Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

پاکستان ٹیلی ویژن کی کہانی – شبیر ابن عادل

0 414

پی ٹی وی کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تحریر

ہمارے محلے میں سب سے پہلے جمیل قصائی نے ٹیلی ویژن سیٹ خریدا تھا۔ جمیل قصائی کے ہاں ٹیلی ویژن کا آنا تھا کہ پورے محلے میں کہرام مچ گیا، ہر ایک اپنی جمع پونجی گننے اور قرض ادھار کے چکر میں پڑگیا۔ جمیل بھائی نے ٹی وی گھر میں رکھنے کے بجائے بانس کا ایک مچان بنا کر اس پر رکھ دیا، بس پھر کیا تھا لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔ جن میں بوڑھے، بچے، مرد اور عورتیں سب ہی شامل تھے۔ ابتدائی دور میں ٹیلی ویژن نشریات صرف چار گھنٹے یعنی شام چھ بجے سے رات دس بجے تک ہواکرتی تھیں۔ اس دور میں امیر، متوسط اور غریب طبقے کی بستیاں الگ الگ نہیں ہوتی تھیں۔ سب ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔
ملک میں ٹیلی ویژن کا آغاز 26 نومبر 1964ء کو لاہور سے ہوا۔ اس کے بعد کراچی میں پاکستان ٹیلی ویژن (یا پی ٹی وی) اسٹیشن نے 2 نومبر 1967ء سے اپنی نشریات شروع کیں۔ کراچی کے علاوہ راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی ٹی وی اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، میری عمر اُس وقت گیارہ سال تھی، جب کراچی میں ٹیلی ویژن اسٹیشن نے اپنی نشریات شروع کیں۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن سیٹ کی قیمت گیارہ بارہ سو روپے تھی۔ جب کہ لوگوں کی اوسط تنخواہ یا آمدنی ڈیڑھ دوسو روپے ہوا کرتی تھی۔ اس اعتبار سے ٹی وی خریدنا ہر ایک کے بس کی بات نہ تھی۔ بہرحال ہمارے ابو نومبر 1967ء کے آخر تک ٹی وی سیٹ خرید لائے۔ اُس دن گھر میں گویا جشن کا سا سماں تھا۔ الیکٹریشن نے آکر چھت پر انٹینا لگایا اور ٹیلی ویژن سیٹ آن کردیا۔ گھر میں سب ہی جمع تھے۔ پورا ڈرائنگ روم کھچا کھچ بھر گیا تھا، جس میں ہمارے تایا، چچا، پھوپھی، نانا، نانی اور دیگر رشتے داروں کے علاوہ محلے کی خواتین اور بچے۔ سب ایک دوسرے میں ٹھنسے ہوئے بیٹھے تھے اور گلی میں کھلنے والی کھڑکیوں سے بہت سے سر جھانک رہے تھے۔
شام کے ساڑھے پانچ بجے ٹی وی سیٹ آن ہوا تو سب نے زور زور سے تالیاں بجائیں۔ لیکن اس وقت اسکرین پر ایک ساکت تصویر تھی اور کسی موسیقی کی دھن (Signature Tune) بج رہی تھی۔ اسی کو سب بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ شام چھ بجے جب نشریات شروع ہوئیں تو پہلے تلاوت قرآن سے آغاز ہوا۔ اس کے بعد کسی پروگرام میں میزبان کچھ کہہ رہا تھا تو ہماری پھوپھی اماں نے شرما کر اپنے چہرے دوپٹے سے ڈھانپتے ہوئے کہا کہ یہ موا تو مجھے دیکھ رہا ہے۔ اس پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

