Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب
    • گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات
    • آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
    • بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار
    • فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا
    • برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
    • سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلینز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ
    فیچرڈ

    بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلینز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ

    فروری 18, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    International norms do not state that civilians cannot be court-martialed, says Supreme Court
    آپ نے کہا میرا موکل فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا تھا، 9 مئی والے دن وہ کرکٹ کھیلنے تو نہیں گیا تھا ناں؟ جسٹس حسن اظہر رضوی
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلینز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا ۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم  7 رکنی لارجر آئینی بنچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کی ۔

    9 مئی کے واقعہ میں ملوث مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نےعدالت کو بتایا  کہ سویلنز کا کورٹ مارشل شفاف ٹرائل کے بین الاقوامی تقاضوں کے بھی خلاف ہے، بین الاقوامی تقاضا ہے کہ ٹرائل کھلی عدالت میں، آزادانہ اور شفاف ہونا چاہیے، بین الاقوامی قوانین کے مطابق ٹرائل کے فیصلے پبلک ہونے چاہئیں، دنیا بھر کے ملٹری ٹریبونلز کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں عدالتوں میں جاتی ہیں، یورپی عدالت کے فیصلے نے کئی ممالک کو کورٹ مارشل کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو نتیجہ کیا ہو گا؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کا مطلب ہے کہ ٹرائل شفاف نہیں ہوا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کوئی ملک اگر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو کیا ہو گا؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ کچھ عدالتیں بین الاقوامی اصولوں کو ماننے کی پابندی ہوتی ہیں اور کچھ نہیں، شفاف ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں ہی آئین کا حصہ بنایا گیا ۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلینز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا ،سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ یوکے میں کورٹ مارشل فوجی نہیں بلکہ آزاد ججز کرتے ہیں، ایف بی علی کیس کے وقت آئین میں اختیارات کی تقسیم کا اصول نہیں تھا ۔

    سلمان اکرم راجہ نے دلیل دی کہ تمام ممالک بین الاقوامی اصولوں پر عملدرآمد کی رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کرتے ہیں، یو این کی انسانی حقوق کمیٹی رپورٹس کا جائزہ لے کر اپنی رائے دیتی ہے، گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر کے اجلاسوں میں پاکستان کے فوجی نظام انصاف کا جائزہ لیا گیا، یو این کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں سویلینز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی ۔

    سلمان راجہ نے کہا کہ یو کے میں ایک فیڈلی نامی فوجی کا کورٹ مارشل ہوا، یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اس کا ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دے دیا تھا، فیڈلی ذہنی تناؤ کا شکار تھا، اس نے فائرنگ کی ۔

    جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیڈلی کی فائرنگ سے بھی ایک ٹی وی ٹوٹ گیا تھا، 9 مئی واقعات میں بھی ایک ٹی وی توڑا گیا۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جس نے 9 مئی واقعات میں ٹی وی توڑا اس سے میری ملاقات ہوئی، وہ بیچارہ شرم سے ڈوبا ہوا تھا، ٹی وی توڑنے والا بیچارا 4 جماعتیں پاس بے روزگار تھا، ہمارے معاشرے نے ایسے لوگوں کو کیا دیا؟

    جسٹس امین الدین خان نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ انفرادی باتیں نہ کریں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فیڈلی سے ملاقات بھی کی؟جسٹس نعیم اختر افغان نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نہیں سلمان اکرم راجہ نے پاکستانی فیڈلی سے ملاقات کی ہے ۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ آپ نے کہا میرا موکل فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا تھا، 9 مئی والے دن وہ کرکٹ کھیلنے تو نہیں گیا تھا ناں؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ جس قانون کے تحت کلبھوشن کو اپیل کا حق دیا گیا وہ قانون کیا ہمارے سامنے ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ میں وہ قانون ریکارڈ پر لے آؤں گا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا وہ قانون محض کلبھوشن کے لیے لایا گیا؟

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسے جاسوس جنہیں عالمی عدالت انصاف سے اجازت ہو اسے اپیل کا حق ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ یہاں اور کتنے کلبھوشن ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ کلاسیفکیشن کی اجازت تو ایف بی علی میں بھی موجود ہے ۔

    بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بنچ نے  انٹر کورٹ اپیلوں پر مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگورنر ہاؤس پشاور میں فن و ثقافت، خواتین اور یوتھ کے فروغ کے لیے نمائش کا انعقاد
    Next Article گزشتہ 3 برسوں کے دوران ایف آئی اے کے 51 افسران انسانی سمگلرز کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث پائے گئے،وزارت داخلہ کا انکشاف
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف

    جون 4, 2026

    آئندہ وفاقی بجٹ مہنگائی کا نیا طوفان لائے گا، شوکت یوسف زئی

    جون 4, 2026

    افغانستان سے پاکستانی شہریوں اور اداروں پر حملے برداشت نہیں، دفتر خارجہ

    جون 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب

    جون 4, 2026

    گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات

    جون 4, 2026

    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

    جون 4, 2026

    بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.