Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

ٹک ٹاک کا جنون اب ختم ! تحریر: آمنہ سجاد کیانی

0 11

سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین تو ٹک ٹاک نامی ایپ سے بخوبی واقف ھوں گے کیونکہ آج کل اس ایپ کو پاکستان میں اس قدر پزیرائی حاصل ہے کہ دو سال کا کمسن بچہ بھی اس ایپ کے بارے میں آگاہی رکھتا ہو گا۔ ٹک ٹاک چاہنہ کی ایک مشہور و معروف ایپ ہے ۔ جس کو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی پاکستان کی طرح اس ایپ کو بہت پذیرائی حاصل رہی لیکن یہ چاہنہ کی ایپ ہے اور بھارت اور چاہنہ کے درمیان ہونے والی سیاسی کشیدگیوں کی وجہ سے بھارت نے اس ایپ کو مکمل طور پر بین کر دیا ۔ لیکن پاکستان میں اس ایپ کا استعمال بہت تیزی سے جاری و ساری ہے اور اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اور اس سال تو پاکستان میں ٹک ٹاک کی پذیرائی میں مزید اضافا ہوا کیونکہ گزشتہ مہینوں میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اور ایسی صورتحال میں بچے بوڑھے اور جوان سب تفریح کے لیے اس ایپ کا استعمال زیادہ کرنے لگے ۔ہر شے کے دو مختلف پہلو ہوتے ہیں پہلا مثبت اور دوسرا منفی یہ انسان کی سوچ اور رویوں پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کون سا پہلو اپنے لیے خود چنتا ہے اور اگر دین کی روح سے دیکھا جائے تو اس کے ایمان کی مضبوطی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ کس قدر اپنے نفس کو کنڑول میں رکھ سکتا ہے ۔ میرا یہ بات کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کسی چیز کو اس وقت تک غلط نہیں کہہ سکتے جب تک آپ اس کو پوری طرح سے دیکھ نہ لیں اور پوری طرح سے معائنہ نہ کر لیں ۔ اسی طرح اگر بات ٹک ٹاک کی جائے تو بلکل اسی طرح اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک تو اس میں بہت سارے لوگ اسے اپنے پروفیشن کی طرح لے رہے تھے اور اپنے ہنر کو ان مختصر چند سیکنڈ کی ویڈیوز کے ذریعے جو ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرتے تھے لوگوں تک اپنا ہنر پہنچا رہے تھے اس کے علاوہ اس ایپ کے ذریعے بہت سارے لوگوں کو اپنا ٹیلنٹ اور بہترین صلاحیتیں لوگوں تک پہنچانے کا پلیٹ فارم ملا کیونکہ اس ایپ کی رسائی ہر عام سے خاص شخص تک ممکن تھی ۔ یہ ایپ کچھ تجربہ کار اور ہنر مند لوگوں کے لیے بہت بڑا پلیٹ فارم تھی لیکن ان لوگوں نے اسلامی اقدار اور اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ اور دوسری طرف کچھ لوگ اس ایپ کو بہت منفی طریقے سے استعمال کر رہے تھے اور سارا ماحول آلودہ کیا ہوا تھا نازیبا الفاظ ایک دوسرے پر الزامات فحاشی بےحیائی اور اسلامی اقدار کو پامال کر کے رکھا ہوا تھا اور پھر انہی بےحیاہی فخاشی اور نازیبا مواد اپلوڈ کرنے والوں کے ہزاروں فالوورز اور مزید عجیب بات کہ پھر ان کو ٹک ٹاک سٹار کا اعزازی تمغہ بھی دیا جاتا تھا اور یہی لوگ گھر بیٹھ کے مہینے کے لاکھوں اس ایپ کے ذریعے کما بھی رہے تھے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ سب لوگ اقدار سے ہٹ کر مواد اپلوڈ کرتے تھے لیکن کچھ لوگوں کی وجہ سے اس ایپ کا ماحول ناسازگار ہو چکا تھا جو عوام میں مقبولیت اور فیم حاصل کرنے کے لیے اپنی تہذیب و تمدن کو بھول چکے تھے وہ یہ بھول چکے تھے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ہیں ناکہ کسی مغربی ملک کے ۔ ایک ایسا ملک جو ترقی پذیر ہو اور وہاں کی آدھے سے زیادہ عوام تعلیم یافتہ نہ ہو تو میرے خیال سے وہاں پر ایسی ایپس متعارف کروانا شدید غلطی ہو گی اگر پہلے تعلیم پر توجہ دی جائے تو ایک ترقی پذیر ملک کے لیے یہ ذیادہ مثبت ثابت ہو سکتا ہے ۔ نوجوانوں میں تو اس ایپ کا جنون اس قدر پایا جاتا ہے کے آئے دن خبروں میں بتایا جاتا ہے کہ کتنے ہی نوجوان ٹک ٹاک کی ویڈیو بناتے ہوئے پانی میں ڈوب گئے اونچی جگہ سے گر گئے یا پھر انجانے سے گولی چل گئی اور جانبحق ہو گئے اور دیگر اس طرح کے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں کہی دفعہ حکومت نے اس ایپ کو بند کرنے کے بارے میں سوچا لیکن کچھ رکاوٹوں کی وجہ سے یہ ایپ بین نہ ہوسکی۔ لیکن شاید اب پانی سر سے گزر چکا تھا اس لیے حکومت کو سنجیدہ حکمت عملی کرنے کی ضرورت پڑی اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی اور معاشرے میں فحاشی و بےحیاہی کو فروغ دینے کی وجہ سے پاکستان میں ٹک ٹاک کو بین کر دیا گیا اور یہ حکومت کی جانب سے بہت اچھا اقدام کیا گیا اور حکومت کے اس اقدام کو ہزاروں لوگ سوشل میڈیا پر بھی سرا رہے ہیں وہیں پر کچھ لوگ اس کے خلاف بھی بول رہیں ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کہاں تک عمل درآمد ہوتا ہےاور اس ایپ کی بندش کا سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے ۔ کہیں دوبارہ عوام کی امیدوں پر پانی نہ پھیر دیا جائے اور ٹک ٹاک کو بھی ایک اور مشہور گیم ایپ پب جی کی طرح دوبارہ کھول دیا جائے۔ لیکن اب اگر اسے دوبارہ کھولا بھی گیا تو ایسے افراد جنہوں نے معاشرے کی اخلاقی قدروں کو پامال کیا ہوا ہے اور جو لوگ ایسا مواد اپلوڈ کریں جو غیر اخلاقی ہو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.