وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بیک وقت کئی محاذ کھول رکھے ہیں ،صوبے کے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ایک طرف وہ صوبے میں دہشتگردوں کے حملوں کے باوجود ان کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کر رہے ہیں، دوسری جانب وہ قبائلی عمائدین کے ساتھ جرگوں کا انعقاد کر رہے ہیں ، وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے سٹریٹ موومنٹ کے نام سے تحریک بھی شروع کر رکھی ہے، جس کیلئے انہوں نے پہلے پنجاب کا دورہ کیا اور وہاں کی صوبائی حکومت سے تعلق استوار کرنے کے بجائے تعلق مزید خراب کر بیٹھے ، اس کیلئے انہوں نے سندھ کا بھی دورہ کیا ۔ جہاں صوبائی حکومت نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرکےا ن کا شاندار استقبال کیا لیکن یہ سندھ میں بھی وہ سب کچھ کر بیٹھے جس کیلئے یہ جانے جاتے ہیں ۔
پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنوں کی نظر میں دونوں دورے کامیاب رہے لیکن حقیقت یہ نہیں جو پی ٹی آئی رہنما اور کارکن بتا رہے ہیں یا سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کام خیبر پختونخوا حکومت کو کرنا چاہیے وہ کرتی نہیں ،اسی لئے تو صوبے میں نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں اور ان کو صرف اپنے بانی کی رہائی کی فکر کھائی جا رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بانی کی جیل سے رہائی کے بعد بدقسمت صوبے کے مسائل حل ہو سکیں گے ؟
پہلے بات کرینگے دہشتگردوں کے خاتمے پر، اس وقت خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات ملک بھر میں سب سے زیادہ ہو رہے ہیں ، دوسرے نمبر پر بلوچستان ہے ، بلوچستان میں تو صوبائی اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں لیکن صوبہ خیبر پختونخوا میں ایسا بالکل نہیں ، چونکہ ان دونوں صوبوں کے بارڈرز افغانستان سے ملے ہوئے ہیں ،اس لئے دہشتگردی کے واقعات بھی یہاں زیادہ ہیں ، افغانستان سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں سرحدوں کے ذریعے ان دونوں صوبوں میں آتے ہیں اور کارروائیاں کرتے ہیں ، جب ان دہشتگردوں کو روکا نہیں جائے گا تو دہشتگردی کیسے ختم ہوگی ؟ خیبر پختونخوا حکومت کو یہ منظور نہیں ، دوسری بات یہ کہ جو دہشتگرد اس وقت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں ان کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت تو کارروائی کرنے سے رہی ، تو پھر کیسے ان دہشت گردوں کا خاتمہ ہوگا ؟ اس کا جواب صوبائی حکومت کے پاس بالکل نہیں ، تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپریشنز کے بعد متاثرہ علاقے کے لوگوں کو تکلیف ہوگی لیکن صوبائی حکومت تو اس حد تک نااہل ٹھہری ہے کہ اس وقت متاثرین کیلئے بھی کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھا یا جا رہا ۔
ان حالات میں بھی وزیراعلیٰ صاحب اپنے بانی کی رہائی کیلئے سٹریٹ موومنٹ کی کامیابی پر اپنی اور صوبے کے وسائل کی ساری توانائی خرچ کررہے ہیں لیکن صوبے کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہے، اس وقت سخت سردی کا موسم ہے ، صوبے میں بجلی نہیں ہوتی ، وزیراعلیٰ صاحب کو فکر نہیں، صوبے میں ا ٓٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 3000 روپے سے تجاوز کر گئی ہے ، وزیراعلیٰ خاموش ہیں، بے روزگاری بڑھ چکی ہے اور اور پڑھے لکھے لوگ بیرون ملک جارہے ہیں، صوبائی حکومت کچھ نہیں کر رہی ، صوبے میں تعلیمی ادارے، تھانے، ہسپتال برباد پڑے ہیں ، مجال ہے کوئی ا س طرف بھی توجہ دے ۔
توجہ دی جائے گی بھی تو آخر کیسے ؟ کیونکہ ان کی ساری توجہ بانی کی رہائی پر ہے اور اس کیلئے وہ سڑکوں پر مہم چلا رہے ہیں ، ایسا نہیں کہ ان کو صوبے کے مسائل کا ادراک نہیں لیکن ان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بانی کی رہائی ہے ، پہلے تو بانی پی ٹی آئی ایک مجرم ہیں جن کو متعدد کیسز میں کئی سالوں کی سزا ہوئی ہے ، وہ تو صرف پی ٹی آئی کی نظر میں غیر قانونی قید ہیں ، قانون کے مطابق تو وہ ایک مجرم قرار دیئے گئے ہیں ، تب ہی تو ان کو سزائیں ہوئی ہیں ۔
رہی بات قبائلی علاقوں کے جرگوں کی، تو ان کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی جرگوں کا انعقاد ہوا لیکن کیا کسی کو ان جرگوں سے کوئی فائدہ ہوا، یقیناَ َ نہیں ہوا ہوگا ، اگر فائدہ ہوتا تو جرگوں کا سلسلہ یوں جاری ہرگز نہ رہتا ۔کیا جرگوں سے زیادہ ضروری قبائلی علاقوں پر توجہ دینا نہیں ؟ آپ جرگوں پر جرگیں کریں لیکن عملی کام نہ ہو رہا ہو تو جرگوں کا کیا فائدہ ۔ بلاشبہ جرگوں کے ذریعے مسائل حل ہوتے ہیں لیکن یہاں مسائل بڑھ رہے ہیں اور جرگوں پر جرگوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
اگر خیبر پختونخوا حکومت مذکورہ تمام محاذ چھوڑ کر صوبے کے عوام پر آج ہی توجہ دیں، وفاق سے معاملات ٹھیک کرے، دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشنز میں وفاقی حکومت کا ساتھ دے ، اس حوالے سے صوبوں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے بالخصوص آٹے کے بحران اور بجلی و گیس کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ، تو یقین کیجئے نہ صرف صوبے کے لوگوں کے مسائل حل ہونگے بلکہ یہ پی ٹی آئی خود بھی 2029 میں لوگوں کو اپنی کارکردگی سے قائل کر سکے گی بصورت دیگر آئندہ انتخابات میں صوبے کے لوگ ان کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھیں گے ۔

