Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کا سرحد یونیورسٹی پشاور کا دورہ۔

ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو صوبے میں تعینات دیگر پولیس اہلکاروں کے برابر حقوق اور مراعات حاصل ہیں۔ آئی جی پی

0 97

ڈائریکٹر پبلک ریلیشنزخیبر پختونخواپولیس
پشاور 8 جنوری 2021 ٹیلی فون نمبر۔9213688
٭ آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کا سرحد یونیورسٹی پشاور کا دورہ۔
٭ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کو فاٹا کے انضمام پر آن لائن لیکچر۔
٭ نوجوان نسل روشن پاکستان کے امین ہیں۔ آئی جی پی
٭ ضم شدہ اضلاع میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی بڑی کامیابی ہے۔ آئی جی پی
٭ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو صوبے میں تعینات دیگر پولیس اہلکاروں کے برابر حقوق اور مراعات حاصل ہیں۔ آئی جی پی

(پریس ریلیز)
آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے آج سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور کا دورہ کیا۔ یونیورسٹی پہنچنے پر وائس چانسلر سرحد یونیورسٹی ڈاکٹر سلیم الرحمن خان نے آئی جی پی کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر ریجنل پولیس افیسر یاسین فاروق، سرحد یونیورسٹی کے ڈائریکٹر QEC ڈاکٹر افتخار احمد خان، رجسٹرار محمد ناصر ، پی ایس او ٹو آئی جی پی صمد خان اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔
آئی جی پی یونیورسٹی کی لائبریری ، فارمیسی، ایجوکیشنل، انجینئرنگ، سپورٹس، سائنس، آرٹ ڈیزائنز سمیت مختلف شعبہ جات میں گئے جہاں ڈاکٹر افتخاراحمد خان نے آئی جی پی کو ہر ایک شعبے کی سرگرمیوں/کارکردگی کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی۔ آئی جی پی نے یونیورسٹی کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی لی اور اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔ آئی جی پی کو یونیورسٹی کی سکیورٹی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اُن کو بتایا گیاکہ یونیورسٹی کی سیکیورٹی کیلئے جدید CCTVسسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔
یونیورسٹی دورے کے موقع پر آئی جی پی ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے سرحد یونیورسٹی کے طلباءوطالبات کو ” فاٹا انضمام“ پر لیکچر دیا، جس میں آئی جی پی نے قبائلی علاقوں کے تاریخی پس منظر اور پیش منظر، جغرافیائی محل وقوع، انتظامی ڈھانچے، مقامی لوگوں کے رسم و رواج اور طرز زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ آئی جی پی نے کہا کہ بعض عوامل کی وجہ سے یہ علاقے اچھی گورننس کے حوالے سے بہت پیچھے رہ گئے تھے، تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور پارلیمنٹ نے ان علاقوں کا ملک کے باقی حصوں کے ساتھ انضمام کا فیصلہ کرکے قبائلی اضلاع کے لوگوں کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز کردیا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ یہ علاقے 1947 میں آزاد کرائے گئے تاہم وہاں پر مقامی افراد کو حقیقی آزادی اب نصیب ہوئی اور آئین پاکستان میں ان کو حاصل حقوق ملنا شروع ہوگئے۔ آئی جی پی نے انضمام کے بعد وہاں پر بالخصوص پولیسنگ اور عدالتی نظام پر سیر بحث کی اور اُسے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپاکرنے سے تشبیہ دی۔ آئی جی پی نے اپنے لیکچر میں قبائلی اضلاع میں پولیسنگ کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لیویز اور خاصہ داروں کے 29 ہزار اہلکاروں کو پولیس فورس میں تمام مراعات کے ساتھ ضم کردیا گیا ہے۔ ان اہلکاروں کی بنیادی اور جدید تربیت شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع میں تھانوں کے قیام، ایف آئی آر اور روزنامچوں کے اندراج اور نامزد ملزمان کی گرفتاری اور ان کو وہاں پر عدالتوں میں پیش کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں اچھی اور معیاری پولیسنگ کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انضمام کے فیصلے سے نہ صرف قبائلی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، بلکہ ملک کے دیگر حصوں کے لوگوں نے بھی قبائلی عوام کو اپنے گلے سے لگا تے ہوئے مل جل کر ملک و قوم کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرنے کا عزم کیا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ سماجی رابطوں کے ذرائع میں انقلابی تبدیلیوں سے ہمیں ہوشیار رہنا پڑے گا۔ اور چند مٹھی بھر عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت، حسد اور بغض سے بچ کر ان ذرائع کے مثبت اقدامات سے مستفید ہونا ہوگا۔ ہمیں ففتھ جنریشن وار (Fifth Generation War)کا سامنا ہے اور ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے منفی اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ کرنا ہوگا۔
سرحد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم الرحمن خان نے اہم اور پر مغز لیکچر دینے اور قیمتی وقت نکال کر یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ کرنے پر آئی جی پی کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں آئی جی پی کو یونیورسٹی کی جانب سے ایک یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.