افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 200 مشتبہ عسکریت پسندوں کو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملے کرنے پر گرفتار کر لیا۔ امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف پکڑ دھکڑ کی تفصیلات گزشتہ ہفتے کابل میں پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کے مذاکرات میں بتائیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اپنی فورسز کو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں سے منع کر دیا ہے اور انہیں حرام اور غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ اخوند زادہ نے افغان عوام کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کےساتھ کوئی تعاون نہ کریں اور نہ ہی اسے عطیات دیں۔
جمعہ, اکتوبر 16, 2026
بریکنگ نیوز
- افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ
- بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار
- گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت
- پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال
- سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت
- انٹیلی جنس رپورٹ: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں
- سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
- امریکی سفارتخانے کی ناظم الاُمور نیٹلی اے بیکر کی جانب سے پشاور سانحہ پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار

