وزیرآباد(ویب ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں جس میں پولیس اور فارنزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نوید اور اس کے گھر والوں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول اور ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے حملے کے لیے نائن ایم ایم پستول استعمال کیا۔ ملزم سے پستول، 2 میگزین اور 20 گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کے 11 خول ملے ہیں۔ جن میں سے 9 خول نائن ایم ایم پستول اور2 دیگراسلحہ کے ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق خول ملنے کی ڈائریکشن بتاتی ہے کہ 9 خول نیچے سے اوپر اور 2 کنٹینر سے نیچے کی طرف فائر ہوئے۔ ملزم پستول کے ساتھ 2 میگزین لےکرتیاری سے آیا تھا۔ جب کہ ملزم نے پستول کے ساتھ 46 گولیاں بھی خریدیں۔
ابتدائی تفتیش میں کہا گیا ہے بظاہرلگتا ہے کہ ملزم کے گھر والے حملے سے متعلق ناواقف تھے۔ ملزم کے گھر والوں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔
ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا ہےکہ عمران خان پر حملہ کرنے والا ملزم نوید نشے کا عادی ہے۔ حملہ آور نے پہلے مسجد کی چھت استعمال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن نماز عصر کی وجہ سے پولیس نے ملزم کو چھت پر نہ جانے دیا۔ ملزم نوید بائی پاس روڈ کے ذریعے جائے وقوعہ تک پہنچا۔ ملزم مارچ کے شرکا کو نماز پڑھنے اورکنٹینر پر لگے پارٹی ترانے بند کرانے کا کہتارہا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے کنٹینر سے 15سے 20 قدم کےفاصلے پرپورا برسٹ فائر کیا۔ 8 گولیاں چلنے کے بعد ایک گولی پستول میں پھنس گئی۔
بدھ, مارچ 25, 2026
بریکنگ نیوز
- امریکی تجاویز مسترد، ایران نے جنگ بندی کیلئے اپنی 5 شرائط پیش کردیں
- ایشیا کپ 2022 میں نسیم شاہ کے چھکوں کے بعد افغان شہریوں نے خودکشی کی تھی، رحمان اللہ گرباز کا انکشاف
- حج 2026 کے لئے پروازوں کا شیڈول جاری کردیا گیا
- پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کیلیے براہ راست فلائٹ آپریشن؛ پہلی پرواز 29 مارچ کو اسلام آباد سے روانہ ہو گی
- پشاور: تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں فائرنگ، دو نوجوان قتل، پڑوسی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق
- وزیراعظم سے بلاول بھٹو کی ملاقات، عالمی امن کیلیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں پر تبادلہ خیال
- وزیراعظم شہبازشریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، خطے میں امن کیلیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا
- خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

