سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ ہرحکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے ،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کی گورننس، ڈی ویلپمنٹ ،سیکیورٹی پر توجہ مرکوز رکھیں ،وزیراعلیٰ کا دوسرے صوبوں کا دورہ کرنا اچھی روایت ہے لیکن یہ دورے قومی اتفاق رائے کیلئے ہوں نہ کہ انتشار اور یلغار پیدا کرنے کیلئے ، امیر حیدر خان ہوتی کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے پی ٹی آئی حکومت وہ اقدامات نہیں اٹھا رہی اس لئے یہ تاثر اب زبان زدعام ہے کہ پی ٹی آئی دہشتگردوں سے تعاون کر رہی ہے ۔
مردان: تحصیل کاٹلنگ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت دہشتگردی میں دہشتگردوں کا ساتھ دے رہی ہے لیکن دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے پی ٹی آئی حکومت وہ اقدامات نہیں اٹھا رہی ۔
امیر حید خان ہوتی نے کہا کہ جو بنیادی فیصلے کرنے چاہئیں اور جو ذمہ داری اٹھانی چاہیے ، پی ٹی آئی کی حکومت وہ بنیادی فیصلے نہیں کرتی ، نہ پی ٹی آئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہے، جس کے نتیجے میں آج یہ تاثر عام ہو چکا کہ پی ٹی آئی اور اس کی حکومت دہشتگردوں کا ساتھ دے رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملکی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں پی ٹی آئی اس میں بھرپور ساتھ دے اور اپنا حصہ ڈالے تاکہ مشترکہ طور پر دہشتگردی کا خاتمہ کیا جا سکے ۔
ایک سوال پر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اعتراف کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، اگر ہم نے یہ قربانیاں دی ہیں تو یہ قربانیاں ہم نے ایک شخص یا ایک ادارے کی خوشی کیلئے نہیں دی ہیں ،یہ ہمارا فرض تھا ، اس وطن کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔
امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں اور جدوجہد کرنا ہمیں اپنی سوچ اور نظریے سے ملا ہے یعنی وراثت میں ملا ہے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمیں وراثت میں ملا ہے ،ہم نے کل بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ،آج بھی اٹھاتے ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے ۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیراعلیٰ کا دوسرے صوبے کا دورہ اچھی بات ہے لیکن یہ تعلقات کی بہتری ، قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے ،کیلئے اچھا ہے ،اگر دوسرے صوبے کے دورے کا مقصد یلغاراور انتشار ہو تو یہ پختونخوا کیلئے نقصان دہ بات ہے ۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی بنیادی ذمہ داری اپنے صوبے کی نمائندگی کرنا اور اپنے صوبے کی خدمت کرنا ہے ،ضروری ہے کہ سہیل آفریدی صوبے کی گورننس، ڈی ویلپمنٹ ،سیکیورٹی پر توجہ مرکوز رکھیں یہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی بنیادی ذمے داریاں ہیں ۔

