Latest Urdu news from Pakistan - Peshawar, Lahore, Islamabad

خیبر پختونخوا کا 1118 ارب کا بجٹ پیش

0 423

پشاور: صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مالی سال 2021،22 کا بجٹ پیش کیا، انھوں نے کہا ہم صوبے کی تاریخ میں سب سے بڑا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختون خوا نے آئندہ مالی سال کے لیے 1 ہزار 118 ارب 30 کرور روپے کا بڑا بجٹ پیش کیا ہے، بجٹ میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بجٹ میں 24 فی صد، صحت کے شعبے میں 22 فی صد اضافے کی تجویز دی ہے، صوبے کے 30 کالجز کو پریمئیر کا درجہ دیا جائے گا، اور اگلے مالی سال کے دوران 40 کالجز مکمل ہو جائیں گے۔

صوبہ کے پی کا مجموعی بجٹ 1,118.3 ارب روپے ہے, بندوستی اضلاع کا بجٹ 919 ارب، قبائلی اضلاع کا بجٹ 199 ارب 3 کروڑ روپے ہیں,  جاری بجٹ 747.3 ارب روپے، بندوبستی اضلاع کا جاری بجٹ 648.3 ارب روپے، ضم شدہ اضلاع کا جاری بجٹ 99 ارب روپے

ترقیاتی بجٹ

صوبے کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 371 ارب روپے

بندوبستی اضلاع کا 270 ارب روپے بجٹ

ضم شدہ اضلاع کا بجٹ 100 ارب روپے تجویز

ترقی پلس بجٹ (سرمایہ کاری بشمول ترقیاتی بجٹ) کے لیے 500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

کے پی کا ترقیاتی بجٹ سندھ اور پنجاب سے زیادہ ہے

تنخواہوں میں اضافہ

خدمات کی فراہمی کے بجٹ میں 57 فی صد اضافہ، 424 ارب روپے مختص

خصوصی مراعات نہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 37 فی صد اضافہ

سرکاری ملازمین کے لیے 10 فی صد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دینے کی تجویز

سرکاری ملازمین کی ہاؤس رینٹ میں 7 فی صد اضافے کی تجویز

مزدورں کی کم از کم اجرت 21 ہزار روپے مقرر کی ہے

20 ہزار ائمہ کرام کو 2 ارب 60 کروڑ ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا

بیواؤں کی پنشن میں 100 فی صد اضافے کی تجویز

تعلیم

تعلیم کے لیے خطیر بجٹ 200 ارب سے زائد رکھے گئے ہیں

اعلیٰ تعلیم کے لیے 27.56 ارب رکھے گئے ہیں

ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بجٹ میں 24 فی صد، صحت کے شعبے میں 22 فی صد اضافے کی تجویز

صوبے کے 30 کالجز کو پریمئیر کا درجہ دیا جائے گا

ضم شدہ اضلاع میں 4 ہزار 300 اسکول کے لیے اساتذہ کی بھرتی کی جائے گی

صوبے میں اگلے مالی سال کے دوران 40 کالجز مکمل ہو جائیں گے

ضم اضلاع کے طالب علموں کو اسکالر شپس کی مد میں 23 کروڑ روپے دیے جائیں گے

20 ہزار اساتذہ اور 3 ہزار اسکول لیڈرز بھرتی کیے جائیں گے

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے 2.58 ارب تجویز کیے گئے

صحت

صحت کے شعبہ کے لیے 142 ارب روپے تجویز کیے گئے

بجٹ میں 22 فی صد اضافہ کیا گیا ہے

23 ارب روپے صحت سہولت کارڈ پر خرچ کیے جائیں گے

صوبے کے بڑے اسپتالوں کی بحالی کے لیے 14.9 ارب روپے مختص (دو سالوں کے لیے)

بیسک ہیلتھ یونٹس کے لیے 1.7 ارب روپے کی تجویز

رورل ہیلتھ کلینکس کے لیے 1 ارب روپے

ٹرشری ہیلتھ کیئر میں سرمایہ کاری کے لیے 42 ارب روپے مختص

سرکاری و نجی سرمایہ کاری شراکت سے صوبے میں 4 بڑے اسپتالوں کی تعمیر کے لیے 40 ارب روپے مختص