پھر نشریات دیکھنے کا یہ سلسلہ جاری رہا، محلے میں دیگر لوگوں نے ٹی وی سیٹ لئے تو ہمارے گھر سے رش میں تھوڑی بہت کمی آگئی۔ لیکن روزانہ چار گھنٹے کی نشریات میں سب لوگ مسلسل ٹی وی دیکھتے رہتے، حیرانی کے ساتھ۔۔ اس میں سیاسی ٹاک شو ہوں، خبریں ہو، بچوں کے پروگرام یا ڈرامے۔ اس زمانے میں ڈرامے ریکارڈ نہیں ہوتے بلکہ لائیو (Live) آیا کرتے تھے۔ جب ایک لائیو پروگرام ختم ہوتا تو اس کے بعد درآمدی یا دستاویزی فلم لگا دی جاتی اور اس وقفے میں دوسرے لائیو پروگرام کا سیٹ لگا دیا جاتا۔ حتیٰ کہ ڈرامے بھی براہ راست دکھائے جاتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے اسٹیج ڈرامے۔ پی ٹی وی کا پہلا ڈامہ ”نذرانہ تھا”، جس میں مشہور اداکار قوی خان، کنول نصیر اور منور توفیق نے اداکاری کی اور اس کے ڈائریکٹر فضل کمال تھے۔ ٹیلی ویژن کے بانیوں میں اسلم اظہر کا شمار ہوتاہے، وہ بڑی صلاحیتوں کے مالک تھے۔
اُس زمانے میں سارے پروگرام سب ہی لوگ مبہوت ہوکر دیکھا کرتے، کیوں کہ وہ بالکل نئی چیز اور ابتداء تھی۔ ہفتہ میں ایک دن شاید پیر کو ٹی وی نشریات کی چھٹی ہوا کرتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی دیکھنے میں اس جوش و جنون میں تو کمی آئی لیکن لوگوں کی دلچسپی اب تک برقرار ہے۔

ابتدائی دور میں تمام پروگرام پی ٹی وی خود تیار نہیں کرتا تھا، بلکہ نشریات کا زیادہ حصہ درآمدی اور دستاویزی معلوماتی پروگراموں پر مبنی تھا۔ درآمدی فلموں میں سکس ملین ڈالرمین، بایونک وومن، چپس، لٹل اسٹروکس، لٹل ہاؤس آن پریری، پلانیٹ آف ایپس، لوسی شو، ٹام اینڈ جیری، پنک پینتھر، مشن امپوسبل، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اس کے علاوہ ملک میں ہونے والی اقتصادی اور صنعتی ترقی سے متعلق فلمیں جو ٹیلے ویژن کی آمد سے قبل وزارت اطلاعات کے ذیلی ادارے ڈپارٹمنٹ آف فلم اینڈ پبلیکیشنز سے حاصل کرکے دکھائی جاتی تھیں۔ پھر پی ٹی وی نے بھی اسی نوعیت کی دستاویزی فلمیں تیار کرنا شروع کردیں۔ابتدائی دور میں معروف پروڈیوسر عبید اللہ بیگ نے دستاویزی فلمیں تیار کیں، ان کی زیادہ تر فلمیں فطری ماحول یعنی جنگلی حیات، پہاڑوں اور فطرت کے حسن سے متعلق تھیں۔ ان کے بعد شیریں پاشا، ناظم الدین اور ظہیر بھٹی نے بھی دستاویزی فلمیں تیار کیں۔
اس کے علاوہ معلومات عامہ کے پروگرام پاکستان ٹیلی ویژن میں وسیع پیمانے پر تیار کئے، بلکہ زیادہ تر پروگرام براہ راست ہوتے تھے۔ ان میں زینہ بہ زینہ، شیشے کا گھر، کسوٹی، نیلام گھر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ معلومات عامہ کے پروگراموں کے حوالے سے پی ٹی وی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پرائیوٹ چینلز آج تک ایسے پروگرام تیار نہیں کرسکے، موجودہ دور میں تو گیم شو ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور بڑا نام آصف انصاری کا ہے، جنہوں نے ٹی وی انسائیکلو پیڈیا جیسے معرکتہ الآرا پروگرام کے علاوہ بہت سی دستاویزی فلمیں اور معلوماتی پروگرام پیش کئے۔

اسٹیج شو میں ضیاء محی الدین نے تہلکہ مچادیا اور ان کے اسٹیج شوز بہت شوق سے دیکھے جاتے تھے۔ طارق عزیز مرحوم پی ٹی وی کی وہ شخصیت ہیں، جو سب سے پہلے ٹیلی ویژن پر جلوہ افروز ہوئے اور ان کا پروگرام نیلام گھر اور پھر طارق عزیز شو طویل ترین عرصے تک جاری رہا۔
ابتداء میں پی ٹی وی کی نشریات بلیک اینڈ وائٹ ہوا کرتی تھیں، 1976ء میں رنگین نشریات شروع ہوئیں، پہلا رنگین ڈرامہ اشفاق احمد مرحوم کا “پھول والوں کی سیر” تھا۔

