ایران نے اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ جزوی طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے بعض حصوں میں سمندری سرنگوں کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث جہازوں کی محفوظ آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایرانی ادارے پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حساس علاقوں میں بارودی سرنگوں کا خدشہ ہے، لہٰذا بحری جہازوں کی حفاظت کیلئے متبادل راستے مقرر کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کیلئے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ تعاون ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے محدود پیمانے پر صرف بارہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور ان جہازوں سے ٹیکس بھی وصول کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ایران نے ایک مصالحت کار کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

