Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

کشمیر بنے گا پاکستان – ثاقب محمود بٹ

0 453

[یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے حوالے سے خصوصی معلوماتی کہانی]

فاطمہ سکول کا کام مکمل کر کے اداس بیٹھی تھی کہ باباجان قریب آئے اور بہت پیار سے پوچھنے لگے: ’’کیا ہوا فاطمہ بیٹی؟ کیوں اداس ہو؟‘‘
’’باباجان، اس بار ہماری کلاس ٹیچر نے کہا ہے کہ5 فروری کو یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جا رہا ہے، سب بچے اِس دن کی مناسبت سے ایک خوب صورت سا مضمون لکھ کر لائیں۔’’فاطمہ نے جواب دیا۔‘‘
باباجان نے حیرت سے پوچھا: ’’ارے بیٹی اس میں اس قدر اُداس ہونے والی کیا بات ہے؟ آپ لکھ لیں نا مضمون!‘‘
فاطمہ نے جواب دیا: ’’جی بابا جان، میں کوشش کر رہی ہوں لیکن میرے پاس اس بارے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘‘
باباجان بولے: ’’اوہو بیٹی،اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں۔ سب بچوں نے کھانا کھا لیا ہے۔ آپ سب کو اکٹھا کریں۔ میں آپ کو اِس دن کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں۔‘‘
’’جی بہتربابا جان۔ ‘‘یہ کہہ کر فاطمہ نے زور دار آواز لگائی۔ ’’احمد، ایمل، حسن، زہرا۔۔۔ سب بچے آ جائیں۔ باباجان آپ کو بلا رہے ہیں۔‘‘
سب بچے دوڑے دوڑے ڈرائنگ روم میں پہنچے۔ باباجان سب سے مخاطب ہوئے: ’’پیارے بچو! فاطمہ بیٹی کی کلاس ٹیچر نے بچوں کویومِ یکجہتیٔ کشمیر کے حوالے سے ایک مضمون لکھ کر لانے کو کہا ہے۔ میں نے سوچا آپ سب کو بھی اس ضروری معلومات میں شامل کیا جائے تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ ہم یہ دن کیوں مناتے ہیں؟‘‘
سب بچے یک زباں ہو کر بولے: ’’جی ضرور باباجان!‘‘
باباجان نے پوچھا: ’’بچو آپ کشمیر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟‘‘
احمد بولا: ’’باباجان یہی کہ کشمیر ایک مسلم ریاست ہے جس پر ہمارے دشمن ملک بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے۔‘‘
باباجان: ’’جی بچو بالکل ایسا ہی ہے۔ میں آج آپ کو اس بارے کچھ مفید معلومات دوں گا۔ فاطمہ بیٹی آپ اپنی نوٹ بک پاس رکھیں اور چیدا چیدا پوائنٹس نوٹ کرتی جائیں۔‘‘
’’ جی بالکل باباجان، میں ایسا ہی کروں گی۔‘‘ فاطمہ نے جواب دیا۔
باباجان بولے: ’’شاباش بیٹی، تو شروع کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 1947ء میں ہندوستان کا بٹوارا ہوا اور دو ریاستیں، پاکستان اور بھارت وجود میں آئیں۔ان دو بڑے ملکوں کے علاوہ برصغیر میں بہت سی ریاستیں اور بھی موجود تھیں۔ آزادی ہند کے قانون کے مطابق ان ریاستوں کے سامنے تین ترجیحات رکھی گئیں۔ پہلی یہ کہ ان میں سے جو ریاست چاہے وہ پاکستان کے ساتھ اپنا الحاق کر سکتی ہے، دوسری یہ کہ جو ریاست چاہے وہ اپنا مستقبل بھارت کے ساتھ وابستہ کر لے اور تیسری یہ کہ جو ریاست ان دونوں ممالک کے ساتھ الحاق نہ کرنا چاہے وہ اپنی الگ اور آزاد خودمختار ریاست قائم کر لے۔ البتہ جب بھارت کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں پیش ہوا تو پہلی قرارداد جو کہ دسمبر 1948ء میں پاس ہوئی، اس میں یہی کہا گیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے چاہیں تو پاکستان یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ الحاق کریں یا خودمختار بن جائیں لیکن وہ دوسری قرارداد جو سلامتی کونسل نے جنوری 1949ء میں پاس کی تھی جس کو پاکستان، بھارت اور کشمیریوں، سب نے منظور کیا ،اس میں یہ تجویز کیا گیا کہ ریاست کے لوگ صرف یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔چنانچہ اس وقت کے کٹھ پتلی سیاستدانوں نے کشمیر اسمبلی کے ذریعے بھارت کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کروائی۔ اس پر پنڈت جواہر لعل نہرونے کہا کہ استصواب ہو گیا اور اب کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔‘‘