1970ء کے عام انتخابات کی مراتھن نشریات نے دھوم مچادی، لوگوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں میں چوبیس گھنٹے ان نشریات کو دیکھا اور بہت مزے کئے۔
صدر ایو ب خان نے اپنی حکومت کے کارناموں کو عوام تک پہنچانے کے لئے پاکستان ٹیلی ویژن قائم کیا تھا۔ چنانچہ ان کے دور اور بعد کے سیاسی ادوار میں نیوز کو اہمیت حاصل رہی۔ ظفر صمدانی کی سربراہی میں خبروں کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لاہور سے نشریا ت شروع ہوئیں تو پہلے دن رات ساڑھے آٹھ بجے خبروں کا پہلا بلیٹن ہوا، اس کے نیوز کاسٹر طارق عزیز تھے۔ اس کے بعد نیوز کا شعبہ مختلف ادوار میں ترقی کرتا رہا۔
کراچی میں ٹیلی ویژن نشریات شروع ہونے کے چار سال بعد ہی ہمارے خالو عبدالمجیب کو پی ٹی وی میں کیمرہ مین کی حیثیت سے جاب مل گئی، بس اسی دن سے میرے دل میں بھی پی ٹی وی میں جاب حاصل کرنے کی خواہش نے جنم لیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ اس عظیم ادارے میں ملازمت کس طرح حاصل کی جائے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ صحافت میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ملک کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ جنگ میں بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد ملازمت مل گئی۔ اس کے بعد روزنامہ جسارت میں کام کیا، دونوں اخبارات میں نیوز رپورٹر اور سب ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

12 جون سن 1985ء میری زندگی کا وہ یادگار دن ہے، جب ٹیلی وژن میں جاب کرنے کا میرا خواب پورا ہوا اور میرے پسندیدہ شعبہ نیوز میں مجھے نوکری مل گئی۔ اس زمانے میں کراچی میں نیوز کے شعبہ کی سربراہ مس ثمینہ قریشی تھیں۔ جب کہ پورے ملک میں پی ٹی وی نیوز کے سربراہ مصلح الدین مرحوم تھے۔
پی ٹی وی کے ابتدائی دنوں میں سیٹلائیٹ کی سہولت نہ تھی، اس لئے خبریں تمام اسٹیشن اپنے اپنے طور پر ٹیلی کاسٹ کرتے۔ حکمرانوں کی سرگرمیوں کی نیوز ریلیں پی آئی اے کے ذریعہ تمام ٹی وی اسٹیشن ایک دوسرے کو بھیجتے جو ایک دن بعد ٹیلی کاسٹ ہوتیں۔ کراچی مرکز میں نیوز کوریج کا کام ابتداء میں ایشین ٹیلی ویژن سروس یا اے ٹی ایس کرتا تھا۔ یہ سلسلہ 1985ء میں میرے پی ٹی وی میں آنے سے چند سال قبل ختم ہوا اور پی ٹی وی نے اپنے طور پر نیوز کوریج کا کام شروع کیا۔
میں پورے تین عشروں تک ٹیلی ویژن سے وابستہ رہا اور جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف، جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے ادوار دیکھے اور صوبہ سندھ میں ان کی نیوز کوریج کی۔ اس کے علاوہ عام انتخابات، صوبائی اسمبلی کی کارروائی، بجٹ، سیلاب اور زلزلوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے خاص دور میں نیوز کوریج کرتے رہے۔سن 2005ء میں سونامی کی نیوز کوریج کے لئے پچیس دن انڈونیشیا میں رہے۔
اس کے علاوہ مختلف سماجی اور ثقافتی موضوعات پرمتعدد نیوز رپورٹس تیار کیں اور اس حوالے سے سندھ کا چپہ چپہ اور بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور گوادر تک کے علاقوں کے متعدد سفر کئے۔ پی ٹی وی کا میرا تجربہ ایک الگ مضمون بلکہ ایک کتاب کا متقاضی ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ پی ٹی وی کو ملک میں ٹیلی ویژن کا بانی اور بجا طور پر Trend Setter کہا جاسکتا ہے۔ نجی شعبے میں متعدد ٹی وی چینلز آنے کے باوجود یہ اب بھی ملک میں ٹیلی ویژن کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور متعدد مسائل کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ترقی کرتا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.