ٹیکس چھوٹ

صوبے کو وفاق کی ٹیکس محصولات سے 475 ارب روپے ملنے کی توقع ہے

دہشت گردی سے متاثر صوبہ ہونے کی مد میں 57 ارب 20 کروڑ ملنے کا امکان ہے

زرعی شعبے میں ٹیکس چھوٹ، چھوٹے کاشت کاروں کے لیے ریلیف اراضی ٹیکس صفر

تعمیراتی شعبے میں ریلیف

پیشہ ورانہ ٹیکس منسوخ، شرح صفر

گاڑیوں کی رجسٹریشن کی فیس صرف 1 روپے کر دی گئی، دوبارہ رجسٹریشن مفت

پراپرٹی ٹیکس دینے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کی تجویز

بجٹ تقریر کے اہم نکات

گندم پر سبسڈی کے لیے 10 ارب روپے مختص

غریب طبقے کو فوڈ باسکٹ کی فراہم کے لیے 10 ارب مختص

ضلعی ترقیاتی منصوبے کے لیے 10 ارب 40 کروڑ روپے کی تجویز

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سالانہ بجٹ میں 137 ارب روپے کا اضافہ

بلدیاتی انتخابات کے لیے 1 ارب روپے کی تجویز

ریسکیو 1122 میں توسیع کے لیے 2.8 ارب روپے کی تجویز

ثقافت و سیاحت کے لیے 12 ارب روپے مختص (2 ارب روپے سے بڑھا کر)

پاکستان کا پہلا موٹر اسپورٹس ارینا کی تعمیر

ارباب نیاز، حیات آباد، کالام کرکٹ اسٹیڈیمز

دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کی بحالی

ضلعی ہیڈکوارٹر میں عورتوں کے لیے ان ڈور جمنازیم

3 ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر کے لیے 48.2 ارب روپے مختص

زراعت کے شعبے کے لیے 13.2 ارب روپے

طور خم سفاری ٹرین کی از سرنو بحالی

خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے 1 ارب روپے مختص

اقلیتی برادریوں کے روزگار کے لیے 50 ملین روپے مختص

اقلیتوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے 450 ملین روپے مختص

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 5 بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے، ایک تو یہ کہ ہم اپنے سرکاری ملازمین کا خیال رکھنا چاہتے تھے کیونکہ 2 سال ان سے قربانیاں لیں اور تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا، اس سال تنخواہوں میں اضافہ کررہے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ وہ محنت جاری رکھیں گے۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ دوسرا ستون یہ ہے کہ ہم نے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ دیں گے اور صوبے کی ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا ستون سروس ڈیلیوری کا ہے، بجٹ میں روایتی ترقیاتی بجٹ کی بات تو کی جاتی ہے لیکن جو اثاثے بنائے جاتے ہیں ان پر توجہ مرکوز نہیں کی جاتی، اس لیے سروس ڈیلیوری پر خاص توجہ دی جائے گی اور جو ہسپتال، کالج، اسکول، سڑکیں بنائی گئی ہیں ان کا خیال رکھنے کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے اپنے محصولات میں اضافہ کرنا ہے، بجٹ کا چوتھا ستون یہی ہے کہ ریونیو بڑھا کر ہم نے مالی طور پر خودمختار بننے کا عزم کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ پچھلے 8 سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ریفارمز کو لیڈ کیا ہے اور ہم اس میں مزید بہتری کا عہد کرتے ہیں۔

بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 371 ارب روپے مختص

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کی تاریخ میں سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کے لیے 371 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ تقریر کرتے ہوئے تمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی بجٹ کے 100.3 ارب ضم اضلاع میں خرچ ہوں گے جبکہ 270.7 ارب روپے دیگر اضلاع کے لیے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کو ہی پورے سال کا ترقیاتی بجٹ ریلیز کیا جائے گا تاکہ ترقی کا عمل یکم جولائی سے شروع ہوجائے۔

یہ ڈیولپمنٹ پلس بجٹ ہے، صوبائی وزیر

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ بجٹ ریفارمز میں 2 نئے نظریات کو متعارف کروارہے ہیں تاکہ بجٹ میں مزید شفافیت آئے اور بجٹ کا عوام سے رشتہ اور بھی واضح ہو۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ اخراجات کے لیے 2 نظریے ڈیولپمنٹ پلس اور سروس ڈیلیوری متعارف کرا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بہت سے اخراجات جو عوام کی بہبود کے لیے ہوتے ہیں انہیں ڈیولپمنٹ پلس بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کارڈ پلس، اسکولوں میں فرنیچر فراہمی اور ادویات کے بجٹ میں اضافہ جیسے امور کو ڈیولپمنٹ پلس بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے 500 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مالی سال 22-2021 کا سروس ڈیلیوری بجٹ

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ تنخواہوں کے لیے زیادہ بجٹ رکھا جاتا ہے لیکن ان میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی تنخواہیں بھی شامل ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سروس ڈیلیوری بجٹ کے ذریعے عوام کو اہم خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنائیں گے، سروس ڈیلیوری بجٹ کی مد میں 424 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسز کی تنخواہیں، ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی، ریسکیو 1122 ایمبولینسز کو ایندھن کی فراہمی جیسے امور سروس ڈیلیوری بجٹ کا حصہ ہیں۔