یہ کہہ کر بابا جان ذرا خاموش ہوئے تو فوراً زہرا بولی: ’’لیکن باباجان یہ تو کشمیریوںکے ساتھ بہت زیادتی ہے، انہوں نے تو پاکستان میں شامل ہونا چاہا تھا۔۔۔‘‘
باباجان بولے: ’’بیٹی یہ سچ ہے کہ کشمیرکے عوام نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاست جموں و کشمیر کے عوام تقسیمِ ہند کے نامکمل ایجنڈے کی سازش کا شکار ہیں۔ 14 اگست 1947 ء کو ریاست جموں وکشمیر کے ہر گھر پر پاکستان کا پرچم لہرایا تھا۔کشمیریوں کو یقین تھا کہ آج سے ہم پاکستانی ہیں۔لیکن اس یقین کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے انہیں آگ اور خون کا دریا عبور کرنا پڑا۔ اس کے باوجود اُن کے صدیوں کے خواب کی تکمیل نہ ہو سکی اور ہندوستان کی آزاد ریاستوں میں سے سب سے بڑی ریاست دو حصوں، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں تقسیم ہوگئی۔ پاکستانی دریاوں سے کشمیری شہدا کی کٹی لاشیں اور آزاد کشمیر کی سرحد پر مہاجرین کے لٹے پٹے قافلوں کے استقبال کے مناظر زندگی کا معمول ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے سرحدی علاقے مسلسل بھارتی جارحیت اور خونریزی کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں طرف کے بہادر عوام بستیوں کو آباد رکھ کر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جب کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح چاک و چوبند پاک فوج دونوں طرف کے کشمیریوں کی محافظ اور نگہبان ہے۔آزاد کشمیر کے نوجوان کہتے ہیں کہ ہم دشمن سے نہیں ڈرتے بلکہ ہمیشہ پاک فوج کی دوسری دفاعی لائن بن کر ڈٹے رہیں گے۔‘‘
’’لیکن بابا جان کشمیری پاکستان سے ہی الحاق کیوں ضروری سمجھتے ہیں؟‘‘ فاطمہ نے سوال کیا۔
باباجان بولے: ’’بیٹی آپ کا سوال بہت اہم ہے اور اس کا جواب ہے کہ کشمیریوں نے اس لیے پاکستان سے الحاق کو پسند کیا کیوں کہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ مذہبی، تہذیبی، تمدنی، جغرافیائی اور ثقافتی ہر لحاظ سے ایک مضبوط اور پائیدار رشتہ قائم ہے۔کشمیر کی اسی فیصد آبادی مسلمان تھی۔ اس کی 600میل طویل سرحد پاکستان کے ساتھ مشترک تھی۔ ریاست کی واحد ریلوے لائن پاکستانی شہر سیالکوٹ سے ہو کر گزرتی تھی اور اس کی دونوں پختہ سڑکیں بھی راولپنڈی اور سیالکوٹ کے درمیان سے ہی گزرتی تھیں۔ کشمیر کے رہنے والے اپنے کاروبار کے لیے پنجاب کی طرف جب کہ پنجاب کے لوگ کاروبار اور سیاحت کے لیے کشمیر کی جانب سفر کرتے تھے۔ کشمیری عوام کی اُمنگوں کے پیشِ نظر ہی وہاں کے راجہ ہری سنگھ نے 15 اگست 1947ء کو اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کر لیا اور یوں کشمیر پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک ریاست بن گئی۔‘‘
’’لیکن پھر کشمیریوں کی مرضی کے بغیر بھارت نے اس ریاست پر کیوں قبضہ جما یا ہوا ہے؟‘‘ احمد نے حیرت سے پوچھا۔
بابا جان ٹھنڈی آہ بھر تے ہوئے بولے: ’’بیٹا دراصل ہوا یوں کہ کشمیری راجہ ہری سنگھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق تو کر لیا لیکن اس کا ذاتی جھکاؤ بھارت کی طرف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنی ناپاک خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایک گھناؤنی سازش کا آغاز کیا۔ کشمیر کی فوج میں ایک پوری کی پوری بٹالین فوج مسلمان تھی۔ راجہ نے اس پوری بٹالین فوج کو غیر مسلح کر دیا اور ریاست کے تمام مسلمان پولیس افسروں اور سپاہیوں کو برطرف کر دیا۔ اب راجہ نے بھارت کی مختلف انتہا پسند تنظیموں سے رابطہ کیا اور اپنی نگرانی میں ان میں اسلحہ تقسیم کر کے مسلمانوںکی نسل کشی کا کام بھی اُن کو سونپ دیا۔ اسلحہ بردار یہ غنڈے پورے جموں میں پھیل گئے اور مسلمانوں کو شہید کرنے لگے۔ دوسری طرف ریاست کے وزیرِ اعظم مہاجن مہر چند نے مسلمانوں کے سامنے جھوٹ مُوٹ رونا شروع کر دیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی عزت اور جان و مال کی حفاظت کی خاطر پاکستان ہجرت کر جائیں۔ ساتھ ہی اس نے مسلمانوں کو یہ بھی کہا کہ اگر مسلمان پاکستان جانے کے لیے راضی ہو جائیں تو انہیں سرکاری خرچ پر پاکستان بھیجا جائے گا۔ یوں جموں کے مسلمانوں کا اچھا خاصا قافلہ پاکستان جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ جب یہ قافلہ چند میل ہی دور پہنچا تو راجہ ہری سنگھ کے غنڈوں نے اس قافلے پر حملہ کر دیا۔ قافلے کو چاروں طرف سے گھیرنے کے بعد غنڈوں نے ان کا سارا سامان لوٹ لیا، نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر لیا اور پھر قتل ِعام کا آغاز کر دیا۔ اس قتل ِعام میں جموں کے دو لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے اور پانچ لاکھ کے قریب مسلمان اپنی عزت و آبرو بچا کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک ہی رات میں 24 مسلمان دیہاتوں کو جلتے دیکھا گیا۔ 123 دیہاتوں کو ملیامیٹ کر دیا گیا اور بہت سے گاؤں ایسے بھی تھے جن کے تمام مردوں، بوڑھوں اور بچوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بھارتی فوج کی سکھ رجمنٹ کا پہلا دستہ 27 اکتوبر 1947ء کو سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتارا گیا تھا جس کے ساتھ ہی ریاست جموں و کشمیر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا آغاز ہوا تھا جو ریاست کی تقسیم پر ختم ہوئی۔ یوں جموں و کشمیر کے ایک حصہ نے آزاد جموں و کشمیر کے نام سے آزادی حاصل کی ۔‘‘
’’ بابا جان ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرہ کے پیچھے کیا تاریخ ہے؟‘‘ اب کی بار زہرا نے سوال کیا۔
باباجان بولے: ’’شاباش بیٹی، آپ سب تو ماشا اللہ خوب ذہین ہیں۔ دراصل ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ ریاست جموں و کشمیر میں 1942ء سے ہی گونجنے لگا تھا جب جموں و کشمیر میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے دستِ راست اور قائدِ کشمیر چودھری غلام عباس  نے جموںمیں اعلان کردیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں جاری جدوجہد اب تحریکِ پاکستان کا حصہ ہو گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘کے نعرہ کو اِس قوت اور استقامت کے ساتھ پیش کیا کہ کشمیر کے اندر تحریکِ آزادی اور تحریکِ الحاقِ پاکستان کی رگوں میں زندگی لوٹ آئی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اس نظریہ کو اُجاگر کر کے کشمیریوں کے ساتھ رشتہ کومزید مضبوط کیا ہے۔ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا یہ نعرہ ہماری ملی یکجہتی کی ضمانت بھی ہے۔ گرمی میں، سردی میں، برف باری اور بارش میں، پہاڑوں کی چوٹیوں پر، جنگلوں اور وادیوں میں،ہزاروں لوگ سبز ہلالی پرچم اٹھائے ہوئے جوش و خروش کے ساتھ یہ لگاتے ہیں۔ ہمارا دل و جان اور بال بال پروردگار کے حضور شکر کے جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے جس نے ہمیں بحیثیت پاکستانی، ہر دور میں اس مقدس جذبے کو برقرار رکھنے کی توفیق دی۔ ہم خاص طور پر جب نوجوانوں اور معصوم بچوں کو ’’کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ‘‘ لگاتے ہوئے سنتے ہیں تو جو مسرت ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے بھی اس نعرے کو سرکاری حیثیت دی اور وہ وقت بھی آیا جب آزاد کشمیر میں لاکھوں بچے صبح سویرے اٹھ کر منظم طریقے سے یہ نعرہ لگاتے جس سے پہاڑوں اور جنگلوںکی شفاف فضا گونج اٹھتی تھی۔‘‘
