Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

اپوزیشن، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پریشان کیوں ؟, تحریر: حضرت خان مہمند

0 86

موجودہ صورتحال میں حکومت ، اپوزیش اور اسٹیبلشمنٹ تینوں شدید اضطراب میں مبتلا ہیں جس کی بنیادی وجہ خود اسٹیبلشمنٹ ہے اپوزیشن اور حکمرانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں اسٹیبلشمنٹ کی کیا حکمت عملی ہوگی جس کے کھیل سے دونوں حکمران اور اپوزیشن لاعلم ہیں حکمران دراصل اس لئے پریشان ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ حزب اختلاف کے احتجاج کی آڑ میں ان کی حکومت ختم ہو انھیں اس بات کا بھی خوف ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان سے ناراض ہے اس لیے وہ کسی بھی وقت اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی کا زینہ بن سکتی ہے اپوزیشن جماعتیں بھی اسٹیبلشمنٹ کی حکمت سے لاعلم ہیں کہ وہ آئندہ کیا کرنے والی ہے ان کی تحریک کے نتیجے میں کیا ہونے جارہا ہے حکمران اور اپوزیشن جماعتیں دراصل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی حکمت عملی سے لاعلم ہیں یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے نالاں ہیں بلکہ وہ عدلیہ کے فیصلوں سے بھی ناخوش ہیں جس کا وہ گاہے بگاہے اظہار کرتے چلے آرہے ہیں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے سے حکمرانوں کی مایوسی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے جس طرح حکمران پریشان ہیں اس قسم کی پریشانی حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی لاحق ہے مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت نے کشتیاں جلا ڈالی ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری حد تک جاچکی ہے اب اس کی سیاست داو پر لگ چکی ہے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کامیابی ملی تو یہ اس کی تاریخی کامیابی تصور ہوگی۔

 

ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور مسلم لیگ کی ناکامی میں اپوزیشن جماعتیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں مسلم لیگ ن کے ایک اعلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی، جمعیت اور اےاین پی اسٹیبلشمنٹ سے الگ الگ ڈیل کرنے جارہی ہیں ان کے مطابق پی پی پی کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں کامیابی دلوائی جائے گی اسی طرح مولانا فضل الرحمن کو آئندہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومتیں دلوانے پر خفیہ ڈیل ہوسکتی ہے اسی طرح اے این پی پہلے ہی سے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھی ہے مسلم لیگ ن کو خدشہ ہے کہ پی ڈی ایم اپوزیشن کی چند جماعتوں کے ذاتی مفادات کیلئے استعمال نہ ہو ۔

مسلم لیگ کی قیادت اسٹیبلشمنٹ سے اس لئے نالاں ہے کہ میاں شہباز شریف کو اس کے تعاون کا صلہ نہیں دیا گیا بلکہ انھیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا لیگی قیادت کے مطابق قانون سازی میں اسٹیبلشمنٹ کہنے پر حکومت کا ساتھ دیا گیا حالانکہ یہ اس کیلئے کٹھن اور تلخ فیصلہ تھا مسلم لیگ ن کی قیادت کے حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کے بارے میں تحفظات اور خدشات ہیں جن کا وہ اظہار اس لئے نہیں کررہی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تحریک کو نقصان پہنچے
حکمرانوں کے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق خوف اپنی جگہ اس لئے درست ہے کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے ارکان کی ایک خاصی تعداد اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چل رہی ہے اشارہ ہوتے ہی حکومت دھڑام سے گر جائے گی اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے مزاج سے حکمران اور اپوزیشن جماعتیں لاعلم ہیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ملک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے معیشیت کی کشتی ڈوب رہی ہے مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت کو اشکارہ کرنے کا اقدام مقتدر قوتوں کیلئے کمزوری کا باعث بن رہا ہے تاریخ میں شاید پہلی بار اسٹیبلشمنٹ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اسے بے توقیر کیا جارہا ہے سیاسی جماعتوں اور بعض دیگر قوتوں کی جانب سے قومی اداروں کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی خطرے کی علامت ہیں آنے والے وقتوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ کسی کو معلوم نہیں یہ تشویش ہر کسی کو ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خود بھی پریشان ہے کہ اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں توانا ہوتی جاری ہیں اب عام شہریوں کے دلوں میں اسٹیبلشمنٹ سے متعلق جو خوف تھا وہ ختم ہوتا جارہا ہے بے چینی کا یہ لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے دسمبر اور جنوری کے مہینے میں تبدیلی کی ہوا چل پڑ سکتی ہے ہوا کا رخ کس جانب ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.