Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

سی ٹی ڈی نے گرفتاردو ‘دہشت گردوں’ کی نشاندہی پر فاروق ستار کو طلب کر لیا

0 339

سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) نے بھارتی ایجنسی را سے تعلق کے الزام میں گرفتار دو ملزموں کی نشاندہی پر متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان) کے سابق رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو طلب کر لیا ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ ‘ملک دشمن بھارتی خفیہ ایجنسی را سے وابستگی کے الزام میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان نعیم خان اور عمران احمد کو گرفتار کیا گیا’۔

فاروق ستار کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ ملزمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ ایجنسی سے وابستگی کرانے میں آپ نے ان کی معاونت کی تھی لہٰذا آپ 5 جون کو شواہد کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ یاد رہے کہ اس وقت فاروق ستار ایم کیو ایم بحالی تحریک کے سربراہ ہیں اور اپنے سابق ساتھیوں کو متحرک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ادھر محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ عمر شاہد حامد نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس ایڈووکیٹ کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے را سے تعلق کے الزام میں دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسی سلسلے میں فاروق ستار کو محکمہ انسداد دہشت گردی نے طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے ان کے گھر اور آواری ہوٹل میں عارضی رہائش پر نوٹس بھیج دیا ہے۔

گرفتار ملزمان نعیم اور عمران کے خلاف پولیس نے آتش گیر مادہ رکھنے سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور انہوں نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ انہوں نے فاروق ستار کی مدد سے را سے تعلق قائم کیا۔

اسی طرح حیدرآباد میں دہشت گردی کے واقعات میں ان کے کردار کے حوالے سے سوالات پر انیس ایڈووکیٹ کو طلب کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب سربراہ ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق نے اپنے خلاف چلائی جانے والی بے بنیاد خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی ٹی ڈی سے کوئی آیا اور نہ ہی وہ گھر سے کہیں گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عارضی طور پر کسی ہوٹل میں رہائش اختیار نہیں کی بلکہ میں گھر میں ہوں، میرے گھر کوئی نوٹس لے کر نہیں آیا اور اگر کوئی آئے گا تو چائے کی پیالی کے ساتھ ملاقات کروں گا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ میرے حوالے سے میڈیا پر چلنے والے تمام باتیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں اور اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے نہ میرے حوصلے پست کر سکتے ہیں اور نہ ہی میری جدوجہد ختم ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد میرے ساتھ شہری سندھ کے حقوق کی بازیابی کی جدوجہد میں شامل ہے اور اب ہم کسی صورت اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.