ایمل جو کافی دیر سے خاموش بیٹھی تھی، بولی: ’’باباجان کشمیر کے بارے میں تحریکِ پاکستان کے قائدین کی کیا رائے تھی؟‘‘
بابا جان نے جواب دیا: ’’ایمل بیٹی، کشمیر کی سیاست کا مرکز و محور قائداعظم محمد علی جناحؒ کا وہ تاریخی جملہ ہے کہ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ اور اس عظیم شخصیت کی بصیرت پر کسی کو شک نہیں ہو سکتا۔19جولائی، 1947ء کو سرینگر میں اِسی جملے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے الحاقِ پاکستان کی قرارداد منظور کی گئی ۔ اس قراردادسے ایک طرف ریاستِ کشمیر کو بھارت کا تر نوالہ بنانے کی سازش ناکام ہوگئی تو دوسری طرف خود پاکستان کی بقا اور سلامتی کا اہتمام ہو گیا۔ بصورت دیگر نہ آزادکشمیر ہوتا اور نہ ہی تحریکِ آزادی کا کوئی سوال ہوتا۔اِس قرارداد کے بعد لاکھوں عورتوں، مردوں اور بچوں نے اس پر پروانہ وار اپنی قیمتی جانیں نچھاور کیں اور لاکھوں کی تعداد نے گھر بار اور عزیز و اقارب کو خیر باد کہہ کر مہاجرت کی زندگی اختیار کی۔اِسی طرح مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے فرمایا تھا: ’’دفاعی نکتہ نگاہ سے کشمیر پاکستان کی زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ جب کہ مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے کشمیر میں آزادی کی روح کو جبرو تشدد سے دبانا ناممکن قرار دیا تھا اور اس خطہ جنت نظیر کے متعلق اپنے محسوسات کو شعر کا جامہ پہناتے ہوئے فرمایا تھا:
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
حکیم الامتؒ کو کشمیر کی آزادی پر یقینِ کامل تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ قوم کو قربانی کی تلقین کرتے تھے۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے خلاف اُسی راہ پر چل رہے ہیں اور شہادت کو اپنا مطلوب و مقصود بنا چکے ہیں۔سارے کشمیر کے نوجوانوں کے جسم و جاں میں برق دوڑ گئی ہے اور وہ سر بکف ہوکر بھارتی قابض افواج کو للکارنے لگے ہیں۔ جواب میں ان پر پیلٹ گنوں سے گولیاں برسائی جانے لگیں اور سینکڑوں نوجوان ہمیشہ کے لئے بینائی کی نعمت سے محروم ہوگئے لیکن اس کے باوجود ان کے لبوں پر یہی نعرے گونجتے رہے: ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘،’’ پاکستان سے رشتہ کیا؟لا الہ الا اللہ‘‘، ’’ ہم کیا چاہتے؟ آزادی‘‘۔اس جدوجہد ِآزادی کے دوران اب تک بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوںلاکھوں کشمیری جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں جب کہ لاتعداد کو دورانِ حراست شہید کیا جاچکا ہے۔ مزید برآں بے شمارافراد کو گرفتار اور لاکھوںعمارات کو تباہ کیا جاچکا ہے۔خواتین کے بیوا ہونے اور کشمیری بچوں کے یتیم ہونے کی تعداد بھی شمار سے باہر ہے۔ حتٰی کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں لا تعداد کشمیری خواتین کی عزتیں پامال ہوچکی ہیں۔ اسی طرح بے شمار بے گناہ کشمیریوں کو پیلٹ گنوں سے زخمی کیا گیا۔
نظریہ الحاقِ پاکستان کو آزاد کشمیر کے آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے تحفظ بھی دیا گیا اور تمام سرکاری ملازمین کے لیے ضروری قرار دیا گیا کہ وہ نظریہ الحاقِ پاکستان پر حلف اٹھائیں۔ تعلیمی اداروں میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بطورِ خاص روزمرہ کے معمول میں شامل کیا گیا کیوں کہ وادی جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق ضروری ہے۔ چوں کہ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے موقف کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی اپنایا تھا اس لیے کشمیریوں سمیت پوری پاکستانی قوم اور حکومت بھی آج تک اُسی موقف پر قائم ہے ۔‘‘
