ہرضرورت پر ہماری مدد کی ہے، دونوں ممالک میں جنگ کی صورت میں خطے میں غربت پھیلے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.