Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

کے ٹو پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کےساتھیوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے دیگر دو ساتھیوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں مقامی اور نیپالی کوہ پیما بھی حصہ لے رہے ہیں، تاہم اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

علی سد پارہ سمیت دو غیر ملکی کوہ پیما جان سنوری اور جے پی موہر پانچ فروری کی رات سے کے ٹو چوٹی سر کرنے کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، تاہم چوٹی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ان کے ٹریکر نے کام کرنا بند کردیا، جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ نیپالی کوہ پیما چانگ داوا شرپا نے میڈیا کوبتایا کہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے جانے والے ہیلی کاپٹر میں وہ خود بھی موجود تھے، جس نے ساڑھے سات ہزار میٹر کی بلندی تک پرواز کی لیکن علی سد پارہ کی ٹیم کا کچھ سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب وہ واپس بیس کپمپ آ گئے ہیں کیونکہ اوپر موسم خراب ہے، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کو اڑان بھرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ اندھیرے سے پہلے ہیلی کاپٹر کی ری فیولنگ کے بعد کوہ پیماؤں کی تلاش کی دوبارہ کوشش کی جائے گی۔

سکردو میں موجود مقامی ماہر کوہ پیمائی اور صحافی نثار عباس نے بتایا کہ ’چونکہ سیٹلائٹ فون کے آخری سگنل پانچ فروری شام ساڑھے چھ بجے بوٹلنیک کے پاس ملنا بند ہوئے اور ساجد سد پارہ  کے مطابق وہ اپنے والد اور ان کی ٹیم کو بوٹلنیک میں آٹھ ہزار کی بلندی پر چھوڑ کر آکسیجن ریگولیٹر کی وجہ سے واپس نیچے کی طرف آئے۔ اس لیے لاپتہ کوہ پیماؤں کے متوقع ٹریسز کیمپ نمبر چار سے اوپر بوٹلنیک اور آئس مونٹین کے درمیان ہی ملنے کے امکانات ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہ قوی امکان ہے کہ علی سد پارہ کی ٹیم کے ساتھ حادثہ سمٹ سے واپسی پر ہوا ہو، کیونکہ سد پارہ گاؤں کے مقامی کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ بوٹلنیک کراس کرنے کے بعد دشوار مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور علی سد پارہ جیسے سخت جان کوہ پیما کے لیے چند سو میٹر بالکل مشکل نہیں ہوئے ہوں گے۔‘ ’اوپر چڑھتے وقت حادثہ اس صورت میں ہو سکتا ہے، اگر ہوا تیز اور مخالف رفتار کی ہو، لیکن تجربہ کار کوہ پیما جس نے آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے پر اپنے بیٹے کو رسک میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور سمٹ سےچھ سو میٹر کے فاصلے سے انہیں واپس بھجوا دیا تو یقیناً وہ اپنی ٹیم کے لیے بھی رسک نہ لیتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’واپسی پر اترائی کے وقت اندھیرا بھی تھا اور عین ممکن ہے کہ اس وقت کوئی واقعہ رونما ہوا ہے۔‘ اس سے چند ہفتے قبل یعنی 16 جنوری کو 10 نیپالی کوہ پیماؤں کے ایک گروپ نے موسم سرما میں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کو پہلی بار سر کرکے تاریخ رقم کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.