دورانِ گفتگوحسن نے پوچھا: ’’باباجان کشمیر کے حوالے سے 5 فروری کو ہی یہ دن کیوں منایا جاتا ہے؟‘‘
بابا جان کچھ توقف کے بعد بولے: ’’پیارے بیٹے، دراصل پانچ فروری کا دن بھارتی بربریت کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ایک قومی دن کی طرح منایا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ دن منانے کا آغاز1932ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف مزاحمت سے ہی ہو گیا تھالیکن جب 1990 ء کی دہائی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریکِ مزاحمت کا آغاز ہوا تو اہلِ کشمیر پر ناقابل برداشت بھارتی مظالم اور بہیمانہ ہتھکنڈوں کے خلاف آزاد خطے کے نوجوانوں کا شدید رد ِعمل سامنے آیا۔ اسی لیے 1990ء میں یوم ِ یکجہتیٔ کشمیر منایا گیا۔ بہت سے آزادی پسندگروہوں نے سرحد پار کر کے مقبوضہ کشمیر کی سرزمین پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا اور بعد میں شدید بھارتی جارحیت کا شکار ہوئے۔تب سے اب تک ہر سال پورے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی اور کشمیری بھر پور شرکت کر کے منظم انداز میں یہ دن مناتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کشمیری مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کی خاطر ہر سال 5فروری کو یومِ یکجہتیٔ کشمیر منانے کا اعلان کیا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز باقاعدگی سے جاری ہے۔ اس دن سب لوگ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر پوری دنیا کو ایک خاص پیغام دیتے ہیں کہ ہم سب مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اب تو یوم یکجہتیٔ کشمیر کے دن کی خاص اہمیت ہے کیوں کہ 5 اگست 2019ء سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے، کرفیو نافذ کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک عقوبت خانے میں تبدیل کر رکھا ہے۔‘‘
یہ بات سن کر زہرا بولی: ’’باباجان یہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے کیا مراد ہے؟‘‘
باباجان نے گہرا سانس لیا اور بولے: ’’بیٹی آپ نے بہت اہم سوال کیا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے مراد یہ ہے کہ کشمیر ایک خودمختار ریاست ہے۔ خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر آئندہ سے ریاست کے بجائے بھارتی یونین کا علاقہ تصور کیا جائے گا۔بھارتی حکومت نے جلد بازی میں یہ قانون منظور کر لیا ہے۔ بھارت خوب جانتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، اس لیے وہاں کی غاصب حکومت نے آئین سے دفعہ 370 اور35 اے کا خاتمہ کرکے مقبوضہ کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ہے۔ ورنہ اس سے قبل کشمیر کی ایک خاص ریاستی حیثیت تھی۔بھارت کے آئین میں کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی ذیلی شق 35 اے کے تحت غیر کشمیری مقبوضہ وادی میں زمین نہیں خرید سکتے تھے۔اس شق کو 1954ء میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا جس کے تحت جموں و کشمیر کو بھارتی وفاق میں خصوصی آئینی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ مزید اس شِق کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں وکشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے، نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے۔یہی آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا تھا۔ اسے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو اکہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔ بھارت کی مودی سرکار کے اس فیصلے پر وہاں کی اپوزیشن نے بھی بھارتی پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کیا۔ دوسری طرف بھارتی فوج نے پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مواصلات (انٹرنیٹ، فون) کے نظام کو مکمل بند کردیا گیا۔حتٰی کہ کئی بھارت نواز سیاسی لیڈروں کو بھی گھروں میں نظربند رکھا گیا۔ وادی کے تمام تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے گئے ۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے چھاؤنی میں تبدیل کر دیا اوردہلی حکومت نے مزید 70 ہزار فوجی وادی میں بھیج دیئے۔ اُن کو خدشہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بچہ بچہ اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہوگااور پوری وادی میں بھارت کی لاکھوں فوج اسلحہ کے زور پر بھی حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے گی لہٰذا کرفیو نافذ کردیا جائے۔ سو کرفیو کے نفاذ سے کشمیری اپنے گھروں میں مقید ہو گئے۔ اشیائے ضروریہ، خوراک اور ادویات کی قلت کی وجہ سے بے شمار بزرگ شہری، عورتیں اور بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، کسی کے علم میں درست اعداد و شمار نہیں ہیں۔ 5 فروری کا دن اس اعتبار سے بھی پوری پاکستانی قوم اور پوری دنیا سے بالخصوص پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ اُن کی جانوں اور املاک کو بھی تحفظ دیا جائے۔‘‘
باباجان کی یہ بات سن کر تمام بچے افسردہ ہو گئے۔
کچھ توقف کے بعد باباجان بولے: ’’5 فروری کا دن یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے طور پر منانے کے نظریہ کی دنیا کے تمام مہذب انسان حمایت کرتے ہیں۔ اس دن بڑے بڑے جلسے منعقد کیے جاتے ہیں اور لائن آف کنٹرول کے اُس پار مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے مظلوم اور بھارتی غلامی کی چکی میں پسنے والے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک، کشمیریوں سے بے مثل یک جہتی کا اظہار کیا جاتا رہے گا اور کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھی جائے گی اورکشمیریوں کی منشا کے مطابق اُن کے استصوابِ رائے کے حق کی حمایت کی جاتی رہے گی۔ بھارت نے اقوامِ متحدہ کی مسئلہ کشمیر پر منظور شدہ قراردادوں کو نہ صرف اپنے پاؤں تلے روند ڈالا بلکہ اپنے سابق حکمرانوں کے وعدے وعید بھی توڑ ڈالے۔ بھارتی آئین میں سے اپنے ہی سابق حکمرانوں کی منظور شدہ آئینی دفعات کو ختم کرکے ایک دھبہ لگا دیا ہے جو شاید کبھی دُھل نہ سکے۔ کرفیو کے نفاذ کے بعد عالمی سطح پر پیدا ہونے والے ردِعمل کو بھی بھارت خاطر میں نہیں لایا ۔ بھارت کے کٹر ہندو سوچ کے حامل حکمران بھارت میں شدت پسندانہ رویے کو پھیلانا چاہتے ہیں اسی لیے بھارت میں متنازعہ قانونِ شہریت بھی منظور کروالیا گیا ہے جس کے تحت صرف تارکینِ وطن ہندووں کو ہی بھارتی شہریت مل سکے گی۔
دوسری طرف پاکستان نے ہر پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی اور اقوام متحدہ میں بھی دنیا کو خبردار کیا کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا اور سب کا نقصان ہوگا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ بھارت پرجنگ کا بھوت سوار ہے جو پورے خطے کے لیے بھی خطرناک ہے اور خود ہندوستان کے لیے بھی۔وہاں کی ظالم حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستانی قوم اور فوج اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے اور ماضی میں کئی محاذوں پر بھارت کو شکست کا مزہ چکھابھی چکی ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ بزدل بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستانی حدود میں دخل اندازی کر کے بڑی بڑھکیں ماری تھیں جس کے بعد پاکستانی فوج نے بھارت کی گیدڑ بھبکیوں کا خوب جواب دیا۔نہ صرف بھارتی جہاز کو مار گرایا بلکہ اس کا پائلٹ بھی گرفتار کرلیا اور پھر خوب خاطر تواضع کے بعد بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے حوالے بھی کردیا۔ یوں پاک فوج نے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اب اشتعال انگیزی کرنے سے پہلے اپنے پائلٹ سے پوچھ لینا کہ پاکستانی چائے کیسی تھی؟‘‘
