ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں دریائے سندھ کے کنارے آباد گاؤں جبئی اور مندوری اور دیگر ملحقہ دیہات میں سونے کی تلاش (گولڈ مائننگ) نے اس پرامن علاقے کے مکینوں کا سکون چھین لیا ہے۔ ایکسکویٹر اور شاول مشینوں کا مسلسل شور لوگوں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں ۔ مقامی آبادی اپنے پختہ گھر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہے، جبکہ غیر قانونی سونے کی کان کنی پر تنازعات کے باعث پچھلے چند مہینوں میں ایک درجن سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں۔ حالیہ مسلح تصادم میں پانچ افراد کا قتل اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
جس طرح جان اسٹین بیک کے شہرۂ آفاق ناول ‘دی پرل’ (The Pearl) میں ایک غریب ماہی گیر کینو (Kino) کو سمندر سے ملنے والا قیمتی موتی بظاہر اس کی غربت کے خاتمے کی نوید بن جاتا ہے، مگر یہی موتی آخرکار اس کے خاندان کی تباہی، لالچ اور قتل و غارت کا سبب بن جاتا ہے، اسی طرح دریائے سندھ میں سونے کی موجودگی جبئی اور مندوری کے لوگوں کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے۔ ناول میں تو کینو نے اپنا موتی واپس سمندر میں پھینک دیا تھا، مگر یہاں کے لوگ ایسا کرنے کی کوئی سبیل نہیں رکھتے۔
اس علاقے میں طاقتور گروہ مسلح جتھوں کی شکل میں سرگرم ہیں، جن میں ہر گروہ کے پاس 30 سے 50 تک مسلح افراد موجود ہیں۔ ان کا طریقۂ کار سیدھا اور بے رحم ہے: دریا کے کنارے پر زمین پر قبضہ کرو، چند مہینوں میں سونا نکالو، اور جب زمین کھوکھلی ہو جائے تو اسے واپس مالک کے حوالے کر دو۔ انسانی جان کی حرمت اس قدر پامال ہو چکی ہے کہ قتل ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کے آخر سے لے کر رواں سال اپریل کے آخری ہفتے تک سونے کے حصول کے تنازع پر متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ حالیہ تصادم میں پانچ افراد کی ہلاکت بھی اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جن میں ایک 17 سالہ نوجوان بھی شامل تھا جس کے میٹرک کے امتحانات مکمل ہو چکے تھے اور صرف پریکٹیکل امتحان باقی تھا، مگر اسے زندگی نے مہلت نہ دی۔
اس خونی کھیل کے برعکس مسلح گروہوں کے سرغنے اپنے ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر اس تباہی کو محض ایک کاروبار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مقامی عمائدین کے مطابق یہ غیر قانونی گولڈ مائننگ لوکل پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران کی ملی بھگت سے ہو رہی ہے۔ یہ منظر صرف جرائم کا نہیں بلکہ ایک ٹوٹتے ہوئے معاشرے اور ریاستی ناکامی کا آئینہ ہے۔ اس المیے کی سب سے دردناک جھلک اس وقت سامنے آتی ہے جب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ محض چند خاندانوں کی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک پورے باشعور طبقے کا انخلا ہے، اور جب اہلِ علم و دانش چلے جائیں تو پیچھے صرف بندوقیں اور خوف رہ جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف نوشہرہ تک محدود نہیں۔ یہی کہانی خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں دہرائی جا رہی ہے۔ جنگلات، معدنیات اور شاملات کی زمینیں ایسے “موتی” میں بدل چکی ہیں جس کے پیچھے بھاگتے ہوئے انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھا ہے۔ جو وسائل اجتماعی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے تھے، وہ آج پولیس اور دیگر اداروں کے افسران کی ملی بھگت اور ریاستی رٹ کے فقدان کے باعث، قتل و غارت اور عدم استحکام کی بنیاد بن چکے ہیں۔ یہ مسئلہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جہاں نوشہرہ میں بار بار خون بہہ رہا ہے، وہیں اوگی، سوات، کوہاٹ اور دیگر علاقوں میں بھی یہی تنازعات خاموشی سے پنپ رہے ہیں۔ سرکاری رپورٹس بھی تسلیم کرتی ہیں کہ غیر قانونی کان کنی نہ صرف ماحولیات بلکہ امن و امان کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