تنخواہوں میں مجموعی طور پر 37 فیصد اضافہ

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 37 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف ملے گا جبکہ خصوصی الاؤنس نہ لینے والے ملازمین کے لیے فنکشنل یا سیکٹرول الاؤنس میں 20 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں سرکاری رہائش نہ رکھنے والے ملازمین کے ہاؤس رینٹ میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے کسی ملازم کی تنخواہ میں اضافہ نہ ہوا تو اس کے لیے شکایات ازالہ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

پنشن میں 10 فیصد اضافہ

تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ آئندہ مالی میں پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ پنشن اخراجات میں گزشتہ چند سالوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔

تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ پنشن اخراجات 04-2003 میں بجٹ کا صرف ایک فیصد تھے اور اب 13.8 فیصد ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پنشن اخراجات کو کم کرنے کے لیے نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ریٹائرمنٹ کی کم از کم عمر 55 سال اور سروس کی حد 25 سال کر رہے ہیں، اس اقدام سے سالانہ 12 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ پنشن رولز میں تبدیلی اور پنشن مستحقین کی تعداد کم کرنے سے سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہو گی، صوبے میں کنٹری بیوٹری پنشن کے لیے اصلاحات کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ فوت ہو جانے والے ملازمین کی پنشن ان کی بیواؤں، والدین یا پھر بچوں کو ملے گی اور آئندہ مالی سال کے لیے بیواؤں کی پنشن میں 75 کی بجائے 100 فیصد اضافہ کر رہے ہیں۔

کم سے کم ماہانہ اجرت 21 ہزار روپے

انہوں نے کہا کہ صوبے میں مزدوروں کی کم سے کم ماہانہ اجرت 21 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ غریب طبقے کے لیے 10 ارب روپے گندم پر سبسڈی دی جائے گی جبکہ غریب طبقے کے لیے 10 ارب روپے کا فوڈ باسکٹ پروگرام لا رہے ہیں۔

تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے لیے صنعتکاروں، نوجوانوں اور خواتین کو 10 ارب روپے کے قرضے بینک آف خیبر کے ذریعے دیے جائیں گے جبکہ 20 ہزار مساجد کے خطیبوں کے ماہانہ وظیفہ کے لیے 2.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس چھوٹ

مالی 22-2021 کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کو ریلیف دینے کے لیے لینڈ ٹیکس کی شرح صفر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے 7 لاکھ کسانوں کو ریلیف ملے گا۔

گاڑیوں کی رجسٹریشن کی شرح بڑھانے کے لیے فیس کم کرکے صرف ایک روپیہ کردی گئی ہے جبکہ دوبارہ رجسٹریشن مفت ہوگی۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پروفیشنل ٹیکس سے سب کو چھوٹ دی جارہی ہے، مزید 12 مختلف ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جا رہی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں 17 ٹیکسوں میں شرح میں کمی کو برقرار رکھا جائے گا۔

تعلیم و صحت کیلئے اقدامات

آئندہ مالی سال میں تعلیم کے لیے 200 ارب سے زائد روپے کا خطیر بجٹ رکھا گیا ہے، صوبے میں 2100 سے زائد اسکولوں کی تعمیر، بحالی اور اپ گریڈیشن کی جائے گی جس سے ایک لاکھ 20 ہزار بچوں کے داخلے کی گنجائش میں اضافہ ہوگا۔

آئندہ مالی سال میں صوبے میں 20 ہزار اسکول اساتذہ اور 3 ہزار اسکول لیڈرز کی بھرتی کی جائے گی، آئندہ سال ضم شدہ اضلاع 4300 اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں ایک ارب روپے کالجز کے آپریشن بجٹ کے لیے رکھے گئے ہیں، اعلیٰ تعلیم کے لیے 27.56 ارب رکھے گئے ہیں جبکہ 30 کالجز کو ماڈل اور 40 نئے کالج بنائیں گے۔

صحت

صحت کے شعبہ کے لیے 142 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ زراعت کے لیے ساڑھے 25 ارب سے زائد کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔

سی اینڈ ڈبلیو کے لیے 58.789 ارب روپے، انرجی اینڈ پاور کے لیے 17.25 ارب، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن 1.9 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

مالی سال 22-2021 کے لیے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 41.8 ارب تجویز کیے گئے ہیں، محکمہ داخلہ کے لیے 91.7 ارب، محکمہ صنعت کے لیے 5.01 ارب اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے لیے 1.78 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.