حسن کافی غور سے یہ سب باتیں سن رہا تھا، جب باباجان خاموش ہوئے توگویا ہوا: ’’باباجان آخر مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے؟‘‘
بابا جان نے جواب دیا: ’’دیکھیں بچو، کشمیر کا پر امن حل اقوام متحدہ کی قراردادوں ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ عالمی برادری کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ لاکھوں کشمیریوں کی زندگیوں کو بھارت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ پوری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر آکر بھارت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ کشمیر کو آزاد کرو اور یہ ریاستی دہشت گردی بند کرو کیوں کہ کشمیری ہر حال میں پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں اور بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔اُن کے دل پاکستانی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں اوریہی محبت ہمارے ازلی دشمن بھارت کو انتہائی ناگوار گزرتی ہے اور قیامِ پاکستان سے آج تک پاک بھارت تنازعے کی اہم ترین وجہ بھی یہی ہے۔ اسی لیے بھارت وہاں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ریفرنڈم نہیں کرواتا کہ اگر کروالیا تو کشمیر کے عوام پاکستان کے حق میں فیصلہ کردیں گے۔حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیری عوام اب اس فیصلہ کن معرکے کا تہیہ کرچکے ہیں جس کے ذریعے قوموں کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی نصیب ہوتی ہے۔ کشمیری نوجوان اب ماضی کے تمام مظالم اور شہدا کی قربانیوں کا قرض چکانے کے لیے ایک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ’’آزادی ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘یہی وجہ ہے کہ ساری کشمیری قوم بھارت کے جابرانہ تسلط کے خلاف آزادی کے حق میں اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔
اس لیے پیارے بچو!آئیں ہم بھی عہد کریں کہ ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اس کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے اورکشمیر میں جاری تحریکِ الحاقِ پاکستان کو مضبوط تر کریں گے۔‘‘
فاطمہ نے اپنی ڈائری بند کرتے ہوئے کہا: ’’باباجان! ہم سب بچے وعدہ کرتے ہیں کہ اپنی آخری سانسوں تک مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولیں گے اور اُن کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ محبت کا یہ جذبہ ہم مرنے نہیں دیں گے بلکہ اگلی نسلوں تک بھی اسے ضرور منتقل کریں گے۔ آج ہم سب پاکستانی عوام کشمیریوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ بھارت سے آزادی تک اُن کی حمایت جاری رکھیں گے اور پوری قوت سے غاصب بھارت کو یہ پیغام دیں گے کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ‘‘ ہے۔ کشمیری عوام کے دل سے پاکستان کی محبت کو کسی صورت جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایک دن ضرور کشمیر آزاد ہوگا اور پاکستان کا حصہ بنے گا۔ان شاء اللہ۔ وہ وقت دور نہیں جب۔۔۔
مٹ جائے گا یہ طوفان
لے کے رہیں گے کشمیر
کشمیر بنے گا پاکستان‘‘

[نوٹ: اس کہانی کی تیاری میں مختلف کتب، رسائل اور کالموں سےشکریہ کے ساتھ استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.