آج اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں کی رہائشی کالونیوں میں خیبر پختونخوا کے لوگوں کی بڑی تعداد صرف صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے باعث منتقل ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگ دل پر پتھر رکھ کر اپنی آبائی زمینیں فروخت کر کے ان علاقوں میں آباد ہو رہے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف سرمایہ صوبے سے باہر منتقل ہو رہا ہے بلکہ باشعور انسانی سرمایہ بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
اس سانحے کا سب سے تشویشناک پہلو حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت ہے۔ یہ بدامنی محض سرکاری نااہلی نہیں بلکہ ریاستی رٹ کے انہدام کا ثبوت ہے۔ جب قانون کتابوں تک محدود ہو جائے اور زمین پر جنگل کا قانون نافذ ہو جائے تو ایسے سانحات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ ہمارے انتظامی و قانونی ڈھانچے کی کمزوریاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ طاقت ہی قانون بن گئی ہے۔ روایتی جرگہ نظام، جو کبھی انصاف کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب اثر و رسوخ کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
اس بحران کا ایک اور خطرناک پہلو ماحولیات اور عوامی صحت ہے۔ غیر قانونی کان کنی زمین کو کھوکھلا، پانی کو آلودہ اور ہوا کو زہریلا بنا رہی ہے۔ یوں جو وسائل معیشت کو سہارا دے سکتے تھے، وہی آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
اب سوال وسائل کی ملکیت کا نہیں بلکہ ریاست کی عملداری کا ہے۔ ضرورت ایک مؤثر، غیر جانبدار اور فعال ریاستی رٹ کی ہے، جو صرف بیانات تک محدود نہ ہو بلکہ عملی طور پر نظر آئے۔ صوبے کے تمام اضلاع میں غیر قانونی مسلح گروہوں اور مافیاز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شاملات اور دیگر اراضی کا جدید سروے اور ڈیجیٹل اندراج بھی فوری ترجیح ہونا چاہیے تاکہ ملکیت کے تنازعات کم ہوں اور وسائل کا استعمال منصفانہ بنیادوں پر ممکن ہو سکے۔ جب ملکیت اور حدود واضح ہوں گی تو تنازعات کی جڑ خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔ اس سلسلے میں پنجاب کے زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے سبق لیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ضروری ہے کہ وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مقامی سطح پر شفاف طریقے سے تقسیم کیا جائے تاکہ یہ وسائل چند افراد کے بجائے پوری کمیونٹی کی فلاح کا ذریعہ بن سکیں۔
علاوہ ازیں، ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ زمین، سونا یا کوئی بھی مادی شے انسانی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔ اجتماعی مفاد، باہمی احترام اور قانون کی پاسداری ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ ناول کے کردار کینو کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اپنا موتی سمندر میں واپس پھینک دے، مگر ہمارے پاس وسائل سے منہ موڑنے کا اختیار نہیں۔ تاہم ،ہم یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ یہ وسائل ہماری اجتماعی ترقی کا ذریعہ بنیں گے یا ہماری تباہی کا۔
نوشہرہ کا یہ واقعہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن انتباہ ہے۔ اگر آج بھی قانون کی حقیقی حکمرانی قائم نہ کی گئی، لالچ کو نظم و ضبط کے زنجیر سے نہ باندھا گیا اور وسائل کو عوامی مفاد کے تابع نہ کیا گیا تو یہی قدرتی دولت ہمارے لیے تباہی کا ہتھیار بنتی رہے گی اور ہمیں ایک ایک کر کے نگلتی رہے گی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے: کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے یا اپنی ریاستی و معاشرتی سمت درست کر کے اس خونی چکر کو توڑیں گے؟

