Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایک دن، تین منظرنامے: پاکستان کی مسلسل جدوجہد
    • ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی
    • اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ: مسئلہ کہاں ہے؟
    • اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر
    • تحریکِ انصاف کی سیاست یا قومی سلامتی؟
    • اسلام آباد میں دھماکہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت ہو گئی، تعلق پشاور سے تھا
    • پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا
    • اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ، 31افراد شہید، 169 زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » حکمران جماعت کا جسٹس اعجازالاحسن اور مظاہرعلی اکبر نقوی سے متعلق راست اقدام کا فیصلہ
    اہم خبریں

    حکمران جماعت کا جسٹس اعجازالاحسن اور مظاہرعلی اکبر نقوی سے متعلق راست اقدام کا فیصلہ

    فروری 22, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی سے متعلق راست اقدام کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں قانونی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں قانونی ٹیم نے مؤقف اپنایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نواز شریف کے خلاف مقدمے میں نگران جج رہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف آڈیو لیک کا ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آچکا ہے، جسٹس مظاہر نقوی نے نواز شریف اور  شہباز شریف سے متعلق درجنوں مقدمات میں مخالفانہ فیصلے دیے۔

    قانونی ٹیم  نے بریفنگ میں بتایا کہ اس فہرست میں پاناما، پارٹی لیڈرشپ، پاک پتن الاٹمنٹ کیس، رمضان شوگرملز کے مقدمات شامل ہیں، دونوں ججز مسلم لیگ (ن) کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔

    قانونی ٹیم نے بتایا کہ متنازع جج متعلقہ مقدمے کی سماعت سے خود کو رضاکارانہ طور پرالگ کرلیتے ہیں، متاثرہ فریق کی درخواست پر بھی متنازع جج بینچ سے الگ کر دیے جانے کی روایت ہے۔ خیال رہے کہ ملک کی بار کونسلز نے گزشتہ دنوں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج کے خلاف آئندہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

     

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر حملہ، 2اہلکار شہید
    Next Article افغان حکام کی جانب سے احتجاجاً طورخم سرحدی گزرگاہ آج تیسرے روز بھی بند
    Web Desk

    Related Posts

    ایک دن، تین منظرنامے: پاکستان کی مسلسل جدوجہد

    فروری 7, 2026

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی

    فروری 7, 2026

    اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر

    فروری 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایک دن، تین منظرنامے: پاکستان کی مسلسل جدوجہد

    فروری 7, 2026

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی

    فروری 7, 2026

    اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ: مسئلہ کہاں ہے؟

    فروری 7, 2026

    اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر

    فروری 7, 2026

    تحریکِ انصاف کی سیاست یا قومی سلامتی؟

    فروری 6, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.